عشق آوارہ مزاج
عشق آوارہ مزاج وہ مسافر تو گیا نہ کوئی اس کی مہک ہے کہ جو دے اس کا پتہ نہ کوئی نقش کف پا نہ کوئی اس کا نشاں کوئی تلخی بھی تہہ جام نہ چھوڑی اس نے زندگی باقی ہے ایک سنجیدہ ہنسی سوچ سی دل میں بسی تیز آئی ہوئی سانس ذہن میں تھوڑے سے وقفے سے کھٹکتی ہوئی پھانس اور دکھتا ہوا دل چوٹ تھی جس پہ ...