شاعری

ان کتابوں میں بند اجالے ہیں

آدمی کا وقار علم سے ہے زندگی کی بہار علم سے ہے علم سے بہرہ ور جو ہوتے ہیں نیکیاں وہ زمیں میں بوتے ہیں علم ہے روشنی چراغ ہے علم دل کی دھڑکن ہے اور دماغ ہے علم ہیں جو علم کتاب سے محروم ان کو دنیا میں کچھ نہیں معلوم ان کا جینا بھی ہے کوئی جینا آنکھ تو ہے مگر ہیں نا بینا جہل ظلمت ہے ...

مزید پڑھیے

نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگ

نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگ جھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگ نہ گل کدوں کو میسر نہ چاند تاروں کو ترے وصال کی خوشبو ترے جمال کا رنگ ذرا سی دیر کو چہرے دمک تو جاتے ہیں خوشی کا رنگ ہو یا ہو غم و ملال کا رنگ زمانہ اپنی کہانی سنا رہا تھا ہمیں ابھر گیا مگر آغاز میں مآل کا ...

مزید پڑھیے

ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہے

ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہے ناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہے یوں تو گلشن میں ہیں سب مدعیٔ یک رنگی باوجود اس کے ہر اک رنگ جدا لگتا ہے کبھی دشمن تو کبھی دوست کبھی کچھ بھی نہیں مجھے خود بھی نہیں معلوم وہ کیا لگتا ہے اس کی باتوں میں ہیں انداز غلط سمتوں کے ہو نہ ہو یہ تو کوئی ...

مزید پڑھیے

دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہے

دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہے اک مہر خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہے کچھ اور زیادہ اثر تشنہ لبی ہے جب سے تری آنکھوں سے چھلکتی ہوئی پی ہے اس جبر کا اے اہل جہاں نام کوئی ہے کلفت میں بھی آرام ہے غم میں بھی خوشی ہے ارباب چمن اپنی بہاروں سے یہ پوچھیں دامان گل و غنچہ میں کیوں آگ لگی ہے اے ...

مزید پڑھیے

وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوا

وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوا اور سب کچھ ہے گلستاں میں بہاروں کے سوا اب نہ بے باک نگاہی ہے نہ گستاخ لبی چند سہمے ہوئے مبہم سے اشاروں کے سوا ساقیا کوئی نہیں مجرم مے خانہ یہاں تیرے کم ظرف و نظر بادہ گساروں کے سوا حسرتیں ان میں ابھی دفن ہیں انسانوں کی نام کیا دیجیے سینوں کو ...

مزید پڑھیے

تمام شہر کو حیران کرنے والا ہوں

تمام شہر کو حیران کرنے والا ہوں میں اپنی موت کا اعلان کرنے والا ہوں میں جانتا ہوں کہ ہے فائدہ انہیں مجھ سے وہ سوچتے ہیں کہ نقصان کرنے والا ہوں ارادہ کر لیا اب تجھ کو بھول جانے کا میں خود کو بے سر و سامان کرنے والا ہوں سجا رہا ہوں وفاؤں سے دامن قرطاس اور اس کے پیار کو عنوان کرنے ...

مزید پڑھیے

توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شاید

توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شاید اک شمع جو روشن تھی بجھا دی گئی شاید پھر در بدری ہونے لگی اس کا مقدر پھر شوق کے شعلوں کو ہوا دی گئی شاید موہوم نظر آتا ہے اب جوش ملاقات کچھ گرمیٔ احساس گھٹا دی گئی شاید اس بار بھی شعلوں نے مچا ڈالی تباہی اس بار بھی شعلوں کو ہوا دی گئی ...

مزید پڑھیے

منتشر ہر شے قرینے سے سجا دی جائے گی

منتشر ہر شے قرینے سے سجا دی جائے گی یا مرے کمرے کی شخصیت مٹا دی جائے گی ساتھ رکھئے کام آئے گا بہت نام خدا خوف گر جاگا تو پھر کس کو صدا دی جائے گی آگ بھڑکے گی ہوا پا کر بڑا سچ یہ نہیں سچ بڑا یہ ہے کہ شعلوں کو ہوا دی جائے گی بے ٹھکانہ یوں کیا جائے گا اک جلتا چراغ طاقچے میں موم کی ...

مزید پڑھیے

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون راس آتا کس کو محشر سچ کو سچ کہتا تو کون سب نے پڑھ رکھا تھا سچ کی جیت ہوتی ہے مگر تھا بھروسہ کس کو سچ پر سچ کو سچ کہتا تو کون مان رکھتا کون وش کا کون اپناتا صلیب کوئی عیسیٰ تھا نہ شنکر سچ کو سچ کہتا تو کون تھا کسی کا بھی نہ مقصد سچ کو ...

مزید پڑھیے

حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیا

حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیا ہر کسی کے دھڑ پہ اک فرعون کا سر جم گیا خاک کی کشتی تلے سونے کا ساغر جم گیا دیدۂ بے خواب میں خواب سکندر جم گیا موسموں کے بیچ کی دوری کا اندازہ لگاؤ بہہ گئے پربت پگھل کر اور سمندر جم گیا لڑکھڑا کر گر پڑی اونچی عمارت دفعتاً دفعتاً تعمیر کی کرسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4391 سے 5858