بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤں
بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤں ورنہ میں پھاند کے ہی سات سمندر جاؤں داستانیں ہیں مکانوں کی زبانوں پہ رقم پڑھ سکوں میں تو مکانوں سے بیاں کر جاؤں میں منظم سے بھلا کیسے کروں سمجھوتا ڈوبنے والے ستاروں سے میں کیوں ڈر جاؤں روح کیا آئے نظر جسم کی دیواروں میں ان کو ڈھاؤں تو اس ...