کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے
کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے گرد میں گم خواب کی تعبیر ہونا ہے مجھے جس کی تابندہ تڑپ صدیوں میں بھی سینوں میں بھی ایک ایسے لمحے کی تفسیر ہونا ہے مجھے خستہ دم ہوتے ہوئے دیوار و در سے کیا کہوں کیسے خشت و خاک سے تعمیر ہونا ہے مجھے شہر کے معیار سے میں جو بھی ہوں جیسا بھی ...