چھاؤں کو تکتے دھوپ میں چلتے ایک زمانہ بیت گیا
چھاؤں کو تکتے دھوپ میں چلتے ایک زمانہ بیت گیا حسرتوں کی آغوش میں پلتے ایک زمانہ بیت گیا آج بھی ہیں وہ سلگے سلگے تیرے لب و عارض کی طرح جن زخموں پر پنکھا جھلتے ایک زمانہ بیت گیا میں اب اپنا جسم نہیں ہوں صرف تمہارا سایہ ہوں موسم کی یہ برف پگھلتے ایک زمانہ بیت گیا اب تک اپنے ہاتھ ...