شاعری

در فقیر پہ جو آئے وہ دعا لے جائے

در فقیر پہ جو آئے وہ دعا لے جائے دوائے درد کوئی درد لا دوا لے جائے وصال یار کی اب صرف ایک صورت ہے ہماری خاک اڑا کر وہاں ہوا لے جائے تو جان جائے مرا دکھ جو تیرے پہلو سے کوئی بھی آئے ترے دوست کو اٹھا لے جائے کسی جزیرۂ نادیدہ کی طلب تھی ہمیں اب اس پہ ہے کہ جہاں ہم کو ناخدا لے ...

مزید پڑھیے

گلی کا پتھر تھا مجھ میں آیا بگاڑ ایسا

گلی کا پتھر تھا مجھ میں آیا بگاڑ ایسا میں ٹھوکریں کھا کے ہو گیا ہوں پہاڑ ایسا خدا خبر دل میں کوئی آسیب ہے کہ اس میں کوئی نہ آیا گیا پڑا ہے اجاڑ ایسا نہ سر اٹھا پائے کوئی بھونچال مجھ میں اے وقت میں نرم مٹی ہوں سو مجھے تو لتاڑ ایسا چہار جانب پڑے ہیں پرزے نگاہ و دل کے ہمارا اس عشق ...

مزید پڑھیے

خواب گروی رکھ دیے آنکھوں کا سودا کر دیا

خواب گروی رکھ دیے آنکھوں کا سودا کر دیا قرض دل کیا قرض جاں بھی آج چکتا کر دیا غیر کو الزام کیوں دیں دوست سے شکوہ نہیں اپنے ہی ہاتھوں کیا جو کچھ بھی جیسا کر دیا کچھ خبر بھی ہو نہ پائی اس دیار عشق میں کون یوسف ہو گیا کس کو زلیخا کر دیا دل کے دروازے پہ یادیں شور جب بننے لگیں دھڑکنوں ...

مزید پڑھیے

یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوں

یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوں اپنی بستی سے دور آ کر تنہا ہوں کوئی نہیں ہے میرے جیسا چاروں اور اپنے گرد اک بھیڑ سجا کر تنہا ہوں جتنے لوگ ہیں اتنی ہی آوازیں ہیں لہجوں کا طوفان اٹھا کر تنہا ہوں روشنیوں کے عادی کیسے جانیں گے آنکھوں میں دو دیپ جلا کر تنہا ہوں جس منظر سے گزری تھی ...

مزید پڑھیے

پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی وہ ہم سفر تھا کشتی پہ مانجھی بھی تھا وہی دریا وہی ہے میں بھی ہوں کشتی نہیں رہی بدلا جو اس کا لہجہ تو سب کچھ بدل گیا چاہت میں ڈھل کے جیسی تھی ویسی نہیں رہی پیڑوں میں چھاؤں پھول میں خوشبو ہے اپنا رنگ ویرانی بڑھ ...

مزید پڑھیے

خوشبو ہے اور دھیما سا دکھ پھیلا ہے

خوشبو ہے اور دھیما سا دکھ پھیلا ہے کون گیا ہے اب تک لان اکیلا ہے کیوں آہٹ پر چونکوں میں کس کو دیکھوں بے دستک ہی آیا جب وہ آیا ہے کھلی کتابیں سامنے رکھے بیٹھی ہوں دھندلے دھندلے لفظوں میں اک چہرہ ہے رات دریچے تک آ کر رک جاتی ہے بند آنکھوں میں اس کا چہرہ رہتا ہے آوازوں سے خالی ...

مزید پڑھیے

روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیں

روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیں اس کا ملنا مجھے مشکل نہ ہو آسان نہیں کوئی دم اور ہے بس خاک ہوئے جانے میں خاک بھی ایسی کہ جس کی کوئی پہچان نہیں ٹھیس کچھ ایسی لگی ہے کہ بکھرنا ہے اسے دل میں دھڑکن کی جگہ درد ہے اور جان نہیں بوجھ ہے عشق تو پھر کیسے سنبھالیں اس کو دور تک ساتھ چلیں ...

مزید پڑھیے

بکھر رہے تھے ہر اک سمت کائنات کے رنگ

بکھر رہے تھے ہر اک سمت کائنات کے رنگ مگر یہ آنکھ کہ جو ڈھونڈتی تھی ذات کے رنگ ہمارے شہر میں کچھ لوگ ایسے رہتے ہیں سفر کی سمت بتاتے ہیں جن کو رات کے رنگ الجھ کے رہ گئے چہرے مری نگاہوں میں کچھ اتنی تیزی سے بدلے تھے ان کی بات کے رنگ بس ایک بار انہیں کھیلنے کا موقع دو خود ان کی چال ...

مزید پڑھیے

موسم کی پہلی بارش

ایک جھونکے نے پروا کے چھیڑا انہیں پیڑ رقصاں رہے رات بھر بھیگی مٹی کی خوشبو ابھرتی رہی کارواں بادلوں کا ٹھہر سا گیا گرتی بوندوں نے جادو کچھ ایسا کیا ہر تصور حقیقت میں ڈھلنے لگا میں بھی رقصاں رہی رات بھر ان ہی پیڑوں کے سنگ تو کہیں پاس تھا

مزید پڑھیے

اچھا لگتا ہے

مجھے پھولوں کا موسم پیڑ پودے اور پرندے اور بچے اچھے لگتے ہیں مجھے اک دور تک جاتی سڑک پر چلتے رہنا اچھا لگتا ہے مجھے پانی پہ مچھلی کا اچھلنا اچھا لگتا ہے مجھے تتلی کا پھولوں پر بھٹکنا اچھا لگتا ہے مجھے برسات میں پھیلی دھنک بھی اچھی لگتی ہے مجھے ہاتھوں میں چوڑی کی کھنک بھی اچھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4178 سے 5858