تھم گئی وقت کی رفتار ترے کوچے میں
تھم گئی وقت کی رفتار ترے کوچے میں ایسے ثابت ہوا سیار ترے کوچے میں منظر بام سر دید نہیں کھلتا ہے کچھ ہے نا دیدہ کا اسرار ترے کوچے میں ہر طلب گار کو ہے حاصل گفتار سکوت نہ ہے انکار نہ اقرار ترے کوچے میں آئینہ شام کا روشن رخ مہتاب سے کر عکس چمکے تو ہو دیدار ترے کوچے میں وصلت کار ...