شاعری

میری موت کے مسیحا!

میری موت کے مسیحا! تین بر اعظموں پہ تم نے میرا پیچھا کیا ہے موسم بدلتے رہے تقدیر کی طرح میں شہر شہر پھرا دھوپ کی طرح میں نے خاموشیاں لفظوں کے سپرد کیں زبان کے لفظ بدلے مگر تم اک تاریک سرنگ کی طرح سایہ سایہ میرے شعور میں اترتے چلے گئے ہو میرے ذہن میرے جسم میرے قلب کے معکوس ...

مزید پڑھیے

فاصلوں کی بات

تم نے فاصلوں کی بات سمجھ لی تو تمہیں یاد آئے گا کہ فنا ہم سب کی تقدیر ہے تمہیں معلوم ہے؟ تمہارے گھر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں نے ہزار بار چپ چاپ زینے کی سفید دیواروں پہ انگلیاں پھیری ہیں اس امید میں کہ شاید لمس کے ایسے ذائقے وہاں رہ جائیں جو تم ہمیشہ بدن کے گنجلک اور بے لفظ ذائقوں ...

مزید پڑھیے

غم بھی اتنا نہیں کہ تم سے کہیں

غم بھی اتنا نہیں کہ تم سے کہیں اور چارہ نہیں کہ تم سے کہیں آج ہم بے کراں سمندر ہیں تم وہ دریا نہیں کہ تم سے کہیں یوں تو مرنے سے چین ملتا ہے یہ ارادہ نہیں کہ تم سے کہیں نیلی آنکھوں کی چاندنی کے لیے اب اندھیرا نہیں کہ تم سے کہیں تم اکیلے نہیں رہے تو کیا ہم بھی تنہا نہیں کہ تم سے ...

مزید پڑھیے

اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میں

اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میں میں جو رویا تو کوئی ہنستا رہا تھا مجھ میں میری آنکھوں سے خبر جان نہ لی ہو اس نے کوئی بادل تھا بہت ٹوٹ کے برسا مجھ میں جھانکنے سے مری آنکھوں میں سبھی ڈرنے لگے جب سے اترا ہے کوئی آئینہ خانہ مجھ میں کیا ہوا تھا مجھے کیوں سوچتا تھا اس کے ...

مزید پڑھیے

ہنسنے میں رونے کی عادت کبھی ایسی تو نہ تھی

ہنسنے میں رونے کی عادت کبھی ایسی تو نہ تھی تیری شوخی غم فرقت کبھی ایسی تو نہ تھی اشک آ جائیں تو پلکوں پہ بٹھاؤں گا انہیں قطرۂ خوں تری عزت کبھی ایسی تو نہ تھی کشت غم اور بھی لہرانے لگی ہنسنے لگی چشم نم تیری شرارت کبھی ایسی تو نہ تھی کتنے غم بھول گیا شکریہ تیرا غم یار یوں مجھے ...

مزید پڑھیے

گلے لگ کر مرے وہ جانے ہنستا تھا کہ روتا تھا

گلے لگ کر مرے وہ جانے ہنستا تھا کہ روتا تھا نہ کھل کر دھوپ پھیلی تھی نہ بادل کھل کے برسا تھا کبھی دل بھی نہیں اک زخم آنکھوں کی جگہ آنسو کبھی میں بھی نہ تھا بس ڈائری میں شعر لکھا تھا وہ ہر پل ساتھ ہے میرے کہاں تک اس کو میں دیکھوں گئے وہ دن کہ اس کے نام پر بھی دل دھڑکتا تھا یہاں ہر ...

مزید پڑھیے

کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کرو

کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کرو تم اکیلے ہو دل تنہا سے ہی باتیں کرو پھر یوں ہی مل بیٹھیں ہم اور دکھ بھری باتیں کریں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگو مناجاتیں کرو سب پرندے اپنے اپنے جنگلوں میں کھو گئے اب تو ہلتی ڈالیوں سے بیٹھ کر باتیں کرو اتفاقاً ہم تمہارے سائے سے گزریں ...

مزید پڑھیے

ایسے ہی دن تھے کچھ ایسی شام تھی

ایسے ہی دن تھے کچھ ایسی شام تھی وہ مگر کچھ اور ہنستی شام تھی بہہ رہا تھا سرخ سورج کا جہاز مانجھیوں کے گیت گاتی شام تھی صبح سے تھیں ٹھنڈی ٹھنڈی بارشیں پھر بھی وہ کیسی سلگتی شام تھی گرم الاؤ میں سلگتی سردیاں دھیمے دھیمے ہیر گاتی شام تھی گھیر لیتے تھے طلائی دائرے پانیوں میں ...

مزید پڑھیے

تری ڈگر کو میں اپنی نظر میں رکھتی ہوں

تری ڈگر کو میں اپنی نظر میں رکھتی ہوں ہزار پھول تری راہ گزر میں رکھتی ہوں میں تیری یاد کو آنچل میں باندھ لائی ہوں ترے خیال کو زاد سفر میں رکھتی ہوں تو ایک پل بھی جدا مجھ سے ہو نہیں سکتا میں تیری یاد کو شام و سحر میں رکھتی ہوں مری وفاؤں کی گرمی سے تو بھی پگھلے گا اک ایسا شعلہ میں ...

مزید پڑھیے

مرا قصہ بھی آئے گا وفا کی داستانوں میں

مرا قصہ بھی آئے گا وفا کی داستانوں میں مجھے مت ڈھونڈتے رہنا جفا کی داستانوں میں میں بنت حوا اک دن میں بدل دوں گی زمانے کو مجھے مت قید کر ناز و ادا کی داستانوں میں نظر انداز مجھ کو کر نہیں سکتی کبھی دنیا مجھے لکھا گیا ذہن رسا کی داستانوں میں مرا دل توڑنے والے کبھی سوچا ہے یہ تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4370 سے 5858