آواز پہ سنگیت کا ہوتا ہے بھرم
آواز پہ سنگیت کا ہوتا ہے بھرم کروٹ لیتی ہے نرم لے میں سرگم یہ بول سریلے تھرتھراتی ہے فضا ان دیکھے ساز کا کھنکنا پیہم
آواز پہ سنگیت کا ہوتا ہے بھرم کروٹ لیتی ہے نرم لے میں سرگم یہ بول سریلے تھرتھراتی ہے فضا ان دیکھے ساز کا کھنکنا پیہم
صحرا میں زماں مکاں کے کھو جاتی ہیں صدیوں بیدار رہ کے سو جاتی ہیں اکثر سوچا کیا ہوں خلوت میں فراقؔ تہذیبیں کیوں غروب ہو جاتی ہیں
گیسو بکھرے ہوئے گھٹائیں بے خود آنچل لٹکا ہوا ہوائیں بے خود پر کیف شباب سے ادائیں بے خود گاتی ہوئی سانس سے فضائیں بے خود
کومل پد گامنی کی آہٹ تو سنو گاتے قدموں کی گنگناہٹ تو سنو ساون لہرا ہے مد میں ڈوبا ہوا روپ رس کی بوندوں کی جھمجھماہٹ تو سنو
زلفوں سے فضاؤں میں اداہٹ کا سماں مکھڑا ہے کہ آگ میں تراوٹ کا سماں یہ سوز و گداز قد رعنا! جیسے ہیرے کے منار میں گھلاوٹ کا سماں
ثانی نہیں تیرا نہ کوئی تیری مثال کس خواب کی تعبیر ہے یہ شان جمال سینے میں یکسوئی کے پلتے پلتے جیسے صورت پکڑ لے یزداں کا خیال
یہ شعلۂ حسن جیسے بجتا ہو ستار ہر خط بدن کی لو میں مدھم جھنکار رنگین نگاہ سے کھل اٹھتے ہیں چمن رس ہونٹوں کا پی کے جھوم اٹھتی ہے بہار
امرت وہ ہلاہل کو بنا دیتی ہے غصے کی نظر پھول کھلا دیتی ہے ماں لاڈلی اولاد کو جیسے تاڑے کس پیار سے پریمی کو سزا دیتی ہے
آنکھوں میں وہ رس جو پتی پتی دھو جائے زلفوں کے فسوں سے مار سنبل سو جائے جس وقت تو سیر گلستاں کرتا ہو ہر پھول کا رنگ اور گہرا ہو جائے
چڑھتی ہوئی ندی ہے کہ لہراتی ہے پگھلی ہوئی بجلی ہے کہ بل کھاتی ہے پہلو میں لہک کے بھینچ لیتی ہے وہ جب کیا جانے کہاں بہا لے جاتی ہے