جو رنگ اڑا وہ رنگ آخر لایا
جو رنگ اڑا وہ رنگ آخر لایا درد و غم و سوز و ساز کیا کیا پایا سب جینے کا مزہ ملا محبت کر کے صد شکر فراق کو دکھانا آیا
جو رنگ اڑا وہ رنگ آخر لایا درد و غم و سوز و ساز کیا کیا پایا سب جینے کا مزہ ملا محبت کر کے صد شکر فراق کو دکھانا آیا
ہر سانس میں گل زار سے کھل جاتے تھے ہر لمحہ میں جنت کی ہوا کھاتے تھے کیا تجھ کو محبت کے وہ ایام ہیں یاد جب پردۂ شب بجتے تھے دن گاتے تھے
افسردہ فضا پہ جیسے چھایا ہو ہراس دنیا کو کوئی ہوا بھی آتی نہیں راس ڈوبی جاتی ہو جیسے نبض کونین جس بات پہ حسن آج اتنا ہے اداس
پاتے جانا ہے اور نہ کھوتے جانا ہنستے جانا ہے اور نہ روتے جانا اول اور آخری پیام تہذیب انسان کو انسان ہے ہوتے جانا
جس طرح ندی میں ایک تارا لہرائے جس طرح گھٹا میں ایک کوندا بل کھائے برمائے فضا کو جیسے اک چندر کرن یونہی شام فراق تیری یاد آئے
تو ہاتھ کو جب ہاتھ میں لے لیتی ہے دکھ درد زمانے کے مٹا دیتی ہے سنسار کے تپتے ہوئے ویرانے میں سکھ شانت کی گویا تو ہری کھیتی ہے
مکھڑا دیکھیں تو ماہ پارے چھپ جائیں خورشید کی آنکھ کے شرارے چھپ جائیں رہ جانا وہ مسکرا کے تیرا کل رات جیسے کچھ جھلملا کے تارے چھپ جائیں
پریمی کو بخار اٹھ نہیں سکتی ہے پلک بیٹھی ہے سرہانے ماند مکھڑے کی دمک جلتی ہوئی پیشانی پہ رکھ دیتی ہے ہاتھ پڑ جاتی ہے بیمار کے دل میں ٹھنڈک
سر تا بہ قدم رخ نگاریں ہے کہ تن ہیں عضو حسیں کہ بول اٹھنے کو دہن یہ مستی و کیف یہ جماہی یہ جھپک اک ادھ کھلی نرگس خماریں ہے بدن
اے روپ کی لکشمی یہ جلووں کا راگ یہ جادوئے کام روپ یہ حسن کی آگ خیر و برکت جہان میں تیرے دم سے تیری کومل ہنسی محبت کا سہاگ