میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہ
میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہ زندگی میرے لیے تو ہے کہاں آوارہ تجھ سے کٹ کر کوئی دیکھے تو کہاں پہنچا ہوں جیسے ندی میں کوئی سنگ رواں آوارہ تجھ کو دیکھا ہے کہیں تجھ کو کہاں دیکھا ہے وہم ہے سر بہ گریباں و گماں آوارہ دیر و کعبہ کی روایات سے انکار نہیں آؤ دو دن تو پھریں نعرہ ...