شاعری

کریں ہم کس کی پوجا اور چڑھائیں کس کو چندن ہم

کریں ہم کس کی پوجا اور چڑھائیں کس کو چندن ہم صنم ہم دیر ہم بت خانہ ہم بت ہم برہمن ہم در و دیوار ہی نظروں میں اپنی آئینہ خانہ کیا کرتی ہیں گھر بیٹھی ہی اپنا آپ درشن ہم محبت ہے تو اپنے سے عداوت ہے تو اپنے سے ہیں آپ ہی دوست اپنے ہم ہیں آپ ہی اپنے دشمن ہم کب اٹھتی ہیں اٹھائے سے کسی ...

مزید پڑھیے

آخری آدمی

بجھا دو لہو کے سمندر کے اس پار آئنہ خانوں میں اب جھلملاتے ہوئے قمقموں کو بجھا دو کہ دل جن سے روشن تھا اب ان چراغوں کی لو بجھ چکی ہے مٹا دو منقش در و بام کے جگمگاتے چمکتے ہوئے سب بتوں کو مٹا دو کہ اب لوح دل سے ہر اک نقش حرف غلط کی طرح مٹ چکا ہے اٹھا دو لہو کے جزیرے میں بپھری ہوئی موت ...

مزید پڑھیے

ایک مدت سے سر بام وہ آیا بھی نہیں

ایک مدت سے سر بام وہ آیا بھی نہیں ہم کو اب حسرت دیدار تمنا بھی نہیں جادۂ شوق میں تنہا بھی ہوں تنہا بھی نہیں کیا حسیں بات ہے رسوا بھی ہوں رسوا بھی نہیں تم جو ناراض ہوئے ہو گئی دنیا برہم اب تو گرتی ہوئی دیوار کا سایہ بھی نہیں کس کو میں دوت کہوں کس کو میں دشمن جانوں سبھی اپنے ہیں ...

مزید پڑھیے

وہ جتنے دور ہیں اتنے ہی میرے پاس بھی ہیں

وہ جتنے دور ہیں اتنے ہی میرے پاس بھی ہیں یہ اور بات ہے خوش ہیں مگر اداس بھی ہیں یہ دیکھنا ہے ہمیں کس کا ذوق کیسا ہے یہاں شراب بھی ہے زہر کے گلاس بھی ہیں انہی پہ تہمت دیوانگی لگاتے ہو جو اتفاق سے محفل میں روشناس بھی ہیں جو روشنی کے لبادے کو اوڑھ کر آئے شب سیاہ کے وہ ماتمی لباس بھی ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہئے

لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہئے کیسے ممکن ہے اندھیروں کو اجالا کہئے چہرے پڑھنا تو سبھی سیکھ گئے ہیں لیکن کیسی تہذیب ہے اپنوں کو پرایا کہئے جانے پہچانے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں وقت قاتل ہے یہاں کس کو مسیحا کہئے آپ جس پیڑ کے سائے میں کھڑے ہیں اس کو صحن گلشن نہیں جلتا ہوا صحرا ...

مزید پڑھیے

صبح نو لاتی ہے ہر شام تمہیں کیا معلوم

صبح نو لاتی ہے ہر شام تمہیں کیا معلوم زخم خوشیوں کے ہیں پیغام تمہیں کیا معلوم بھول کر بھی جو کسی بزم میں آیا نہ گیا سینکڑوں اس پہ ہیں الزام تمہیں کیا معلوم لوگ گلشن میں تو چلتے ہیں سرافرازی سے ان میں کتنے ہیں تہہ دام تمہیں کیا معلوم کچھ اندھیرے بھی خطا وار تباہی ہیں مگر روشنی ...

مزید پڑھیے

کانچ کے شہر میں پتھر نہ اٹھاؤ یارو

کانچ کے شہر میں پتھر نہ اٹھاؤ یارو مے کدہ ہے اسے مقتل نہ بناؤ یارو صحن مقتل میں بھی مے خانہ سجاؤ یارو شب کے سناٹے میں ہنگامہ مچاؤ یارو زندگی بکنے چلی آئی ہے بازاروں میں اس جنازے کے بھی کچھ دام لگاؤ یارو جن کی شہ رگ کا لہو پھول کی انگڑائی تھا ان کو اب حال گلستاں نہ بتاؤ ...

مزید پڑھیے

ہم نے صحرا کو سجایا تھا گلستاں کی طرح

ہم نے صحرا کو سجایا تھا گلستاں کی طرح تم نے گلشن کو بنایا ہے بیاباں کی طرح رات کا زہر پئے خواب کا آنچل اوڑھے کون ہے ساتھ مرے گردش دوراں کی طرح ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اب تک بھی ہیں صحرا صحرا اسی لمحے کو جو تھا فصل بہاراں کی طرح مصلحت کوش زمانے کا بھروسہ کیا ہے جو بھی ملتا ہے یہاں ...

مزید پڑھیے

پہلے اطلس میں جو ملبوس کیے جاتے ہیں

پہلے اطلس میں جو ملبوس کیے جاتے ہیں پھر وہ ایوانوں میں محبوس کیے جاتے ہیں میں انہیں حیطۂ تحریر میں لاؤں کیسے درد لکھے نہیں محسوس کیے جاتے ہیں بال و پر کاٹ کے دیں اذن رہائی کیوں کر ان پرندوں کو جو مانوس کیے جاتے ہیں اتنی آسان نہیں ہوتی ہے یہ راہ سخن پار اس میں کئی قاموس کیے جاتے ...

مزید پڑھیے

ذرا محتاط ہونا چاہیے تھا

ذرا محتاط ہونا چاہیے تھا بغیر اشکوں کے رونا چاہیے تھا اب ان کو یاد کر کے رو رہے ہیں بچھڑتے وقت رونا چاہیے تھا مری وعدہ خلافی پر وہ چپ ہے اسے ناراض ہونا چاہیے تھا چلا آتا یقیناً خواب میں وہ ہمیں کل رات سونا چاہیے تھا سوئی دھاگہ محبت نے دیا تھا تو کچھ سینہ پرونا چاہیے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4317 سے 5858