نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے
نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے امید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہے نہ دیکھوں تجھ کو تو آتا نہیں کچھ آہ نظر تو میری پتلی کا آنکھوں کی یار تارا ہے مجھے جو بام پہ شب کو بلائے ہے وہ ماہ مگر عروج پہ کیا ان دنوں ستارا ہے یقین جان تو واعظ کہ دین و دنیا میں بس اس کی صرف مجھے ذات کا سہارا ...