شاعری

نظم

الاماں تازیانے گنہ گار ہاتھوں میں ہیں بے گناہوں کی خیر وہ جو قاضی عدالت گواہ و سند علم و دانش اور تحریر سے منسلک اک روایت کی تہذیب تھی وہ کہیں کھو گئی ایک لمبا سفر رک گیا کس لیے رک گیا الحذر! الحذر! یہ درندہ صفت نیم وحشی مبتلائے جنوں تازیانے لیے تازیانوں کی زد میں تڑپتا بدن خوں ...

مزید پڑھیے

زخمی انگلیوں سے ایک نظم

وہ لڑکی کسی اور بستی کی رہنے والی تھی جو پتھر پہ پھول اگانے کی خواہش میں انگلیاں زخمی کر بیٹھی سنا ہے اس کی بستی میں پھول اور محبت جیون کا لازمی حصہ تھے وہاں لفظوں میں پھول کھلتے تھے اور آنکھوں سے محبت کی کرنیں پھوٹتی تھیں جو کوئی اس بستی میں آتا چند اچھے لفظوں کے بدلے ڈھیروں ...

مزید پڑھیے

آخری لفظ

پتھر جسم کے اندر ٹوٹے پانی روح میں آگ جگائے کیسی محبت کیسی نفرت ساری باتیں لفظ کی ریت سے بنے گھروندے ہیں لفظوں کے اس کھیل میں سب کچھ کھونے سے اچھا ہے پچھلے زخم ادھیڑو اور رستے خون سے اپنا نام لکھو

مزید پڑھیے

میری بیٹی چلنا سیکھ گئی

میری بیٹی انگلی چھوڑ کے چلنا سیکھ گئی سنگ میل پہ ہندسوں کی پہچان سے آگے آتے جاتے رستوں کے ہر نام سے آگے پڑھنا سیکھ گئی جلتی بجھتی روشنیوں اور رنگوں کی ترتیب سفر کی سمتوں اور گاڑی کے پہیوں میں الجھی راہوں پر آگے بڑھنا سیکھ گئی میری بیٹی دنیا کے نقشے میں اپنی مرضی کے رنگوں کو ...

مزید پڑھیے

وہ اک لمحہ

بیت گئے ہیں کتنے دن جب تم نے یہ مجھ سے کہا تھا تم مجھ کو اچھی لگتی ہو اور میرے ہاتھوں پر تم نے ایک وہ لمحہ چھوڑ دیا تھا وہ لمحہ جو ان دیکھی زنجیر کی صورت روح سے لپٹا دل میں اترا خون میں تیر گیا آج اسی لمحے کو تھامے کھڑی ہوئی ہوں سیڑھی پر

مزید پڑھیے

جن خواہشوں کو دیکھتی رہتی تھی خواب میں

جن خواہشوں کو دیکھتی رہتی تھی خواب میں اب لکھ رہی ہوں ان کو حقیقت کے باب میں اک جھیل کے کنارے پرندوں کے درمیاں سورج کو ہوتے دیکھا تھا تحلیل آب میں خوابوں پہ اختیار نہ یادوں پہ زور ہے کب زندگی گزاری ہے اپنے حساب میں اک ہاتھ اس کا جال پہ پتوار ایک میں اور ڈوبتا وجود مرا سیل آب ...

مزید پڑھیے

قربتوں میں فاصلے کچھ اور ہیں

قربتوں میں فاصلے کچھ اور ہیں خواہشوں کے زاویے کچھ اور ہیں سن رہے ہیں کان جو کہتے ہیں سب لوگ لیکن سوچتے کچھ اور ہیں رہبری اب شرط منزل کب رہی آؤ ڈھونڈیں راستے کچھ اور ہیں یہ تو اک بستی تھکے لوگوں کی ہے راہ میں جو لٹ گئے کچھ اور ہیں مل رہے ہیں گرچہ پہلے کی طرح وہ مگر اب چاہتے کچھ ...

مزید پڑھیے

میں ٹوٹ کر اسے چاہوں یہ اختیار بھی ہو

میں ٹوٹ کر اسے چاہوں یہ اختیار بھی ہو سمیٹ لے گا مجھے اس کا اعتبار بھی ہو نئی رتوں میں وہ کچھ اور بھی قریب آئے گئی رتوں کا سلگتا سا انتظار بھی ہو میں اس کے ساتھ کو ہر لمحہ معتبر جانوں وہ ہم سفر ہے تو مجھ سا ہی بے دیار بھی ہو مرے خلوص کا انداز یہ بھی سچا ہے رکھوں نہ ربط مگر دوستی ...

مزید پڑھیے

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کا

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کا جو اک الاؤ ہے جلتی ہوئی رفاقت کا جسے بھی دیکھو چلا جا رہا ہے تیزی سے اگرچہ کام یہاں کچھ نہیں ہے عجلت کا دکھائی دیتا ہے جو کچھ کہیں وہ خواب نہ ہو جو سن رہی ہوں وہ دھوکا نہ ہو سماعت کا یقین کرنے لگے لوگ رت بدلتی ہے مگر یہ سچ بھی کرشمہ نہ ہو خطابت ...

مزید پڑھیے

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے سنوارنے کے لیے اپنا گھر بھی رکھنا ہے ہوا سے آگ سے پانی سے متصل رہ کر انہیں سے اپنی تباہی کا ڈر بھی رکھنا ہے مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے یہ کیا سفر کے لیے ہجرتیں جواز بنیں جو واپسی کا ہو ایسا سفر بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4179 سے 5858