شاعری

مائل بہ کرم مجھ پر ہو جائیں تو اچھا ہو

مائل بہ کرم مجھ پر ہو جائیں تو اچھا ہو مقبول مرے سجدے ہو جائیں تو اچھا ہو اس دشت نوردی سے پیچھا تو کہیں چھوٹے ہم کوچۂ جاناں میں مر جائیں تو اچھا ہو سر ہو در جاناں پہ دم اپنا نکل جائے یہ کام محبت میں کر جائیں تو اچھا ہو یوں تو سبھی آئے ہیں دفنانے مجھے لیکن وہ بھی مری میت پہ آ ...

مزید پڑھیے

اب تصور میں حرم ہے نہ صنم خانہ ہے

اب تصور میں حرم ہے نہ صنم خانہ ہے میں جہاں پر ہوں وہیں یار کا کاشانہ ہے جستجوئے حرم و دیر سے بیگانہ ہے میرا دل آپ کی تصویر کا دیوانہ ہے اب نہ کعبے میں جھکے گا نہ صنم خانے میں میرا سر سر نہیں سنگ در جانانہ ہے سب تری مست نگاہی کا کرم ہے ساقی رند جو بھی یہاں ہوش سے بیگانہ ہے

مزید پڑھیے

مری لو لگی ہے تجھ سے غم زندگی مٹا دے

مری لو لگی ہے تجھ سے غم زندگی مٹا دے ترا نام ہے مسیحا مرے درد کی دوا دے مری پیاس بڑھ رہی ہے مرا دل سلگ رہا ہے جو نہیں ہے جام ساقی تو نگاہ سے پلا دے مرا مدعا ہے اتنا تو اگر کرے گوارہ میں فقیر آستاں ہوں مجھے بندگی سکھا دے مجھے شوق بندگی میں یہی ایک آرزو ہے ترا نقش پا جہاں ہو مرا سر ...

مزید پڑھیے

ترا غم رہے سلامت یہی میری زندگی ہے

ترا غم رہے سلامت یہی میری زندگی ہے ترے غم سے میرے جاناں مرے دل میں روشنی ہے مری مے کشی کا حاصل وہ شراب بن گئی ہے جو ملی تری نظر سے جو تری نظر سے پی ہے تجھے سامنے بٹھا کر صدا پوجتا رہوں میں ہے یہی مری عبادت یہی میری بندگی ہے مرے دل میں بسنے والے تجھے کیسے بھول جاؤں ترا عشق میرا ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کو نت نئے انداز سے دیکھا کرو

چاہتوں کو نت نئے انداز سے دیکھا کرو وصل کی راحت میں فرقت کا سماں لکھا کرو کیا پتہ ان کی بھی لگ جائے کوئی قیمت کہیں سنگریزوں کو بھی ہیروں کی طرح پرکھا کرو ذات کے صحرا میں کر پاؤ گے کیا اپنی تلاش عمر بھر پیچھے سراب زیست کے بھاگا کرو اک ہوائے تند کا جھونکا اڑا لے جائے گا ریت کے ...

مزید پڑھیے

غم دنیا غم ہستی غم الفت غم دل (ردیف .. و)

غم دنیا غم ہستی غم الفت غم دل کتنے عنوان ملے ہیں مرے افسانے کو پھر سے آ جائے گی دیکھو تن بے جان میں جان آپ آواز تو دیجے ذرا دیوانے کو بے خودی میں بھی ترا نام لئے جاتے ہیں روگ یہ کیسا لگا ہے ترے مستانے کو تجھ سے بس اتنی طلب ہے ترے دیوانے کی اپنے جلووں سے سجا دے مرے غم خانے کو شعلۂ ...

مزید پڑھیے

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا جام میں گھول کر حسن کی مستیاں چاندنی مسکرائی مزا آ گیا چاند کے سائے میں اے مرے ساقیا تو نے ایسی پلائی مزا آ گیا نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا بزم رنداں میں ساغر کھنکنے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے جلوۂ یار نے مدہوش بنا رکھا ہے موت سے آپ کی الفت نے بچا رکھا ہے ورنہ بیمار غم ہجر میں کیا رکھا ہے عرصۂ حشر میں رسوائی یقینی تھی مگر تیری رحمت نے ہر اک جرم چھپا رکھا ہے منزل دیر و حرم چھوڑ کے اے جان جہاں میں نے کعبہ تیری چوکھٹ کو بنا رکھا ...

مزید پڑھیے

حریم شاہ میں دیکھی نہ خانقاہ میں ہے

حریم شاہ میں دیکھی نہ خانقاہ میں ہے جو شان بندہ نوازی تری نگاہ میں ہے نگاہ جب سے ترے حسن کی پناہ میں ہے ہر اک مقام محبت مری نگاہ میں ہے یہ بت کدے یہ حرم جس کی جلوہ گاہ میں ہے وہ میرے ساتھ ازل سے جنوں کی راہ میں ہے یہ ان کا در ہے یہاں سر اٹھا کے کون چلے یہاں پہ سر ہی نہیں دل بھی سجدہ ...

مزید پڑھیے

دل بتوں پہ نثار کرتے ہیں

دل بتوں پہ نثار کرتے ہیں کفر کو پائیدار کرتے ہیں جن کا مذہب صنم پرستی ہو کافری اختیار کرتے ہیں اس کا ایمان لوٹتے ہیں صنم جس کو اپنا شکار کرتے ہیں حوصلہ میرا آزمانے کو وہ ستم بار بار کرتے ہیں اس سے بڑھ کر نہیں نماز کوئی اپنی ہستی سے پیار کرتے ہیں اے فناؔ دل سنبھال کر رکھنا بت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4342 سے 5858