شاعری

دھند کا آنکھوں پر ہوگا پردا اک دن

دھند کا آنکھوں پر ہوگا پردا اک دن ہو جائیں گے ہم سب بے چہرا اک دن جس مٹھی میں پھول ہے اس کو بند رکھو کھل کر یہ جگنو بن جائے گا اک دن آنکھیں مل مل کر دیکھیں گے خواب ہے کیا ایسے رنگ دکھائے گی دنیا اک دن چاند ستارے کہیں ڈبوئے جائیں گے خوشبو پر لگ جائے گا پہرا اک دن ہو جائیں گے ختم ...

مزید پڑھیے

جو جا چکے ہیں غالباً اتریں کبھی زینہ ترا

جو جا چکے ہیں غالباً اتریں کبھی زینہ ترا اے کہکشاں اے کہکشاں روشن رہے رستا ترا خوں ناب‌ دل کی کشید آخر کو ترے دم سے ہے کہنے کو میرا مے کدہ لیکن ہے مے خانہ ترا پل بھر میں بادل چھا گئے اور خوب برساتیں ہوئیں کل چودھویں کی رات میں کچھ یوں خیال آیا ترا اے زندگی اے زندگی کچھ روشنی ...

مزید پڑھیے

ہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئے

ہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئے لیکن تاروں سے پوچھو کب نکلے چمکے ڈوب گئے دو سائے پہلے آکاش تلے ساحل پر بیٹھے تھے لہروں نے لپٹانا چاہا اور بے چارے ڈوب گئے پیڑوں پر جو نام لکھے تھے وہ تو اب بھی باقی ہیں لیکن جتنے بھی تالاب میں پتھر پھینکے ڈوب گئے اونچے گھر آکاش چھپا کر ...

مزید پڑھیے

چپ کھڑے ہیں درمیان کعبہ و بتخانہ ہم

چپ کھڑے ہیں درمیان کعبہ و بتخانہ ہم کس طرف جائیں بتا اے جلوۂ جانانہ ہم عظمت رفتہ سے اتنے ہو گئے بیگانہ ہم بن گئے ہیں اپنی ہی نظروں میں آج افسانہ ہم ہائے یہ مجموعۂ سر مستی و کیف و خمار تک رہے ہیں تیری آنکھوں کو لئے پیمانہ ہم بے وفا شمعیں بہر سو ڈھونڈھتی ہیں اب ہمیں مٹ گئے جب ...

مزید پڑھیے

صداقتوں کے پیمبر گئے رسول گئے

صداقتوں کے پیمبر گئے رسول گئے خودی کی حرمت افضل گئی اصول گئے جو بو الہوس تھے سر عام دندناتے رہے جو حق پرست تھے سب پھانسیوں پہ جھول گئے گلا فقط ہے یہ زاہد کی پارسائی سے ذرا سا وقت پڑا ان کے سب اصول گئے خضر سے ہم بھی ملا کر قدم چلے تھے مگر مسافتوں کی طوالت سے سانس پھول گئے تمہارے ...

مزید پڑھیے

نظموں کے لیے دعائے خیر

میری تمام کائنات گھاس کے ورق کی طرح سوکھنے لگے تو تم اس تنہا رستے پہ آؤ گے؟ تخلیق کے چپ مالک! آقا! خدا! تم کہ کھوئے ہوؤں کے درد مدتوں سنبھالے رہے ہو اس رستے پہ کہ جہاں مجھے کبھی یقیں نہ ہو سکا کہ پانی مانگوں تو کیسے روٹی یا عافیت یا محض پہچان کی بھیک مانگوں تو کیسے تم آؤ گے؟ جلے ہوئے ...

مزید پڑھیے

مہاجر

یہاں کبھی کبھی دھوپ بھی زینہ زینہ یوں اتری ہے جیسے اجنبی ہو اور مجھے وہ لوگ یاد آئے ہیں جو اپنے وطن سے بچھڑ گئے مہاجر جلا وطن جنہوں نے سمجھا تھا کہ اجنبی شہر میں موت کم لوگوں کو آتی ہے جو یہاں اس گمان میں آئے تھے کہ عافیت دائم رہے گی تم نے ڈھلتے سایوں کی سیاست سے گریز کیا ہے تم ...

مزید پڑھیے

چاند

چاند قریب آؤ بیٹھو میرے پاس میرے چپ دوست مجھے دو چیتے کا نقرئی داغ دار بدن برفیلی رات میں دبا ہوا جو تمہاری گود میں ہے مجھے سکھاؤ دو لفظ ہسپانوی چینی پرتگالی اخلاص کے وہ سبز لفظ جو تم نے سنے ہیں اپنی چاندنی میں خوف پا گزرے ہوؤں کی امانت کی طرح جذب کر لیے ہیں مجھے دو عورتوں اور ...

مزید پڑھیے

آواگون

واپسی واپسی شکستہ بوڑھے شہر تیری گلیاں نہ جانے کب سے اکھڑے ہوئے سانسوں کی طرح باہم الجھتی رہی ہیں مٹی اور فولاد اور لکڑی کے شہر میں مقدر کی مثال ایک بار پھر پلٹ آیا ہوں

مزید پڑھیے

پہچان

وہ لمحہ آئینوں کا دریا جس میں تم نے اپنا آپ پہچانا جس میں تم نے جانا کہ اپنے وجود میں قید تم محض سراب ہو کہ شعروں میں محفوظ ہو تو تم آواز نہیں بازگشت نہیں محفل آوازوں ارادوں کا خواب ہو اس دانش گاہ کے بادلوں میں کوندے بھرے ہیں میرے ہاتھوں میں ہاتھ دو میرے ہاتھوں میں ہاتھ دو سیاہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4369 سے 5858