در فقیر پہ جو آئے وہ دعا لے جائے
در فقیر پہ جو آئے وہ دعا لے جائے دوائے درد کوئی درد لا دوا لے جائے وصال یار کی اب صرف ایک صورت ہے ہماری خاک اڑا کر وہاں ہوا لے جائے تو جان جائے مرا دکھ جو تیرے پہلو سے کوئی بھی آئے ترے دوست کو اٹھا لے جائے کسی جزیرۂ نادیدہ کی طلب تھی ہمیں اب اس پہ ہے کہ جہاں ہم کو ناخدا لے ...