شاعری

دل واہموں کے خواب کے پیچھے نہیں گیا

دل واہموں کے خواب کے پیچھے نہیں گیا سیراب تھا سراب کے پیچھے نہیں گیا بے چہرگی عزیز مگر خال و خد کا غم داغ جگر نقاب کے پیچھے نہیں گیا رد و قبول میں بھی قناعت پسند تھا حسن طلب جواب کے پیچھے نہیں گیا عریاں ہے بارگاہ تماشا میں سر بہ سر شوق جنوں حجاب کے پیچھے نہیں گیا اس بار اختیار ...

مزید پڑھیے

حسرت کے داغ دست طلب سے نہیں دھلے

حسرت کے داغ دست طلب سے نہیں دھلے بھاری تھے خواب آنکھ سے پورے نہیں تلے چکر بندھا تھا پاؤں میں قسمت کے پھیر کا گرد سفر کے بند ابھی تک نہیں دھلے اشکوں کے ذائقے میں نمک رہ گیا ہے کم رنج و ملال ٹھیک طرح سے نہیں گھلے سوئے رہیں ہیں محل تمنا ہزار سال شہزادیوں کے بخت جبھی تو نہیں ...

مزید پڑھیے

روگ جی جان کو لگایا ہوا

روگ جی جان کو لگایا ہوا زنگ اوسان کو لگایا ہوا ایک اٹکا ہوا ہے پنجرے میں ایک پر دھیان کو لگایا ہوا خواب پتلی کے مرتبان میں جوں قفل سامان کو لگایا ہوا چکھ یہ مہکا ہوا قوام خیال شام کے پان کو لگایا ہوا آنکھ رکھی ہوئی ہے آہٹ پر راستہ کان کو لگایا ہوا خستگی سے گڑھا ہوا پیوند دل ...

مزید پڑھیے

پھر سے درپیش سفر کا قصہ

پھر سے درپیش سفر کا قصہ ایک ٹوٹے ہوئے گھر کا قصہ ہم نے تعویذ کی صورت باندھا دل سے نکلے ہوئے ڈر کا قصہ گوشۂ چشم کا جلتے رہنا خشک ہوتے ہوئے تر کا قصہ خیر نے بانجھ زمینوں پہ لکھا لہلہاتے ہوئے شر کا قصہ پھیلتے پھیلتے کیسا پھیلا بے گھری تیری خبر کا قصہ بیج کو خاک نمو تو بخشے کھلتا ...

مزید پڑھیے

کچھ سکوں پاؤں جو اس صحن مکاں سے چھوٹوں

کچھ سکوں پاؤں جو اس صحن مکاں سے چھوٹوں پھر نیا ایک سفر ہو میں جہاں سے چھوٹوں سارے احساس سے ہر سود و زیاں سے چھوٹوں ہو کے خاموش گناہان بیاں سے چھوٹوں تند خو تازی بے باک خراماں کی قسم کاش رفتار و رم و رخش رواں سے چھوٹوں مضمحل ہو کے ٹھہرنے نہیں دیتی سرعت کاش آزاد ہو توسن کہ عناں سے ...

مزید پڑھیے

سکون ذات وقف انتشار کر لیا گیا

سکون ذات وقف انتشار کر لیا گیا غضب ہوا کہ دل کا اعتبار کر لیا گیا قدم قدم ملے جو آبلے رہ حیات میں تو آنسوؤں کو مثل آبشار کر لیا گیا امید صبح و شام غم کے درمیاں بسر جو کی تو ساعتوں کو درد میں شمار کر لیا گیا ملا فریب و مکر سے بھی کب وہ حیلہ جو مگر لباس سادگی کا داغدار کر لیا ...

مزید پڑھیے

ذرا سی رات اور اتنا ثواب کافی ہے

ذرا سی رات اور اتنا ثواب کافی ہے مری نظر کو فقط تیرا خواب کافی ہے میں چاہتی نہیں مجھ کو ورق ورق لکھ دے سر ورق ہے جو اک انتساب کافی ہے میں کیا کروں گی یہ اتنی کہانیاں لے کر مرے لیے تو فقط اک کتاب کافی ہے میں اپنی پیاس کو محسوس کر کے جیتی ہوں سمندروں کی طلب کیا سراب کافی ہے میں ...

مزید پڑھیے

یہ غم کا رنگ یہ آب ملال آنکھوں میں

یہ غم کا رنگ یہ آب ملال آنکھوں میں عزا کا جیسے ہو عکس ہلال آنکھوں میں کبھی سراب کبھی تشنگی کبھی صحرا کبھی کبھی فقط آب زلال آنکھوں میں نظر ملاؤں تو کیسے وہ لے کے چلتا ہے بہت عجیب سے کتنے سوال آنکھوں میں اب آئنہ بھی جو دیکھوں تو اپنے چہرے پر میں پڑھتی رہتی ہوں تیرا خیال آنکھوں ...

مزید پڑھیے

رواق کہکشاں سے بھی ہو آگے تک گزر تیرا

رواق کہکشاں سے بھی ہو آگے تک گزر تیرا کہ تیرا عشق ہے منزل تری عزم سفر تیرا رمیدہ وسعتیں ہوں تندیٔ رفتار سے تیری بری ہو تنگیٔ افکار سے آہوئے سر تیرا زمانہ ٹھہر کر پوچھے تیری رفتار و سرعت سے مجھے بھی ساتھ لیتا چل ارادہ ہے کدھر تیرا حیات مختصر اور بیکرانی سیل امکاں کی رقم ہوگا سر ...

مزید پڑھیے

گلوں کا رنگ تپش خوشبوئیں سمندر کھینچ

گلوں کا رنگ تپش خوشبوئیں سمندر کھینچ کچھ اس طرح سے مری آرزو کا پیکر کھینچ نکل ہی جائے نہ دم اپنا آہ سوزاں سے زباں پہ لفظ تو رکھ اس طرح نہ تیور کھینچ اٹک رہا ہے مرا دم نکل نہ پائے گا ستم شعار جگر سے مرے یہ خنجر کھینچ محاذ جنگ پہ تیری شکست آخر ہے حصار کر لے خود اپنا تمام لشکر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4271 سے 5858