شاعری

بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے

بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے نقد دل موجود ہے پھر کیوں نہ سودا لیجئے دل تو پہلے لے چکے اب جان کے خواہاں ہیں آپ اس میں بھی مجھ کو نہیں انکار اچھا لیجئے پاؤں پکڑ کر کہتی ہے زنجیر زنداں میں رہو وحشت دل کا ہے ایما راہ صحرا لیجئے غیر کو تو کر کے ضد کرتے ہیں کھانے میں شریک مجھ سے کہتے ...

مزید پڑھیے

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا اٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا وہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہوا پھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا قیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگے اگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا آرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہت نام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ...

مزید پڑھیے

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے منزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے کیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثبات ہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے دل نے دیکھا ہے بساط قوت ادراک کو کیا بڑھے اس بزم میں آنکھیں اٹھانے کے لیے خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب بدلیاں اٹھیں مگر ...

مزید پڑھیے

جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے

جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے گھنگھروؤں کی جانب در کچھ صدا آئی تو ہے عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے آپ کے سر کی قسم میرے سوا کوئی نہیں بے تکلف آئیے کمرے میں تنہائی تو ہے جب کہا میں نے تڑپتا ہے بہت اب دل مرا ہنس کے فرمایا تڑپتا ہوگا ...

مزید پڑھیے

تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے

تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے بلا کے پیچ میں آیا ہوا ہے نہ کیوں کر بوئے خوں نامے سے آئے اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے چلے دنیا سے جس کی یاد میں ہم غضب ہے وہ ہمیں بھولا ہوا ہے کہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا وہ تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے جفا ہو یا وفا ہم سب میں خوش ہیں کریں کیا اب تو دل ...

مزید پڑھیے

ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے

ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے منہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گے کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں نہ کریں گے ہے ذہن میں اک بات تمہارے متعلق خلوت میں جو پوچھو گے تو پنہاں نہ کریں گے واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر افسوس یہ کافر کو ...

مزید پڑھیے

دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے

دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے اب کار عاشقی تو بہر کیف کر پڑے عشق بتاں کا دین پہ جو کچھ اثر پڑے اب تو نباہنا ہے جب اک کام کر پڑے مذہب چھڑایا عشوۂ دنیا نے شیخ سے دیکھی جو ریل اونٹ سے آخر اتر پڑے بیتابیاں نصیب نہ تھیں ورنہ ہم نشیں یہ کیا ضرور تھا کہ انہیں پر نظر پڑے بہتر یہی ہے ...

مزید پڑھیے

کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے

کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے چلی ہے کیسی ہوا الٰہی کہ ہر طبیعت میں برہمی ہے مری وفا میں ہے کیا تزلزل مری اطاعت میں کیا کمی ہے یہ کیوں نگاہیں پھری ہیں مجھ سے مزاج میں کیوں یہ برہمی ہے وہی ہے فضل خدا سے اب تک ترقی کار حسن و الفت نہ وہ ہیں مشق ستم میں قاصر نہ خون دل ...

مزید پڑھیے

زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق وفا (ردیف .. ھ)

زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق وفا یعنی یہ پردہ تو اٹھ سکتا ہے آسانی کے ساتھ گفتگوئے صورت و معنی ہے عنوان حیات کھیلتے ہیں وہ مری فطرت کی حیرانی کے ساتھ تم نے ہر ذرے میں برپا کر دیا طوفان شوق اک تبسم اس قدر جلووں کی طغیانی کے ساتھ دل کی آبادی ہے اخترؔ دل کی بربادی کا نام اک تعلق ...

مزید پڑھیے

خواب آسودگی سنہرا ہے

خواب آسودگی سنہرا ہے زندگی پر تو سخت پہرا ہے دھوپ نفرت کی بڑھ گئی لوگو اب محبت پہ چھایا گہرا ہے حق پرستوں کا نام آ تنگی سارے عالم میں جن کا شہرہ ہے ہو دکھاوا یا ہو عمل اچھا فیصلہ نیتوں پہ ٹھہرا ہے دور کتنے بھی تم رہو اخترؔ رشتہ دل سے تو دل کا گہرا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5389 سے 5858