شاعری

چھاؤں کو تکتے دھوپ میں چلتے ایک زمانہ بیت گیا

چھاؤں کو تکتے دھوپ میں چلتے ایک زمانہ بیت گیا حسرتوں کی آغوش میں پلتے ایک زمانہ بیت گیا آج بھی ہیں وہ سلگے سلگے تیرے لب و عارض کی طرح جن زخموں پر پنکھا جھلتے ایک زمانہ بیت گیا میں اب اپنا جسم نہیں ہوں صرف تمہارا سایہ ہوں موسم کی یہ برف پگھلتے ایک زمانہ بیت گیا اب تک اپنے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

مدتوں کے بعد پھر کنج حرا روشن ہوا

مدتوں کے بعد پھر کنج حرا روشن ہوا کس کے لب پر دیکھنا حرف دعا روشن ہوا روح کو آلائش غم سے کبھی خالی نہ رکھ یعنی بے زنگار کس کا آئنا روشن ہوا یہ تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون ہو گئے ہم راکھ تو دست دعا روشن ہوا رات جنگل کا سفر سب ہم سفر بچھڑے ہوئے دے نہ ہم کو یہ بشارت راستا ...

مزید پڑھیے

اقرا کی سوغات کی صورت آ

اقرا کی سوغات کی صورت آ ہونٹوں پر آیات کی صورت آ سوکھ چلے ہیں آنگن کے پودے بے موسم برسات کی صورت آ شاخ یقیں کی بے ثمری اور میں بار آور شبہات کی صورت آ میں پروردہ تیرہ بختی کا میرے گھر تو رات کی صورت آ میں اپنی تحدید میں ہوں مشغول آ توسیع ذات کی صورت آ فکر کے تیرہ خانے روشن ...

مزید پڑھیے

تھا کہاں لکھنا اسے لیکن کہاں پر لکھ دیا

تھا کہاں لکھنا اسے لیکن کہاں پر لکھ دیا میں زمیں کا حرف مجھ کو آسماں پر لکھ دیا جس کے پڑھنے سے رہی قاصر بھنور کی آنکھ بھی کون جانے کیا ہوا نے بادباں پر لکھ دیا کچھ تو کر دریا مرے ان کو ڈبو یا پار کر کشتیوں نے اپنا دکھ آب رواں پر لکھ دیا بیٹھ کر اب زرد پتوں کے ورق پلٹا کرو تبصرہ ...

مزید پڑھیے

زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا

زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا یہ کیسا بوجھ ہمارے بدن پہ آن گرا بہت سنبھال کے رکھ بے ثبات لمحوں کو ذرا جو سنکی ہوا ریت کا مکان گرا اس آئینے ہی میں لوگوں نے خود کو پہچانا بھلا ہوا کہ میں چہروں کے درمیان گرا رفیق سمت سفر ہوگی جو ہوا ہوگی یہ سوچ کر نہ سفینے کا بادبان گرا میں اپنے ...

مزید پڑھیے

عجب ٹھہراؤ تھا جس میں مسافت ہو رہی تھی

عجب ٹھہراؤ تھا جس میں مسافت ہو رہی تھی روانہ بھی نہیں تھا اور ہجرت ہو رہی تھی بنایا جا رہا تھا کینوس پر زرد سورج ابھارا جا رہا تھا نقش حیرت ہو رہی تھی کہیں جاتا نہیں تھا میں کہیں آتا نہیں تھا یقیں آتا نہیں تھا ایسی حالت ہو رہی تھی مرا اس کے بنا تو جی ذرا لگتا نہیں تھا اداسی لوٹ ...

مزید پڑھیے

ایک دوجے کو جانتے ہی نہیں

ایک دوجے کو جانتے ہی نہیں اب کھلا ہے کہ ہم وہ تھے ہی نہیں جتنے پتھر ہوا کے ہاتھ میں ہیں سر خاک اتنے آئنے ہی نہیں ایسی ہموار رہ گزر تھی مری کہیں سیدھے قدم پڑے ہی نہیں خواب ہیں اور کچھ ملال بھی ہیں آنکھ میں صرف رت جگے ہی نہیں سن اداسی کے وہ چراغ ہیں ہم جل رہے ہیں کبھی بجھے ہی ...

مزید پڑھیے

بدن کا رمز سمجھ روح کا اشارہ سمجھ

بدن کا رمز سمجھ روح کا اشارہ سمجھ مجھے سمجھ نہ سمجھ دکھ مرا خدارا سمجھ تجھے ہم اور کسی کا نہ ہونے دیں گے کبھی تو بھا گیا ہے ہمیں خود کو اب ہمارا سمجھ جو تیرگی میں تجھے کچھ دکھائی دیتا نہیں سمجھ میں آئے تو اس کو بھی اک نظارہ سمجھ نہیں تو وقت ہی سمجھائے گا تجھے اک دن میں چاہتا ہوں ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کر عشق کیا ہے بھی نہیں بھی شاید

ٹوٹ کر عشق کیا ہے بھی نہیں بھی شاید مجھ سے یہ کام ہوا ہے بھی نہیں بھی شاید اے مری آنکھ کی دہلیز پہ دم توڑتے خواب مجھ کو افسوس ترا ہے بھی نہیں بھی شاید میری آنکھوں میں ہے ویرانی بھی شادابی بھی خواب کا پیڑ ہرا ہے بھی نہیں بھی شاید دل میں تشکیک ہوئی تجھ کو نہ چھو کر کیا کیا ایسے ...

مزید پڑھیے

آہ کو باد صبا درد کو خوشبو لکھنا

آہ کو باد صبا درد کو خوشبو لکھنا ہے بجا زخم بدن کو گل خود رو لکھنا درد بھیگی ہوئی راتوں میں چمک اٹھا ہے ہم کو لکھنا ہے تو برسات کا جگنو لکھنا خواب ٹکرا کے حقائق سے ہوئے صد پارہ اب انہیں آنکھ سے ڈھلکے ہوئے آنسو لکھنا تو نے سلطانیٔ جمہور بدل دیں قدریں آج فرہاد کو مشکل نہیں خسرو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4147 سے 5858