شاعری

اب کیا بتاؤں شہر یہ کیسا لگا مجھے

اب کیا بتاؤں شہر یہ کیسا لگا مجھے ہر شخص اپنے خون کا پیاسا لگا مجھے خفگی ہو یا جفائیں ہوں یا مہربانیاں ہر رنگ چشم ناز کا اچھا لگا مجھے دیکھا جو غور سے تو وہ جھونکا ہوا کا تھا تم خود ہی چھم سے آئی ہو ایسا لگا مجھے وہ شخص جس سے پہلے کبھی آشنا نہ تھا نزدیک سے جو دیکھا تو اپنا لگا ...

مزید پڑھیے

نہ میں یقین میں رکھوں نہ تو گمان میں رکھ

نہ میں یقین میں رکھوں نہ تو گمان میں رکھ ہے سب کی بات تو پھر سب کے درمیان میں رکھ وہ دھوپ میں جو رہے گا تو روپ کھو دے گا چھپا لے سینے میں پلکوں کے سائبان میں رکھ مرے بدن کو تو اپنے بدن کی آنچ نہ دے جو ہو سکے تو مری جان اپنی جان میں رکھ نہ بیٹھنے دے کبھی عزم کے پرندے کو اڑان بھول نہ ...

مزید پڑھیے

یہ سچ نہیں کہ تمازت سے ڈر گئی ہے ندی

یہ سچ نہیں کہ تمازت سے ڈر گئی ہے ندی سکون دل کے لیے اپنے گھر گئی ہے ندی ابھی تو پہنے ہوئی تھی لباس خاموشی یہ کیا ہوا کہ اچانک بپھر گئی ہے ندی ہمیں یہ ڈر ہے کہ پھر سے بپھر نہ جائے کہیں قدم بڑھاؤ کہ اس وقت اتر گئی ہے ندی وہ شخص تڑپا نہ چلایا اور مر بھی گیا پتا چلا نہیں کب وار کر گئی ...

مزید پڑھیے

امید کی کوئی چادر تو سامنے آئے

امید کی کوئی چادر تو سامنے آئے میں رک بھی جاؤں ترا گھر تو سامنے آئے میں راہ عشق میں خود کو فنا بھی کر دوں گا مرے حبیب وہ منظر تو سامنے آئے ہمارے بازو کا دنیا کمال دیکھے گی عدو کا کوئی بھی لشکر تو سامنے آئے میں احترام سے دستار اس کے سر باندھوں وہ فن شناس سخنور تو سامنے آئے کروں ...

مزید پڑھیے

دوستوں کی عطا ہے خاموشی

دوستوں کی عطا ہے خاموشی اب مرا مدعا ہے خاموشی علم کی ابتدا ہے ہنگامہ علم کی انتہا ہے خاموشی درد کے شہر میں ہے گھر میرا میرے گھر کا پتا ہے خاموشی اس طرف میں ہوں اس طرف وہ ہیں بیچ کا فاصلہ ہے خاموشی بھیگتی رات کی ہتھیلی پر مثل رنگ حنا ہے خاموشی دوستو خود تلک پہنچنے کا مختصر ...

مزید پڑھیے

وہ ظلم و ستم ڈھائے اور مجھ سے وفا مانگے

وہ ظلم و ستم ڈھائے اور مجھ سے وفا مانگے جیسے کوئی گل کر کے دیپک سے ضیا مانگے جینا بڑی نعمت ہے جینے کا چلن سیکھیں اچھا تو نہیں کوئی مرنے کی دعا مانگے غم بھی ہے اداسی بھی تنہائی بھی آنسو بھی سب کچھ تو میسر ہے دل مانگے تو کیا مانگے آئین وطن پر تو دل وار چکے اپنا ناموس وطن ہم سے اب ...

مزید پڑھیے

اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گا

اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گا وہ مہرباں نہیں ایسا کہ حال پوچھے گا جواب دے نہ سکو گے پلٹ کے ماضی کو اک ایک لمحہ وہ چبھتے سوال پوچھے گا دلوں کے زخم دہن میں زباں نہیں رکھتے تو کس سے ذائقۂ اندمال پوچھے گا کبھی تو لا کے ملا مجھ سے میرے قاتل کو جو سر ہے دوش پہ تیرے وبال پوچھے گا یہ ...

مزید پڑھیے

تو ہے معنی پردۂ الفاظ سے باہر تو آ

تو ہے معنی پردۂ الفاظ سے باہر تو آ ایسے پس منظر میں کیا رہنا سر منظر تو آ آج کے سارے حقائق واہموں کی زد میں ہیں ڈھالنا ہے تجھ کو خوابوں سے کوئی پیکر تو آ تو سہی اک عکس لیکن یہ حصار آئنہ لوگ تجھ کو دیکھنا چاہیں برون در تو آ ذائقہ زخموں کا یوں کیسے سمجھ میں آئے گا پھینکنا ہے بند ...

مزید پڑھیے

چہرہ سالم نہ نظر ہی قائم

چہرہ سالم نہ نظر ہی قائم بے ستوں سب کی حویلی قائم ہاتھ سے موجوں نے رکھ دی پتوار کیسے دھارے پہ ہے کشتی قائم زیست ہے کچے گھڑے کے مانند بہتے پانی پہ ہے مٹی قائم سائے دیوار کے ٹیڑھے ترچھے اور دیوار کہ سیدھی قائم سب ہیں ٹوٹی ہوئی قدروں کے کھنڈر کون ہے وضع پہ اپنی قائم خود کو کس ...

مزید پڑھیے

یہ کیا بتائیں کہ کس رہ گزر کی گرد ہوئے

یہ کیا بتائیں کہ کس رہ گزر کی گرد ہوئے ہم ایسے لوگ خود اپنے سفر کی گرد ہوئے نجات یوں بھی بکھرنے کے کرب سے نہ ملی ہوئے جو آئنہ سب کی نظر کی گرد ہوئے یہ کن دکھوں نے چم و خم تمام چھین لیا شعاع مہر سے ہم بھی شرر کی گرد ہوئے سب اپنے اپنے افق پر چمک کے تھوڑی دیر مجھے تو دامن شام و سحر کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4146 سے 5858