شاعری

بعد مرنے کے بھی دنیا میں ہو چرچا میرا

بعد مرنے کے بھی دنیا میں ہو چرچا میرا ایسی شہرت کی بلندی ہو ٹھکانہ میرا میں ہوں اک پریم پجاری اے مری جان حیات تو ہے مندر تو کلیسا تو ہی کعبہ میرا میرے بیٹے کی نگاہوں میں ہیں کچھ خواب مرے زندگی اس کی ہے جینے کا سہارا میرا موت بھی چین سے آتی ہے کہاں انساں کو ذہن میں گونجتا ہی رہتا ...

مزید پڑھیے

میں اپنے کام اگر وقت پر نہیں کرتا

میں اپنے کام اگر وقت پر نہیں کرتا تو کامیابی کا پربت بھی سر نہیں کرتا حسین خواب اگر دل میں گھر نہیں کرتا طویل رات سے میں در گزر نہیں کرتا سکھا دیا ہے مجھے غم نے زندگی کا ہنر کسی بھی حال میں اب آنکھ تر نہیں کرتا گرے زمین پہ دستار سر کے جھکنے سے میں حکمراں کو سلام اس قدر نہیں ...

مزید پڑھیے

سب کے چہروں پہ جب خوشی ہوگی

سب کے چہروں پہ جب خوشی ہوگی کیا دنیشؔ ایسی صبح بھی ہوگی لوگ نکلے ہیں جو یہ شمع لیے نربھیا پھر کوئی لٹی ہوگی سرد موسم میں بے گھروں کی دشا بے بسی خود بھی رو رہی ہوگی کیا کبھی انقلاب آئے گا ان اندھیروں میں روشنی ہوگی سب کے ہونٹوں پہ یہ سوال ہے اب کب سیاست کو ہتھکڑی ہوگی ابر برسے ...

مزید پڑھیے

کتاب زیست سے کچھ اقتباس تصویریں

کتاب زیست سے کچھ اقتباس تصویریں خوشی کے لمحوں میں دیتیں مٹھاس تصویریں اکیلے پن بھی ہمارا یہ دور کرتی ہے کہ رکھ کے دیکھو ذرا اپنے پاس تصویریں کچھ ایسے رنگ بھرو جو سمے سے اترے نہیں یہ مو قلم سے کریں التماس تصویریں خدا کے پاس گئے جب سے والدین مرے مری حیات کی ہے بس اساس ...

مزید پڑھیے

وہ قلندروں میں شمار ہے

وہ قلندروں میں شمار ہے غم زیست سے اسے پیار ہے مرے باغ دل کے نصیب میں فقط انتظار بہار ہے غم عاشقی سے جو پوچھئے یہ جہاں بھی اجڑا دیار ہے جسے تاج کہتا ہے یہ جہاں وہ حقیقتاً تو مزار ہے یہ عجب نہیں کہ جنون عشق سر دار تھا سر دار ہے میں جو حق حلال کی رہ پہ ہوں مجھے خواب میں بھی قرار ...

مزید پڑھیے

غم جدائی کا نہ شاید مجھے اتنا ہوتا

غم جدائی کا نہ شاید مجھے اتنا ہوتا تم نے اے کاش جو مجھ کو کبھی سمجھا ہوتا ابن آدم نہ کبھی اس طرح تشنہ ہوتا ریت پہ اس کو جو پانی کا نہ دھوکا ہوتا عین ممکن ہے کہ ضد چھوڑ کے وہ رک جاتا جانے والے نے جو مڑ کر مجھے دیکھا ہوتا کیا عجب ہے کہ وہ گندم کو نہ چھوتا ہرگز مرد اول نہ اگر بخت کا ...

مزید پڑھیے

ذکر ماضی سے شب و روز ستاتے ہیں مجھے

ذکر ماضی سے شب و روز ستاتے ہیں مجھے میرے احباب ہی دیوانہ بناتے ہیں مجھے میں تو اک جملۂ با معنی و با مطلب ہوں اور وہ حرف غلط کہہ کے مٹاتے ہیں مجھے ایک بے ربط تعلق کا سہارا لے کر لوگ کیا عشق کے انداز سکھاتے ہیں مجھے جو تھے اپنے ہی خد و خال سے غافل کل تک آج وہ لوگ بھی آئینہ دکھاتے ...

مزید پڑھیے

میری بربادی کا عالم دیکھ لو

میری بربادی کا عالم دیکھ لو کر رہا ہوں اپنا ماتم دیکھ لو صبح سے پہلے چراغ زیست کی لو ہوئی جاتی ہے مدھم دیکھ لو حادثات زندگی کے فیض سے ہو گئے ہیں کیا سے کیا ہم دیکھ لو جان لو گے میرے دل کی کیفیت آئنے میں زلف برہم دیکھ لو سوچ لینا محو گریہ ہے نریشؔ جب کسی کی چشم پر نم دیکھ لو

مزید پڑھیے

رفیق سے ہی لگے ہیں نہ اب عدو سے ہم

رفیق سے ہی لگے ہیں نہ اب عدو سے ہم نکل گئے ہیں بہت دور رنگ و بو سے ہم تری تلاش میں گم کر دیں اپنی ہستی کو یہ آرزو ہے گزر جائیں آرزو سے ہم سوائے اپنے کسے دیں گناہ کا الزام کفن بہ دوش کھڑے ہیں لہو لہو سے ہم زبان شیریں دلوں میں فساد و فتنہ و شر کہ باز آئے محبت کی گفتگو سے ہم نئی بلا ...

مزید پڑھیے

دل سی نایاب چیز کھو بیٹھے

دل سی نایاب چیز کھو بیٹھے کیسی دولت سے ہاتھ دھو بیٹھے عہد ماضی کا ذکر کیا ہمدم عہد ماضی کو کب کے رو بیٹھے ہم کو اب غم نہیں جدائی کا اشک غم جام میں سمو بیٹھے وعظ کرنے کو آئے تھے واعظ مے سے دامن مگر بھگو بیٹھے کیا سبب ہے نریشؔ جی آخر کیوں جدا آج سب سے ہو بیٹھے

مزید پڑھیے
صفحہ 4407 سے 5858