نوحہ
زیست اور موت کی سرد و ویران سی دو قیامت نما سرحدیں اور پہلو میں ان سرحدوں کے وہ دھندلی سی بجھتی ہوئی اک لکیر جس کی دہلیز پر آخری سانس لیتے ہوئے روٹھ کر ہم سے کوئی جو اس مختصر فاصلے سے گزر جائے گا لوٹ کر وہ نہیں آئے گا سرد راتوں میں ہم اس کو آواز دیں تو جواباً ہمیں گونج کی صورت اپنی ...