شاعری

اوروں کا سارا کام مجھے دے دیا گیا

اوروں کا سارا کام مجھے دے دیا گیا اور میرا کام جانے کسے دے دیا گیا مجھ سے کہا گیا کہ اتارو اب اپنے عکس آئینہ اک چراغ تلے دے دیا گیا تھی یہ مری سزا پہ مزے آ گئے مرے اک گھر ہر ایک گھر کے پرے دے دیا گیا کانٹوں بھری جو راہ تھی یوں ہی رکھی گئی بس نور آبلوں میں مرے دے دیا گیا تعبیر جس ...

مزید پڑھیے

ہوئی اک خواب سے شادی مری تنہائی کی

ہوئی اک خواب سے شادی مری تنہائی کی پہلی بیٹی ہے اداسی مری تنہائی کی ابھی معلوم نہیں کتنے ہیں ذاتی اسباب کتنی وجہیں ہیں سماجی مری تنہائی کی جا کے دیکھا تو کھلا رونق بازار کا راز ایک اک چیز بنی تھی مری تنہائی کی شہر در شہر جو یہ انجمنیں ہیں آباد تربیت گاہیں ہیں ساری مری تنہائی ...

مزید پڑھیے

خانہ ساز اجالا مار

خانہ ساز اجالا مار چاند پہ اپنا بھالا مار نور کا دریا پھوٹ پڑے ہجر کا ایسا نالہ مار راستہ پانی مانگتا ہے اپنے پاؤں کا چھالا مار خاص کو رنگ عام دکھا ادنائی سے آلا مار چھوڑ یہ ذلت دشت کو چل شہر کے گھر کو تالا مار روح بھی سر ہو جائے گی پہلے بدن کا پالا مار دیر نہ کر فرحتؔ ...

مزید پڑھیے

وہ میری جاں کے صدف میں گہر سا رہتا ہے

وہ میری جاں کے صدف میں گہر سا رہتا ہے میں اس کو توڑ نہ ڈالوں یہ ڈر سا رہتا ہے وہ چہرہ ایک شفا خانہ ہے مری خاطر وہ ہو تو جیسے کوئی چارہ گر سا رہتا ہے میں اس نگاہ کے ہم راہ جب سے آیا ہوں مجھے نہ جانے کہاں کا سفر سا رہتا ہے بڑا وسیع ہے اس کے جمال کا منظر وہ آئینے میں تو بس مختصر سا ...

مزید پڑھیے

یہ دل دنیا سے باز آنے لگا ہے

یہ دل دنیا سے باز آنے لگا ہے کہ اب سینے میں راز آنے لگا ہے اذاں ہونے لگی محراب جاں میں مرا وقت نماز آنے لگا ہے یوں ہی اک زخم پر دے دی تھی اصلاح سو اب لے کر بیاض آنے لگا ہے بہت سے زخم تھے اب صرف اک زخم لہو میں ارتکاز آنے لگا ہے بہت اب ہو چکی دنیا سے یاری ادھر سے اعتراض آنے لگا ...

مزید پڑھیے

بدن اور روح میں جھگڑا پڑا ہے

بدن اور روح میں جھگڑا پڑا ہے کہ حصہ عشق میں کس کا بڑا ہے ہجوم گریہ سے ہوں در بہ در میں کہ گھر میں سر تلک پانی کھڑا ہے بلاتی ہے مجھے دیوار دنیا جہاں ہر جسم اینٹوں سا جڑا ہے جھنجھوڑا ہے ابھی کس زلزلے نے زمیں سے زندگی سا کیا جھڑا ہے فقط آنکھیں ہی آنکھیں رہ گئی ہیں کہ سارا شہر مٹی ...

مزید پڑھیے

بہت ممکن تھا ہم دو جسم اور اک جان ہو جاتے

بہت ممکن تھا ہم دو جسم اور اک جان ہو جاتے مگر دو جسم صرف اک جان سے ہلکان ہو جاتے تم آتے تو دلوں سے کھیلنے کا شوق تھا تم کو تو میرے جسم و جاں اس کھیل کا میدان ہو جاتے ہم اس کے وصل کے چکر میں غارت ہو گئے آخر کیا ہوتا جو ہجر اچھے بھلے انسان ہو جاتے

مزید پڑھیے

جس کو جیسا بھی ہے درکار اسے ویسا مل جائے

جس کو جیسا بھی ہے درکار اسے ویسا مل جائے تو میسر ہو مجھے اور تجھے دنیا مل جائے سنگ سے سنگ کے ٹکرانے کا منظر دیکھوں کبھی ایسا ہو کہ تجھ کو کوئی تجھ سا مل جائے یہ دھڑکتا ہوا دل اس کے حوالے کر دوں ایک بھی شخص اگر شہر میں زندہ مل جائے سخت سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت روح مری جسم یار آ کہ ...

مزید پڑھیے

اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے

اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے دنیا مرے زخموں کی طلب گار بہت ہے اب ٹوٹ رہا ہے مری ہستی کا تصور اس وقت مجھے تجھ سے سروکار بہت ہے مٹی کی یہ دیوار کہیں ٹوٹ نہ جائے روکو کہ مرے خون کی رفتار بہت ہے ہر سانس اکھڑ جانے کی کوشش میں پریشاں سینے میں کوئی ہے جو گرفتار بہت ہے پانی سے ...

مزید پڑھیے

دل کو آزار لگا دیتی ہے

دل کو آزار لگا دیتی ہے ابتری پار لگا دیتی ہے چاند تو ایک ہی ہوتا ہے قلق بے کلی چار لگا دیتی ہے ہم وہ تصویر خموشی ہیں جسے خود پہ دیوار لگا دیتی ہے حسرت شوق کی چیونٹی دل میں غم کا انبار لگا دیتی ہے زندگی تیرے طمانچوں سے حذر روز دو چار لگا دیتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4270 سے 5858