شاعری

سروں پہ دھوپ کا اک سائبان رہنے دے

سروں پہ دھوپ کا اک سائبان رہنے دے زمیں رہے نہ رہے آسمان رہنے دے میں آگہی کی فصیلوں کو چوم آیا ہوں مرے خدا تو مجھے بے زبان رہنے دے امیر شہر کا ایوان کانپ اٹھے گا غریب شہر ہوں میرا بیان رہنے دے مرے خدا ترے دوزخ کو خلد سمجھوں گا میں اک بشر ہوں مرا امتحان رہنے دے مہک تو گل کی ہر اک ...

مزید پڑھیے

کچھ کام تو آیا دل ناکام ہمارا

کچھ کام تو آیا دل ناکام ہمارا ٹوٹا ہے تو ٹوٹا ہی سہی جام ہمارا جتنا اسے سمجھا کئے بیگانۂ تاثیر اتنا تو نہ تھا جذبۂ دل خام ہمارا یہ کون مقام آیا قدم اٹھتے نہیں ہیں منزل پہ ٹھہرنا تو نہ تھا کام ہمارا ہم جیسے تڑپتے ہیں تڑپتے رہے دن رات کچھ کر نہ سکی گردش ایام ہمارا یہ گردش ...

مزید پڑھیے

چلا ہوں اپنی منزل کی طرف تو شادماں ہو کر

چلا ہوں اپنی منزل کی طرف تو شادماں ہو کر کہیں مایوسیٔ دل ہو نہ رہزن پاسباں ہو کر ہماری داستاں ہو کر تمہاری داستاں ہو کر کہاں پہنچی محبت کارواں در کارواں ہو کر مرے ذوق عبودی کی تکمیل اے معاذ اللہ جبیں انعام سجدہ دے رہی ہے آستاں ہو کر خود اپنے سوز سے جلنا تو ہر اک شمع کو آیا وہ ...

مزید پڑھیے

جرأت عشق ہوس کار ہوئی جاتی ہے

جرأت عشق ہوس کار ہوئی جاتی ہے بے پیے توبہ گنہ گار ہوئی جاتی ہے دل ہے افسردہ تو بے رنگ ہے ہر رنگ بہار بوئے گل بھی خلش خار ہوئی جاتی ہے باوجودیکہ جنوں پر ہیں خرد کے پہرے پھر بھی زنجیر کی جھنکار ہوئی جاتی ہے ہر نفس موج فنا تیرے تھپیڑوں کے طفیل کشتئ عمر رواں پار ہوئی جاتی ہے جو ...

مزید پڑھیے

تم حریم ناز میں بیٹھے ہو بیگانے بنے

تم حریم ناز میں بیٹھے ہو بیگانے بنے جستجو میں اہل دل پھرتے ہیں دیوانے بنے سب کو ساقی نے نہیں بخشا دل درد آشنا جتنے اہل ظرف تھے اتنے ہی پیمانے بنے جلوۂ حسن اور سوز عشق دونوں ایک ہیں شمع کی لو تھرتھرانے ہی سے پروانے بنے موج طوفاں خیز اٹھ کر چھین لے ساحل کی آس ناخدا کے آتے آتے کیا ...

مزید پڑھیے

سعی غیر حاصل کو مدعا نہیں ملتا

سعی غیر حاصل کو مدعا نہیں ملتا بے نیاز دل بن کر دیکھ کیا نہیں ملتا زندگیٔ رفتہ کا کچھ پتا نہیں ملتا خاک پا تو ملتی ہے نقش پا نہیں ملتا اس کا آئنہ ہے دل جا بہ جا نہیں ملتا دل میں جب ہو تاریکی پھر خدا نہیں ملتا آمد بہاراں کا اک پیام لانے سے کیوں ترا دماغ آخر اے صبا نہیں ملتا آئنہ ...

مزید پڑھیے

کلی کلی کا بدن پھوڑ کر جو نکلا ہے

کلی کلی کا بدن پھوڑ کر جو نکلا ہے وہ زندگی کا نہیں موت کا تقاضا ہے ہر ایک جھوٹا پیمبر ہے یہ بھی ٹھیک نہیں کہیں کہیں تو مگر سب کے ساتھ گھپلا ہے میں اس کا برف بدن روندھ کر پشیماں ہوں مگر جو دور کھڑے ہیں انہیں وہ شعلہ ہے جو تھوکتا ہے ہر ایک چیز کو اندھیرے سے کبھی کبھی وہی دن مجھ میں ...

مزید پڑھیے

نہ کر شمار کہ ہر شے گنی نہیں جاتی

نہ کر شمار کہ ہر شے گنی نہیں جاتی یہ زندگی ہے حسابوں سے جی نہیں جاتی یہ نرم لہجہ یہ رنگینئ بیاں یہ خلوص مگر لڑائی تو ایسے لڑی نہیں جاتی سلگتے دن میں تھی باہر بدن میں شب کو رہی بچھڑ کے مجھ سے بس اک تیرگی نہیں جاتی نقاب ڈال دو جلتے اداس سورج پر اندھیرے جسم میں کیوں روشنی نہیں ...

مزید پڑھیے

اس کمرے میں خواب رکھے تھے کون یہاں پر آیا تھا

اس کمرے میں خواب رکھے تھے کون یہاں پر آیا تھا گم سم روشندانو بولو کیا تم نے کچھ دیکھا تھا اندھے گھر میں ہر جانب سے بد روحوں کی یورش تھی بجلی جلنے سے پہلے تک وہ سب تھیں میں تنہا تھا مجھ سے چوتھی بنچ کے اوپر کل شب جو دو سائے تھے جانے کیوں ایسا لگتا ہے اک تیرے سائے سا تھا سورج اونچا ...

مزید پڑھیے

رشتہ کھجیایا ہوا کتا ہے

رشتہ کھجیایا ہوا کتا ہے ایک کونے میں پٹک رکھا ہے رات کو خواب بہت دیکھے ہیں آج غم کل سے ذرا ہلکا ہے میں اسے یوں ہی بچا دیتا ہوں وہ نشانے پہ کھنچا بیٹھا ہے جب بھی چوکو گے پھسل جائے گا ہاں وہ گرنے پہ تلا بیٹھا ہے رات سورج کو نگل ہی لے گی پھر بھی دن اپنی جگہ بڑھیا ہے کون سے جلتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4169 سے 5858