شاعری

بجلی سی اک اور گرا دی ظالم نے

بجلی سی اک اور گرا دی ظالم نے ضبط کی ساری کھیپ جلا دی ظالم نے پہلی سے میں جان چھڑاتا پھرتا تھا آج نئی تصویر لگا دی ظالم نے دل آنکھوں کے ساتھ ہی باہر آیا ہے اتنی اس کی پیاس بڑھا دی ظالم نے دوپٹے کا پردہ بھی نہیں رکھا آج پابندی اک اور اٹھا دی ظالم نے اس کے آگے بات بھی کرنا مشکل ...

مزید پڑھیے

جب مری آئنے سے بنتی ہے

جب مری آئنے سے بنتی ہے شکل ہر زاویے سے بنتی ہے آدمی صبر سے نکھرتا ہے زندگی حوصلے سے بنتی ہے ساتھ ہے مشکلوں میں دونوں کا دشت کی آبلے سے بنتی ہے دل‌ جلا درد کو سمجھتا ہے درد کی دل جلے سے بنتی ہے ڈھونڈ کر بے شمار بیٹھے ہو کیا غزل قافیے سے بنتی ہے

مزید پڑھیے

ریشم زلف کے تار بھی باتیں کرتے ہیں

ریشم زلف کے تار بھی باتیں کرتے ہیں اس کے تو رخسار بھی باتیں کرتے ہیں اتنا وقت میں دیتا ہوں اس لڑکی کو اب تو میرے یار بھی باتیں کرتے ہیں سو افسانے بن جاتے ہیں دونوں کے ہم دونوں دو چار بھی باتیں کرتے ہیں ہر اک شعر نہیں ہو سکتا اچھا شعر شاعر کچھ بیکار بھی باتیں کرتے ہیں اتنے زخم ...

مزید پڑھیے

غزلیں لکھ لکھ پاگل ہونے والا ہوں

غزلیں لکھ لکھ پاگل ہونے والا ہوں جھوٹ نہیں اب سچ میں رونے والا ہوں باتیں کرنا فون پہ جان اب چھوڑو بھی خواب میں آؤ میں بھی سونے والا ہوں ہاتھ پکڑ کر روک لو میری جان مجھے پھر دنیا کی بھیڑ میں کھونے والا ہوں اور نہ میلا کر دوں اس کے دامن کو داغ جو اس کے دل سے دھونے والا ہوں اس کو ...

مزید پڑھیے

ایک مہماں کا ہجر طاری ہے

ایک مہماں کا ہجر طاری ہے میزبانی کی مشق جاری ہے صرف ہلکی سی بے قراری ہے آج کی رات دل پہ بھاری ہے کوئی پنچھی کوئی شکاری ہے زندہ رہنے کی جنگ جاری ہے بس ترے غم کی غم گساری ہے اور کیا شاعری ہماری ہے آپ ظالم ہیں شبنمی باتیں اور مری پیاس ریگ زاری ہے اب کہاں دشت میں جنوں والے جس کو ...

مزید پڑھیے

بس تمہارا مکاں دکھائی دیا

بس تمہارا مکاں دکھائی دیا جس میں سارا جہاں دکھائی دیا وہ وہیں تھا جہاں دکھائی دیا عشق میں یہ کہاں دکھائی دیا عمر بھر پر نہیں ملے ہم کو عمر بھر آسماں دکھائی دیا روز دیدہ وروں سے کہتا ہوں تو کہاں تھا کہاں دکھائی دیا اچھے خاصے قفس میں رہتے تھے جانے کیوں آسماں دکھائی دیا

مزید پڑھیے

کوئی ملتا نہیں خدا کی طرح

کوئی ملتا نہیں خدا کی طرح پھرتا رہتا ہوں میں دعا کی طرح غم تعاقب میں ہیں سزا کی طرح تو چھپا لے مجھے خطا کی طرح ہے مریضوں میں تذکرہ میرا آزمائی ہوئی دوا کی طرح ہو رہیں ہیں شہادتیں مجھ میں اور میں چپ ہوں کربلا کی طرح جس کی خاطر چراغ بنتا ہوں گھورتا ہے وہی ہوا کی طرح وقت کے ...

مزید پڑھیے

جاہلوں کو سلام کرنا ہے

جاہلوں کو سلام کرنا ہے اور پھر جھوٹ موٹ ڈرنا ہے کاش وہ راستے میں مل جائے مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے پوچھتی ہے صدائے بال و پر کیا زمیں پر نہیں اترنا ہے سوچنا کچھ نہیں ہمیں فی الحال ان سے کوئی بھی بات کرنا ہے بھوک سے ڈگمگا رہے ہیں پاؤں اور بازار سے گزرنا ہے

مزید پڑھیے

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں ہمارے زخم ورزش کر رہے ہیں سنو لوگوں کو یہ شک ہو گیا ہے کہ ہم جینے کی سازش کر رہے ہیں ہماری پیاس کو رانی بنا لیں کئی دریا یہ کوشش کر رہے ہیں مرے صحرا سے جو بادل اٹھے تھے کسی دریا پہ بارش کر رہے ہیں یہ سب پانی کی خالی بوتلیں ہیں جنہیں ہم نذر آتش کر رہے ...

مزید پڑھیے

وہ کہیں تھا کہیں دکھائی دیا

وہ کہیں تھا کہیں دکھائی دیا میں جہاں تھا وہیں دکھائی دیا خواب میں اک حسیں دکھائی دیا وہ بھی پردہ نشیں دکھائی دیا جب تلک تو نہیں دکھائی دیا گھر کہیں کا کہیں دکھائی دیا روز چہرہ نے آئنہ بدلے جو نہیں تھا نہیں دکھائی دیا بد مزہ کیوں ہیں آسماں والے میں زمیں تھا زمیں دکھائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4316 سے 5858