شاعری

عشق آوارہ مزاج

عشق آوارہ مزاج وہ مسافر تو گیا نہ کوئی اس کی مہک ہے کہ جو دے اس کا پتہ نہ کوئی نقش کف پا نہ کوئی اس کا نشاں کوئی تلخی بھی تہہ جام نہ چھوڑی اس نے زندگی باقی ہے ایک سنجیدہ ہنسی سوچ سی دل میں بسی تیز آئی ہوئی سانس ذہن میں تھوڑے سے وقفے سے کھٹکتی ہوئی پھانس اور دکھتا ہوا دل چوٹ تھی جس پہ ...

مزید پڑھیے

تفصیل مسافت کی

اک دن جو بہم ہوں گے تجھ سے ترے درماندہ کیا عرض گزاریں گے کیا حال سنائیں گے موہوم کشیدہ ہے تصویر قیامت کی شاید نہ سنا پائیں تفصیل مسافت کی لب بستہ رہیں شاید یہ دن جو گزارے ہیں محرم ہے کوئی کس کا یا زخم کی سرگوشی یا ہمارے ہیں آنکھوں پہ کئے سایہ کب دور تلک دیکھا لرزاں تھی زمیں کس ...

مزید پڑھیے

طفلاں کی تو کچھ تقصیر نہ تھی

اے دوست پرانے پہچانے ہم کتنی مدت بعد ملے اور کتنی صدیوں بعد ملی یہ ایک نگاہ مہر و سخا جو اپنی سخا سے خود پر نم بیٹھو تو ذرا بتلاؤ تو کیا یہ سچ ہے میرے تعاقب میں پھرتا ہے ہجوم سنگ زناں؟ کیا نیل بہت ہیں چہرے پر؟ کیا کاسۂ سر ہے خون سے تر؟ پیوند قبا دشنام بہت پیوست جگر الزام بہت یہ نظر ...

مزید پڑھیے

تجارت

اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہے غور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہے ہند کی تاریخ پڑھ کر ہی سبق حاصل کرو جو تجارت کرنے آئے تھے اب ان کا راج ہے زندہ رہ سکتا نہیں ہرگز تجارت کے بغیر ہم نے یہ مانا کہ یورپ مرکز افواج ہے ہر دکان اپنی جگہ ہے ایک چھوٹی سلطنت نفع کہتے ہیں جسے دراصل ...

مزید پڑھیے

یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا

یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا تو نخ بہ نخ کہیں پیوست ریشۂ دل تھا مجھے مآل سفر کا ملال کیوں کر ہو کہ جب سفر ہی مرا فاصلوں کا دھوکا تھا میں جب فراق کی راتوں میں اس کے ساتھ رہی وہ پھر وصال کے لمحوں میں کیوں اکیلا تھا وہ واسطے کی ترا درمیاں بھی کیوں آئے خدا کے ساتھ مرا جسم کیوں نہ ...

مزید پڑھیے

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے یا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہے جب سر میں نہیں عشق تو چہرے پہ چمک ہے یہ نخل خزاں آئی تو شاداب ہوا ہے کیا میرا زیاں ہے جو مقابل ترے آ جاؤں یہ امر تو معلوم کہ تو مجھ سے بڑا ہے میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں اے ظاہر و موجود مرا جسم دعا ...

مزید پڑھیے

چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں

چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں کسی آسیب کا سایہ ہے یہاں کوئی آواز سی ہے مرثیہ خواں شہر کا شہر بنا گورستاں ایک مخلوق جو بستی ہے یہاں جس پہ انساں کا گزرتا ہے گماں خود تو ساکت ہے مثال تصویر جنبش غیر سے ہے رقص کناں کوئی چہرہ نہیں جز زیر نقاب نہ کوئی جسم ہے جز بے دل و جاں علما ہیں دشمن ...

مزید پڑھیے

پتھر سے وصال مانگتی ہوں

پتھر سے وصال مانگتی ہوں میں آدمیوں سے کٹ گئی ہوں شاید پاؤں سراغ الفت مٹھی میں خاک بھر رہی ہوں ہر لمس ہے جب تپش سے عاری کس آنچ سے یوں پگھل رہی ہوں وہ خواہش بوسہ بھی نہیں اب حیرت سے ہونٹ کاٹتی ہوں اک طفلک جستجو ہوں شاید میں اپنے بدن سے کھیلتی ہوں اب طبع کسی پہ کیوں ہو ...

مزید پڑھیے

کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں

کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمت کشش عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں وہ اک صدا جو فریب صدا سے بھی کم ہے نہ ڈوب جائے کہیں تند رو ہواؤں میں سکوت شام ہے اور میں ہوں گوش بر آواز کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں ...

مزید پڑھیے

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا جو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکل ترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سے اس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھی میری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4312 سے 5858