بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا
بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا فریب عشق نے ہر حسن ظن کا ساتھ دیا مرے سکوت نے کب انجمن کا ساتھ دیا تمہاری چشم سخن در سخن کا ساتھ دیا تمہارے گیسوئے پر خم پہ مرنے والوں نے جب آیا وقت تو دار و رسن کا ساتھ دیا بہار آئی تو محروم رنگ و بو ہیں وہی جنوں نے دور خزاں میں چمن کا ساتھ ...