شاعری

توڑ سکو تم شاخ سے مجھ کو ایسی تو میں کلی نہیں ہوں

توڑ سکو تم شاخ سے مجھ کو ایسی تو میں کلی نہیں ہوں روک سکو تم میری راہیں اتنی اتھلی ندی نہیں ہوں میری باتیں سیدھی سادی مکاری سے بھرے ہوئے تم میرے پاس تو سچائی ہے جھوٹ کپٹ سے بندھی نہیں ہوں بنے ہیں میں نے اپنے سپنے خود ہی اپنی راہ بنائی راہ سے تم بھٹکا دو مجھ کو نیند میں ایسی گھری ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں آنسو ٹھہرا ہے

آنکھ میں آنسو ٹھہرا ہے دل پر غم کا پہرا ہے اک دن بھر ہی جائے گا گھاؤ جو دل میں گہرا ہے میری چاروں سمت ابھی رنج و الم کا صحرا ہے خوف کہاں میرے دل میں یہ سردی کا لہرا ہے میری بات پہ کیوں چپ ہے کیا تو گونگا بہرا ہے

مزید پڑھیے

اک تو ہی برباد نہیں

اک تو ہی برباد نہیں کوئی یہاں آباد نہیں میرا دکھ ہے میں جانوں تجھ سے تو فریاد نہیں غم کی ماری دنیا میں کون ہے جو ناشاد نہیں سب ہیں اس کے قبضے میں کوئی یہاں آزاد نہیں ڈر مت اے پنچھی مجھ سے ساتھی ہوں صیاد نہیں

مزید پڑھیے

آنکھوں میں نئے رنگ سجانے نہیں اترے

آنکھوں میں نئے رنگ سجانے نہیں اترے اک عمر ہوئی خواب سہانے نہیں اترے آکاش پہ اڑتے رہے پانی کے پرندے کھیتوں کی مرے پیاس بجھانے نہیں اترے ہر موج تھی بے چین بہکنے کو کبھی سے خود آپ ہی دریا میں نہانے نہیں اترے بے نور ہیں چہرے یہاں مایوس ہے ہر دل امید کی کرنوں کے خزانے نہیں ...

مزید پڑھیے

اردو زباں

یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا، مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پر کہ جیسے پان میں مہنگا قمام گھلتا ہے یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا۔۔۔۔ نشہ آتا ہے اردو بولنے میں گلوری کی طرح ہیں منہ لگی سب اصطلاحیں لطف دیتی ہے، حلق چھوتی ہے اردو تو، حلق سے جیسے مے کا گھونٹ اترتا ہے بڑی ارسٹوکریسی ہے زباں ...

مزید پڑھیے

دل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غم

دل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غم جیسے جنگل میں شام کے سائے جاتے جاتے سہم کے رک جائیں مر کے دیکھیں اداس راہوں پر کیسے بجھتے ہوئے اجالوں میں دور تک دھول ہی دھول اڑتی ہے!

مزید پڑھیے

برف پگھلے گی

برف پگھلے گی جب پہاڑوں سے اور وادی سے کہرا سمٹے گا بیج انگڑائی لے کے جاگیں گے اپنی السائی آنکھیں کھولیں گے سبزہ بہہ نکلے گا ڈھلانوں پر غور سے دیکھنا بہاروں میں پچھلے موسم کے بھی نشاں ہوں گے کونپلوں کی اداس آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی بچی ہوگی

مزید پڑھیے

کندھے جھک جاتے ہیں

کندھے جھک جاتے ہیں جب بوجھ سے اس لمبے سفر کے ہانپ جاتا ہوں میں جب چڑھتے ہوئے تیز چڑھانیں سانسیں رہ جاتی ہیں جب سینے میں اک گچھا سا ہو کر اور لگتا ہے کہ دم ٹوٹ ہی جائے گا یہیں پر ایک ننھی سی میری نظم سامنے آ کر مجھ سے کہتی ہے مرا ہاتھ پکڑ کر، میرے شاعر لا، میرے کندھوں پر رکھ دے، میں ...

مزید پڑھیے

وقت۔۲

وقت کی آنکھ پہ پٹی باندھ کے کھیل رہے تھے آنکھ مچولی رات اور دن اور چاند اور میں جانے کیسے کائنات میں اٹکا پاؤں دور گرا جا کر میں جیسے روشنی سے دھکا کھا کے، پرچھائیں زمیں پر گرتی ہے! دھیا چھونے سے پہلے ہی وقت نے چور کہا اور آنکھیں کھول کے مجھ کو پکڑ لیا!!

مزید پڑھیے

نصیرالدین شاہ کے لیے

اک اداکار ہوں میں میں اداکار ہوں ناں جینی پڑتی ہیں کئی زندگیاں ایک حیاتی میں مجھے میرا کردار بدل جاتا ہے ہر روز نئی سیٹ پر میرے حالات بدل جاتے ہیں میرا چہرہ بھی بدل جاتا ہے افسانہ و منظر کے مطابق میری عادات بدل جاتی ہیں اور پھر داغ نہیں چھوٹتے پہنی ہوئی پوشاکوں کے خستہ کرداروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4072 سے 5858