شاعری

کبھی نصیب سے آئے جو تیری بانہوں میں

کبھی نصیب سے آئے جو تیری بانہوں میں ہزاروں پھول کھلے تھے مری نگاہوں میں یوں کسمپرسی کے عالم میں آج سوچتی ہوں بڑے عجیب نشے تھے تری پناہوں میں میں سانس بھی نہیں لیتی کہ دل کو خوف سا ہے ابھی ہے زہر گئی رت کا میری آہوں میں تری تلاش میں در در پھرے مگر اے دوست بھٹک کے رہ گئے ہم زندگی ...

مزید پڑھیے

ضابطے اور ہی مصداق پہ رکھے ہوئے ہیں

ضابطے اور ہی مصداق پہ رکھے ہوئے ہیں آج کل صدق و صفا طاق پہ رکھے ہوئے ہیں وہ جو خود معرکۂ عشق میں اترے بھی نہیں شکوہ پسپائی کا عشاق پہ رکھے ہوئے ہیں باندھ رکھا ہے محبت نے ازل سے ہم کو سو توجہ اسی میثاق پہ رکھے ہوئے ہیں دخل آنکھوں کا الجھنے میں بہت ہے لیکن تہمتیں سب دل مشتاق پہ ...

مزید پڑھیے

محبت کے سوا حرف و بیاں سے کچھ نہیں ہوتا

محبت کے سوا حرف و بیاں سے کچھ نہیں ہوتا ہوا ساکن رہے تو بادباں سے کچھ نہیں ہوتا چلوں تو مصلحت یہ کہہ کے پاؤں تھام لیتی ہے وہاں جانا بھی کیا حاصل جہاں سے کچھ نہیں ہوتا ضرورت مند ہے صید افگنی مشاق ہاتھوں کی فقط یکجائی تیر و کماں سے کچھ نہیں ہوتا مسلسل بارشیں بھی سبزہ و گل لا نہیں ...

مزید پڑھیے

عکس روشن ترا آئینۂ جاں میں رکھا

عکس روشن ترا آئینۂ جاں میں رکھا ہم نے تصویر کو حیرت کے جہاں میں رکھا کون مایوس تری بزم عنایت سے اٹھا تیرے اکرام نے کس کس کو گماں میں رکھا کوئی مدہوش نہ ہو ساعت گل بوسی میں اس نے یوں پھول کو کانٹوں کی اماں میں رکھا وہ سمجھتا تھا کہ ہیں سچ کے خریدار بہت رہ گیا مال سبھی اس کی دکاں ...

مزید پڑھیے

تری امیدوں کا ساتھ دے گی عنایت برگ و بار کب تک

تری امیدوں کا ساتھ دے گی عنایت برگ و بار کب تک بہار ہے مہربان تجھ پر مگر رہے گی بہار کب تک جلائی تو نے اگر نہ مشعل کوئی چراغ اور ڈھونڈ لیں گے جنہیں ضرورت ہے روشنی کی کریں گے وہ انتظار کب تک خیال توسیع و رفعت بام و در کی خواہش بجا ہے لیکن مکان کا بوجھ سہہ سکے گی بنائے ناپائیدار کب ...

مزید پڑھیے

وفا کی تشہیر کرنے والا فریب گر ہے ستم تو یہ ہے

وفا کی تشہیر کرنے والا فریب گر ہے ستم تو یہ ہے نگاہ یاراں میں پھر بھی وہ شخص معتبر ہے ستم تو یہ ہے ہم ایسے سادہ دلوں کو تجھ سے ملے گی داد خلوص کیسے زمانہ سازی کی خو ترے عہد میں ہنر ہے ستم تو یہ ہے اگر تجھے علم ہی نہ ہوتا تو پھر کبھی ہم گلہ نہ کرتے سکون کیوں چھن گیا ہمارا تجھے خبر ہے ...

مزید پڑھیے

کتنی صدیاں نارسی کی انتہا میں کھو گئیں

کتنی صدیاں نارسی کی انتہا میں کھو گئیں بے جہت نسلوں کی آوازیں خلا میں کھو گئیں رنگ و بو کا شوق آشوب ہوا میں لے گیا تتلیاں گھر سے نکل کر ابتلا میں کھو گئیں کون پس منظر میں اجڑے پیکروں کو دیکھتا شہر کی نظریں لباس خوش نما میں کھو گئیں منتظر چوکھٹ پہ تعبیروں کے شہزادے رہے خواب کی ...

مزید پڑھیے

دیے سے یوں دیا جلتا رہے گا

دیے سے یوں دیا جلتا رہے گا اجالا پھولتا پھلتا رہے گا نہیں ہے بانجھ آوازوں کی دھرتی صداؤں کا نسب چلتا رہے گا سکوں ہو بحر میں یا ہو تلاطم گہر تو سیپ میں پلتا رہے گا زمیں پر بارشیں ہوتی رہیں گی سمندر ابر میں ڈھلتا رہے گا نہ باز آئے گا غفلت سے بھی انساں کف افسوس بھی ملتا رہے ...

مزید پڑھیے

اس کا چہرہ بھی چمک میں نہ مثالی نکلا

اس کا چہرہ بھی چمک میں نہ مثالی نکلا چاند سورج کے اجالوں کا سوالی نکلا لوگ سمجھا کیے موسم ہی نہیں اڑنے کا اس کی عزلت کا سبب بے پر و بالی نکلا پھول تو مل گیا خوشبو نہ مگر ہاتھ لگی اس کو پانے کا جنوں خام خیالی نکلا بارش سنگ میں بھی آئی دعا ہونٹوں پر سب نے کم تر جسے جانا تھا وہ عالی ...

مزید پڑھیے

آندھی میں بساط الٹ گئی ہے

آندھی میں بساط الٹ گئی ہے گھنگھور گھٹا بھی چھٹ گئی ہے وہ گرد اڑائی ہے دکھوں نے دیوار حیات اٹ گئی ہے خنجر کی طرح تھی ریگ صحرا خیمے کی طناب کٹ گئی ہے میراث گلاب تھی جو خوشبو جھونکوں میں ہوا کے بٹ گئی ہے پیاسوں کا ہجوم رہ گیا ہے اک تیر سے مشک پھٹ گئی ہے اک اور بھی دن گزر گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4034 سے 5858