رضا
خودی کو لے گئے کچھ آدمی اتنی بلندی پر تکبر میں لگے کہنے مقام کبریا کیا ہے اب ایسی صورت حالات میں کیسے یہ ہے ممکن خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
خودی کو لے گئے کچھ آدمی اتنی بلندی پر تکبر میں لگے کہنے مقام کبریا کیا ہے اب ایسی صورت حالات میں کیسے یہ ہے ممکن خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
کلام شاعر مشرق سے فال اک روز لی میں نے ہوا دشوار جب جینا کرائے کے مکانوں میں کہاں جاؤں کروں کیا جب یہ پوچھا تو جواب آیا تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
ادھر جھپٹے ادھر پلٹے اسے جکڑا اسے پکڑا لہو کو گرم رکھنے کے بہانے ہیں اڑانوں میں ہر اک لڑکی نظر آتی ہے ان کو فاختہ جیسی عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
ابر پارہ ہوں کوئی دم میں چلا جاؤں گا نقش بر آب ہوں لہروں میں سما جاؤں گا دھار پر اپنے تعقل کو چڑھا جاؤں گا رسم آزادیٔ افکار اٹھا جاؤں گا یہ عقائد ہیں چھلاوے انہیں افشا کر دے معنیٔ سیمیا دنیا کو بتا جاؤں گا سر میں سودوں کے بنا کرتا ہوں تانے بانے اہل تدبیر کو چکر میں پھنسا جاؤں ...
ڈگمگاتا لڑکھڑاتا جھومتا جاتا ہوں میں تجھ تک اے باب فنا سینے کے بل آتا ہوں میں شہر کی باریکیوں میں پھنس گیا ہوں اس طرح چین کی اک سانس کی مہلت نہیں پاتا ہوں میں جب بھی ریگستانوں میں جانے کا ہوتا اتفاق گھٹنے گھٹنے ذات کی پرتوں میں دھنس جاتا ہوں میں چل کے باغ سیب میں اوراق ...
کیا بتائیں آپ سے کیا ہستیٔ انسان ہے آدمی جذبات و احساسات کا طوفان ہے اشتراکیت مرا دین اور مرا ایمان ہے کاش موٹر لے سکوں میں یہ مرا ارمان ہے آہ اس دانش کدے میں کس قدر ہے قحط حسن جب سے آیا ہوں یہاں بزم نظر ویران ہے یہ کتابیں ہر طرف ہوں یا بتان منتخب برگزیدہ ہستیوں کا ایک ہی ...
پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا بادل کا آوارہ ٹکڑا کھویا کھویا تنہا تنہا پچھم دیس کے فرزانوں نے نصف جہاں سے شہر بسائے ان میں پیر بزرگ ارسطو بیٹھا رہتا تنہا تنہا کتنا بھیڑ بھڑکا جگ میں کتنا شور شرابہ لیکن بستی بستی کوچہ کوچہ چپا چپا تنہا تنہا سیر کرو باطن میں اس ...
ہوا کرے جو اندھیرا بہت گھنیرا ہے کسی کی زلف تلے ہر سمے سویرا ہے حکایت لب و رخسار میں گزار دیں وقت جہاں میں صرف گھڑی دو گھڑی بسیرا ہے جلاؤ گھر کی منڈیروں پہ چشم و دل کے دیے بہاؤ گیت برہ کے بہت اندھیرا ہے وہ محتسب ہو کہ شحنہ کہ مفتی و قاضی ہمارا کوئی نہیں ہے ہر ایک تیرا ہے مرے ...
مانگتا ہوں خیریت لب پر دعا رکھتا ہوں میں جانے کب وہ لوٹ آئے در کھلا رکھتا ہوں میں جانتا ہوں اس کی ہر ناراضگی کو میں مگر اپنے حصے کا بھی تو کوئی گلہ رکھتا ہوں میں وصل ہو یا ہجر اس کے اپنے ہوں گے وسوسے اس کا جو بھی فیصلہ ہو بس وفا رکھتا ہوں میں اس کو بھی تو غم بچھڑنے کا یہ ہونا ...
خواب ٹوٹے سجانا مشکل ہے پیار پہلا بھلانا مشکل ہے سب کو اس کی تمنا ہے لیکن چاند دھرتی پہ لانا مشکل ہے اس کی آنکھوں میں ہیں کئی ساغر تیر کے پار جانا مشکل ہے ہم نے پتھر لہو سے سینچا ہے پھول اس پر کھلانا مشکل ہے اس کو خود میں تلاش کرتا ہوں راز سب سے چھپانا مشکل ہے دل کی حسرت نکل ...