شاعری

کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے

کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے گرد میں گم خواب کی تعبیر ہونا ہے مجھے جس کی تابندہ تڑپ صدیوں میں بھی سینوں میں بھی ایک ایسے لمحے کی تفسیر ہونا ہے مجھے خستہ دم ہوتے ہوئے دیوار و در سے کیا کہوں کیسے خشت و خاک سے تعمیر ہونا ہے مجھے شہر کے معیار سے میں جو بھی ہوں جیسا بھی ...

مزید پڑھیے

خواب آئینہ کر رہی ہے دل میں

خواب آئینہ کر رہی ہے دل میں جو عمر گزر رہی ہے دل میں آہنگ وجود بن کے ہر دم اک موج دگر رہی ہے دل میں ہر سانس دھواں دھواں ہے لیکن چاندی سی نکھر رہی ہے دل میں مہکی ہوئی درد کی چنبیلی کیا روشنی بھر رہی ہے دل میں بستی میں جمے رہے اندھیرے بے تاب سحر رہی ہے دل میں رہ رہ کے وصال کی ...

مزید پڑھیے

کیا روپ برس رہا ہے

کیا روپ برس رہا ہے ہر آئنہ ہنس رہا ہے تھا حاصل عشق اپنا جو رزق ہوس رہا ہے سنتے ہیں وہ آشیاں تھا اپنا جو قفس رہا ہے ویران ہیں سب منڈیریں جی کیسا ترس رہا ہے کچھ بھی نہیں گھر میں یوسفؔ اک حوصلہ بس رہا ہے

مزید پڑھیے

جو تو نہیں تو موسم ملال بھی نہ آئے گا

جو تو نہیں تو موسم ملال بھی نہ آئے گا گئے دنوں کے بعد عہد حال بھی نہ آئے گا مری سخن سرائیوں کا اعتبار تو نہیں جو تو نہیں تو ہجر کا سوال بھی نہ آئے گا اگر وہ آج رات حد التفات توڑ دے کبھی پھر اس سے پیار کا خیال بھی نہ آئے گا شب وصال ہے بساط ہجر ہی الٹ گئی تو پھر کبھی خیال ماہ و سال ...

مزید پڑھیے

سخن کو بے حسی کی قید سے باہر نکالوں

سخن کو بے حسی کی قید سے باہر نکالوں تمہاری دید کا کوئی نیا منظر نکالوں یہ بے مصرف سی شے ہر گام آڑے آنے والی انا کی کینچلی کو جسم سے باہر نکالوں طلسمی معرکے کہتے ہیں اب سر ہو چکے ہیں ذرا زنبیل کے کونے سے میں بھی سر نکالوں لہو مہکا تو سارا شہر پاگل ہو گیا ہے میں کس صف سے اٹھوں کس ...

مزید پڑھیے

مسئلوں کی بھیڑ میں انساں کو تنہا کر دیا

مسئلوں کی بھیڑ میں انساں کو تنہا کر دیا ارتقا نے زندگی کا زخم گہرا کر دیا ڈیڑھ نیزے پر ٹنگے سورج کی آنکھیں نوچ لو بے سبب دہشت زدہ ماحول پیدا کر دیا فکر کی لا‌ مرکزیت جاگتی آنکھوں میں خواب ہم خیالی نے زمانے بھر کو اپنا کر دیا اک شجر کو جسم کی نم سبز گاہوں کی تلاش اور اس تحریک نے ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں ٹھہرا ہوا سپنا بکھر بھی جائے گا

آنکھ میں ٹھہرا ہوا سپنا بکھر بھی جائے گا رات بھر میں نیند کا نشہ اتر بھی جائے گا دن کی چمکیلی صداؤں سے گریزاں راہرو شام کی سرگوشیاں سن کر ٹھہر بھی جائے گا جسم و جاں میں جلتی بجھتی لرزشیں رہ جائیں گی وہ مرے احساس کو چھوکر گزر بھی جائے گا بے تعلق سی کرے گا گفتگو مجھ سے مگر اس کا ...

مزید پڑھیے

پہلے میں تیری نظر میں آیا

پہلے میں تیری نظر میں آیا پھر کہیں اپنی خبر میں آیا میں ترے ایک ہی پل میں ٹھہرا تو مرے شام و سحر میں آیا مجھ پہ چھائی رہیں پلکیں تیری میں کہاں سایۂ زر میں آیا ایک میں ہی تری دھن میں نکلا ایک تو ہی مرے گھر میں آیا ہم جو اک ساتھ چلے تو یوسفؔ آسماں گرد سفر میں آیا

مزید پڑھیے

ہر نظر میں ہے اثاثہ اپنا

ہر نظر میں ہے اثاثہ اپنا چاک در چاک ہے خیمہ اپنا کوئی پرتو ہے نہ سایہ اس کا جس کے ہونے سے ہے ہونا اپنا کس کی لو راہ سحر دیکھے گی شام کی شام ہے شعلہ اپنا لپٹے جاتے ہیں کناروں سے بھی اور دریا پہ بھی دعویٰ اپنا چھوڑ بیٹھے ہیں فقیری لیکن ابھی توڑا نہیں کاسہ اپنا در خسرو پہ چلا ہے ...

مزید پڑھیے

روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھی

روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھی پھر بھی سورج سے مری ہم سفری رہنا تھی موسم دید میں اک سبز پری کا سایہ اب گلہ کیا کہ طبیعت تو ہری رہنا تھی میں کہ ہوں آدم اعظم کی روایت کا نقیب میری شوخی سبب در بہ دری رہنا تھی خواب عرفان حقیقت کے تمنائی تھے زندگی اور مری راہبری رہنا تھی آج بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 336 سے 5858