اب کیا بتاؤں شہر یہ کیسا لگا مجھے
اب کیا بتاؤں شہر یہ کیسا لگا مجھے ہر شخص اپنے خون کا پیاسا لگا مجھے خفگی ہو یا جفائیں ہوں یا مہربانیاں ہر رنگ چشم ناز کا اچھا لگا مجھے دیکھا جو غور سے تو وہ جھونکا ہوا کا تھا تم خود ہی چھم سے آئی ہو ایسا لگا مجھے وہ شخص جس سے پہلے کبھی آشنا نہ تھا نزدیک سے جو دیکھا تو اپنا لگا ...