شاعری

پیام

دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیں نگاہ شوق کو اب تاب انتظار نہیں نہیں نہیں مجھے برداشت اب نہیں کی نہیں خدا کے واسطے کہنا نہ اب کی بار ''نہیں'' ہمیشہ وعدے کیے اب کے مل ہی جا آ کر حیات و وعدہ و دنیا کا اعتبار نہیں دکھائی اپنی محبت کو چیر کر سینہ مگر نمود مرا شیوہ و شعار نہیں مری بہن مری ...

مزید پڑھیے

ماں کا ہونا

گھٹنوں کی پیڑا میں جاگ کے سونے والی ماں انسلن کی گولی سے خوش ہونے والی ماں سلوٹی ہاتھوں سے کپڑوں کو دھونے والی ماں پاپا کی اک ڈانٹ سے گھٹ کر رونے والی ماں بچوں سے چھپ چھپ کر رونا کیسا ہوتا ہے ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے پاپا کی انٹلیجنسی تم پر بھاری ہے لیکن تم نے پریم ...

مزید پڑھیے

اک بوڑھا

اک بوڑھا بستر مرگ پہ ہے بیمار بدن لاچار بدن سانسیں بھی کچھ بوجھل سی ہیں اور آنکھیں بھی جل تھل سی ہیں ایسا بھی نہیں تنہا ہے وہ پانی ہے مگر پیاسا ہے وہ گھر میں بہوویں بیٹے بھی ہیں ہیں پوتیاں بھی پوتے بھی ہیں لیکن کوئی پاس نہیں آتا سب جھانکتے ہیں چلے جاتے ہیں جیسے یہ اس کا گھر ہی ...

مزید پڑھیے

کلیاں چٹک رہی ہیں بہاروں کی گود میں

کلیاں چٹک رہی ہیں بہاروں کی گود میں جلووں کی محفلیں ہیں ستاروں کی گود میں وہ موج جس کے خوف سے پتوار گر پڑے کشتی کو لے گئی ہے کناروں کی گود میں منزل سمٹ کے خود ہی مرے پاس آ گئی میں سر گراں تھی راہ گزاروں کی گود میں یوں تو دیئے فریب سہاروں نے عمر بھر دل کو بڑا سکوں تھا سہاروں کی ...

مزید پڑھیے

اب دل ہے ان کے حلقۂ دام جمال میں

اب دل ہے ان کے حلقۂ دام جمال میں دیکھا نہ تھا جنہیں کبھی خواب و خیال میں اے تلخئ فراق بجز نالۂ الم پایا نہ کچھ بھی میں نے امید وصال میں فطرت نے دے کے عشق کو احساس ضبط شوق الجھا دیا ہے کشمکش لا زوال میں بار غم جہاں بھی ہے تیرا خیال بھی ہیں کتنی وسعتیں دل آشفتہ حال میں آواز دی ہے ...

مزید پڑھیے

میری آنکھوں کا خواب تھا کوئی

میری آنکھوں کا خواب تھا کوئی روح کا اضطراب تھا کوئی ہے فقط آج دل میں تنہائی کل تلک بے حساب تھا کوئی چاند غیرت سے چھپ گیا کل بھی چھت پہ پھر بے نقاب تھا کوئی ہم جسے چوم کر ہوئے زخمی خار جیسا گلاب تھا کوئی ان کی محفل میں جو ہوا رسوا ہم سا خانہ خراب تھا کوئی کیوں یہ ذہیبؔ چڑھ گیا ...

مزید پڑھیے

محبت میں مری ہوگا اثر آہستہ آہستہ

محبت میں مری ہوگا اثر آہستہ آہستہ ہاں تم ہو جاؤ گے میرے مگر آہستہ آہستہ نقاب اس نے ہٹائی اپنے چہرے سے ذرا ایسے کہ بدلی سے نکلتا ہو قمر آہستہ آہستہ بھلا کیسے بچیں ہم وار سے اس کے بتاؤ تم یہ جھک کر اٹھ رہی ہے جو نظر آہستہ آہستہ دبی چنگاریاں دل کی کریدو مت اداؤں سے کہیں شعلہ نہ بن ...

مزید پڑھیے

وہ جو بے ساختہ ہنسنے کی ادا تھی تیری

وہ جو بے ساختہ ہنسنے کی ادا تھی تیری تجھ کو معلوم نہیں وہ ہی دوا تھی تیری ہجر راتوں میں اسے اوڑھ کے سو جاتا تھا پاس میرے جو اداسی کی ردا تھی تیری تیرے اک دوست نے پوچھا تھا یہ رو کر مجھ سے ہے قسم تجھ کو بتا دے کہ وہ کیا تھی تیری بد دعا اپنے لئے خوب کری تھی میں نے ہاں مگر راہ میں ...

مزید پڑھیے

اتنی شدت سے گلے مجھ کو لگایا ہوا ہے

اتنی شدت سے گلے مجھ کو لگایا ہوا ہے ایسا لگتا ہے کہ وقت آخری آیا ہوا ہے کیوں نہ اس بات پہ ہو جائیں یہ آنکھیں پاگل نیند بھی اتری ہوئی خواب بھی آیا ہوا ہے اب کے ہولی پہ لگا رنگ اترتا ہی نہیں کس نے اس بار ہمیں رنگ لگایا ہوا ہے سوچتا ہوں کہ اسے خود کو میں انعام کروں ایک لڑکی نے ترا ...

مزید پڑھیے

غم کا دریا سوکھ نہ جائے اس کی روانی کم نہ پڑے

غم کا دریا سوکھ نہ جائے اس کی روانی کم نہ پڑے خون جگر بھی شامل کر لوں آنکھ میں پانی کم نہ پڑے اس کے بدن کی خوشبو کا کچھ توڑ نکالو آج کی رات اور کوئی خوشبو لے آؤ رات کی رانی کم نہ پڑے سال‌‌ دو سال کی بات نہیں ہے عمر بہت درکار ہے ہاں سوچ رہا ہوں عشق کی خاطر عہد جوانی کم پڑے آئینے کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 206 سے 5858