شاعری

افق سے آگ اتر آئی ہے مرے گھر بھی

افق سے آگ اتر آئی ہے مرے گھر بھی شکست ہوتے ہیں کیا شہر اپنے اندر بھی یہ آب و تاب اسی مرحلے پہ ختم نہیں کوئی چراغ ہے اس آئنے سے باہر بھی خمیر جس نے اٹھایا ہے خاک سے میرا اسی نے خواب سے کھینچا ہے میرا جوہر بھی میں ڈھونڈ لوں گا کوئی راستہ پلٹنے کا جو بند ہوگا کبھی مجھ پہ آپ کا در ...

مزید پڑھیے

غم گردش دوراں کے بھلائے نہیں جاتے

غم گردش دوراں کے بھلائے نہیں جاتے اب زخم دل و جاں کے چھپائے نہیں جاتے کیا روح کی گہرائی میں تم جھانک رہے ہو اب راز محبت کے چھپائے نہیں جاتے جن راہ گزاروں پہ ترے نقش قدم ہیں وہ نقش قدم ہم سے مٹائے نہیں جاتے ظلمت کے مناظر سے رہا ہو گئیں نظریں ذہنوں سے مگر خوف کے سائے نہیں ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ اے مرے غمخوار کیا تمنا تھی

نہ پوچھ اے مرے غمخوار کیا تمنا تھی دل حزیں میں بھی آباد ایک دنیا تھی ہر اک نظر تھی ہمارے ہی چاک داماں پر ہر ایک ساعت غم جیسے اک تماشا تھی ہمیں بھی اب در و دیوار گھر کے یاد آئے جو گھر میں تھے تو ہمیں آرزوئے صحرا تھی کوئی بچاتا ہمیں پھر بھی ڈوب ہی جاتے ہمارے واسطے زنجیر موج دریا ...

مزید پڑھیے

شام الم بھی گزری پہلو بدل بدل کر

شام الم بھی گزری پہلو بدل بدل کر روتا رہا ہے یہ دل پہروں مچل مچل کر منزل کی جستجو میں پہنچے کہاں کہاں ہم دیکھا کیے تماشہ رستے بدل بدل کر شہر وفا میں ہم نے سب کچھ لٹا دیا ہے یہ بات ان سے کہنا لوگو سنبھل سنبھل کر کیا ضد کریں گے تجھ سے اے گردش زمانہ ہنسنا بھی آ گیا ہے غم سے بہل بہل ...

مزید پڑھیے

شجر امید بھی جل گیا وہ وفا کی شاخ بھی جل گئی

شجر امید بھی جل گیا وہ وفا کی شاخ بھی جل گئی مرے دل کا نقشہ بدل گیا مری صبح رات میں ڈھل گئی وہی زندگی جو بہر نفس جو بہر قدم مرے ساتھ تھی کبھی میرا ساتھ بھی چھوڑ کر مری منزلیں بھی بدل گئی نہ وہ آرزو ہے نہ جستجو نہ کوئی تصور رنگ و بو لیے دل میں داغ غم خزاں میں چمن سے دور نکل گئی تری ...

مزید پڑھیے

شاید ابھی کمی سی مسیحائیوں میں ہے

شاید ابھی کمی سی مسیحائیوں میں ہے جو درد ہے وہ روح کی گہرائیوں میں ہے جس کو کبھی خیال کا پیکر نہ مل سکا وہ عکس میرے ذہن کی رعنائیوں میں ہے کل تک تو زندگی تھی تماشا بنی ہوئی اور آج زندگی بھی تماشائیوں میں ہے ہے کس لیے یہ وسعت دامان التفات دل کا سکون تو انہی تنہائیوں میں ہے یہ ...

مزید پڑھیے

یاد کرنے کا تمہیں کوئی ارادہ بھی نہ تھا

یاد کرنے کا تمہیں کوئی ارادہ بھی نہ تھا اور تمہیں دل سے بھلا دیں یہ گوارا بھی نہ تھا ہر طرف تپتی ہوئی دھوپ تھی اے عمر رواں دور تک دشت الم میں کوئی سایا بھی نہ تھا مشعل جاں بھی جلائی نہ گئی تھی ہم سے اور پلکوں پہ شب غم کوئی تارا بھی نہ تھا ہم سر راہ وفا اس کو صدا کیا دیتے جانے والے ...

مزید پڑھیے

جہاں بھر میں مرے دل سا کوئی گھر ہو نہیں سکتا

جہاں بھر میں مرے دل سا کوئی گھر ہو نہیں سکتا کہ ایسی خاک پر ایسا سمندر ہو نہیں سکتا رواں رہتا ہے کیسے چین سے اپنے کناروں میں یہ دریا میری بیتابی کا مظہر ہو نہیں سکتا کسی کی یاد سے دل کا اندھیرا اور بڑھتا ہے یہ گھر میرے سلگنے سے منور ہو نہیں سکتا بہت بے تاب ہوتا ہوں میں اس کو ...

مزید پڑھیے

لہو کی آگ اگر جلتی رہے گی

لہو کی آگ اگر جلتی رہے گی ہماری دال بھی گلتی رہے گی بھروسا ہے اگر دنیا کو ہم پر ہمارے رنگ میں ڈھلتی رہے گی محبت ہے اگر سچی ہماری متاع خواب پر پلتی رہے گی چمن اب دیر تک رقصاں رہے گا ہوا اب دیر تک چلتی رہے گی کہاں آئے گی اپنے وقت پر موت وہ اگلے روز پر ٹلتی رہے گی جہاں میں سرخ رو ...

مزید پڑھیے

آج آئینے میں جو کچھ بھی نظر آتا ہے

آج آئینے میں جو کچھ بھی نظر آتا ہے اس کے ہونے پہ یقیں بار دگر آتا ہے ذہن و دل کرتا ہوں جب رنج جہاں سے خالی کوئی بے طرح مری روح میں در آتا ہے گفتگو کرتے ہوئے جاتے ہیں پھولوں کے گروہ اور چپکے سے درختوں پہ ثمر آتا ہے بچ نکلنے پہ مرے خوش نہیں وہ جان بہار کوئی الزام مکرر مرے سر آتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4083 سے 5858