کس سلیقے سے وہ مجھ میں رات بھر رہ کر گیا
کس سلیقے سے وہ مجھ میں رات بھر رہ کر گیا شام کو بستر سا کھولا صبح کو تہہ کر گیا وقت رخصت تھا ہمارے باہر اندر اتنا شور کچھ کہا تھا اس نے لیکن جانے کیا کہہ کر گیا قتل ہوتے سب نے دیکھا تھا بھرے بازار میں یہ نہ دیکھا خوں مرا کس کی طرف بہہ کر گیا ڈوبنا ہی تھا سو ڈوبا چاند اس کے وصل ...