شاعری

اب سو جاؤ

اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے والے ہو اور اچھی قسمت رکھتے ہو بچے کی سو بھولی صورت اب تک ضد کرنے کی عادت کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں کچھ سینے میں چبھتی یادیں اب انہیں بھلا دو سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو سو جاؤ تم شہزادے ہو اور کتنے ...

مزید پڑھیے

میرے ہاتھ

دل میں کب سے رم جھم کرتی کیسی برکھا برس رہی ہے اس برکھا کے امرت رس سے بھیگ چکی میں بھیگ چکی میں لگتی چھپتی دھوپ اور بادل یہ آکاش کے ننھے بالک کھیل رہے ہیں ہنستے ہنستے کلکاری بھرتے سبزے کو شوخ ہوائیں چھیڑ رہی ہیں میں بھی اپنے پنکھ جھٹک کر پر تولوں اور بھروں اڑانیں اپنے بدن میں خود ...

مزید پڑھیے

دلی تری چھاؤں…

دلی! تری چھاؤں بڑی قہری مری پوری کایا پگھل رہی مجھے گلے لگا کر گلی گلی دھیرے سے کہے'' تو کون ہے ری؟'' میں کون ہوں ماں تری جائی ہوں پر بھیس نئے سے آئی ہوں میں رمتی پہنچی اپنوں تک پر پریت پرائی لائی ہوں تاریخ کی گھور گپھاؤں میں شاید پائے پہچان مری تھا بیج میں دیس کا پیار گھلا پردیس ...

مزید پڑھیے

اک حرف مدعا

اک حرف مدعا تھا لبوں پہ کھٹکتا تھا پھانس سا اک نام تھا زبان کا چھالا بنا ہوا لو میں زباں تراش کے خاموش ہو گئی لو اب تو میری آنکھ میں آنسو نہیں کوئی بس ایک میرا گنگ مرا حرف مدعا

مزید پڑھیے

خاکم بدہن

میں عازم مے خانہ تھی کل رات کہ دیکھا اک کوچۂ پر شور میں اصحاب طریقت تھے دست و گریباں خاکم بدہن پیچ عماموں کے کھلے تھے فتووں کی وہ بوچھاڑ کہ طبقات تھے لرزاں دستان مبارک میں تھیں ریشان مبارک موہائے مبارک تھے فضاؤں میں پریشاں کہتے تھے وہ باہم کہ حریفان سیہ رو کفار ہیں بد خو زندیق ...

مزید پڑھیے

بیٹھا ہے میرے سامنے وہ

بیٹھا ہے میرے سامنے وہ جانے کسی سوچ میں پڑا ہے اچھی آنکھیں ملی ہیں اس کو وحشت کرنا بھی آ گیا ہے بچھ جاؤں میں اس کے راستے میں پھر بھی کیا اس سے فائدہ ہے ہم دونوں ہی یہ تو جانتے ہیں وہ میرے لیے نہیں بنا ہے میرے لیے اس کے ہاتھ کافی اس کے لیے سارا فلسفہ ہے میری نظروں سے ہے پریشاں خود ...

مزید پڑھیے

کب تک

کب تک مجھ سے پیار کرو گے کب تک؟ جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گا جب تک میرا رنگ ہے تازہ جب تک میرا انگ تنا ہے پر اس کے آگے بھی تو کچھ ہے وہ سب کیا ہے کسے پتہ ہے وہیں کی ایک مسافر میں بھی انجانے کا شوق بڑا ہے پر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک

مزید پڑھیے

اس نے کیا حجاب مرے دیکھنے کے بعد

اس نے کیا حجاب مرے دیکھنے کے بعد اس کو ملا ثواب مرے دیکھنے کے بعد صورت پہ چار چاند لگے تھے جناب کی یہ بھی تھا انقلاب مرے دیکھنے کے بعد میری نظر سے ڈالیاں چھو کر ہری ہوئیں کھلنے لگے گلاب مرے دیکھنے کے بعد اتنا میں شعر فہم نہیں ہوں مگر یہاں چھپتے ہیں انتخاب مرے دیکھنے کے ...

مزید پڑھیے

چہرے سے کب عیاں ہے مرے اضطرار بھی

چہرے سے کب عیاں ہے مرے اضطرار بھی لیکن میں کر رہا ہوں ترا انتظار بھی شاید تجھے ہو دسترس اپنے وجود پر مجھ کو تو اس نظر پہ نہیں اختیار بھی ملنے لگے ہیں اب تو خوشی کے لباس میں غم ہائے زندگی کا ہے کوئی شمار بھی ہو لاکھ خوبرو کوئی اپنے تئیں مگر ہوتا ہے عکس و آئنے پر انحصار بھی یکجا ...

مزید پڑھیے

یاد

آج بھی جب میں بائیک پہ بیٹھوں آج بھی میرے پہلو پہ اک ہاتھ دکھائی دیتا ہے آج بھی میرے کانوں کو اک گیت سنائی دیتا ہے آج بھی کوئی زلف مرا دل خوشبو سے مہکاتی ہے یاد کسی کی آج بھی میرے پیچھے بیٹھ کے جاتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4313 سے 5858