بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے
بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے نقد دل موجود ہے پھر کیوں نہ سودا لیجئے دل تو پہلے لے چکے اب جان کے خواہاں ہیں آپ اس میں بھی مجھ کو نہیں انکار اچھا لیجئے پاؤں پکڑ کر کہتی ہے زنجیر زنداں میں رہو وحشت دل کا ہے ایما راہ صحرا لیجئے غیر کو تو کر کے ضد کرتے ہیں کھانے میں شریک مجھ سے کہتے ...