الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھے
الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھے اور سانپ بیٹھا ہے سائبان کے پیچھے خوش گوار موسم پر کامیابیاں مبنی من چلا سمندر ہے بادبان کے پیچھے ہم سے رہ نوردوں کو دشت راس کیا آتا آخرش پلٹنا تھا خاک چھان کے پیچھے چیخ المدد شاید دست غیب آ جائے ناولوں کے لشکر ہیں داستان کے پیچھے تیر کھا ...