علاج دل
ڈاکٹر سے میں علاج دل کرانے جب گیا مشورہ اس نے دیا تو شعر کہنا چھوڑ دے اور بلڈ پریشر کے بارے میں جو پوچھا تو کہا اے مریض جاں بلب اخبار پڑھنا چھوڑ دے
ڈاکٹر سے میں علاج دل کرانے جب گیا مشورہ اس نے دیا تو شعر کہنا چھوڑ دے اور بلڈ پریشر کے بارے میں جو پوچھا تو کہا اے مریض جاں بلب اخبار پڑھنا چھوڑ دے
کوچۂ یار میں میں نے جو جبیں سائی کی اس کے ابا نے مری خوب پذیرائی کی میں تو سمجھا تھا کہ وہ شخص مسیحا ہوگا اس نے پر صرف مری تارہ مسیحائی کی اس کے گھر پہ ہی رقیبوں سے ملاقات ہوئی کیا سناؤں میں کہانی تجھے پسپائی کی میرے تایا سے وہ ہیں عمر میں دس سال بڑی گھر کے ہر فرد پہ دہشت ہے مری ...
وہ جلا کر کشتیاں ویزا تو کب کا لے چکے آنے کو تیار بیٹھے ہیں جو فہرستوں میں ہیں آ کے ٹک جانا یہاں مشکل نہیں بالکل نہیں کار بنگلہ اور بیوی بھی یہاں قسطوں میں ہیں
قلم دو چار ایسے ہی لگا لیتا ہوں جیبوں میں مرے احباب میں اس سے مری توقیر بڑھتی ہے کبھی لکھنے لکھانے کی تو نوبت ہی نہیں آتی میں ناڑا ڈال لیتا ہوں ضرورت جب بھی پڑتی ہے
اجلی دھوپ میں چلنے والو شاد رہو محنت کر کے پلنے والو شاد رہو اب روشن ہیں منظر شوخ ہیں نظارے منظر میں رنگ بھرنے والو شاد رہو عشق محبت کرنا ویسے مشکل ہے پھر بھی کوشش کرنے والو شاد رہو اپنے آپ سنبھلنا اچھی عادت ہے ٹھوکر ٹھوکر گرنے والو شاد رہو حق تو پھر بھی حق ہے غالب آئے گا حق ...
نہ آیا کبھی میں ترے آستاں پر بھٹکتا رہا بس یہاں اور وہاں پر تری یاد نے دل تو روشن کیا تھا لگایا مگر قفل میری زباں پر کبھی فکر فردا کبھی یاد ماضی ہر اک دن نیا بار مجھ ناتواں پر سنائی سر انجمن جو تھی تو نے کوئی شخص رویا تھا اس داستاں پر اسے شاعری تم کہو تو کہو پر کہے شعر میں نے ...
کٹھن ہونے کو ہے جو شوق کا ہر مرحلہ صاحب ذرا سوچیں کہ لاحق کیا ہے ہم کو عارضہ صاحب کسی بھی جھوٹ پر چپ سادھنا میرا ہوا مشکل یہی مشکل ہے میری اور میرا مسئلہ صاحب سناؤں قصہ کیا میں حضرت انسان کا پل میں بہت صدیوں کا ہے اور ہے قدیمی واقعہ صاحب میرا مطلب انہی سے جو ہوس کے بس پجاری ...
دل کے زخموں پہ وہ مرہم جو لگانا چاہے واجبات اپنے پرانے وہ چکانا چاہے میری آنکھوں کی سمندر میں اترنے والا ایسا لگتا ہے مجھے اور رلانا چاہے دل کے آنگن کی کڑی دھوپ میں اک دوشیزہ مرمریں بھیگا ہوا جسم سکھانا چاہے سیکڑوں لوگ تھے موجود سر ساحل شوق پھر بھی وہ شوخ مرے ساتھ نہانا ...
میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے مجھے جس نے بکری بنا دیا وہ تو بھیڑیا کوئی اور ہے کئی سردیاں بھی گزر گئیں میں تو اس کے کام نہ آ سکا میں لحاف ہوں کسی اور کا مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے مجھے چکروں میں پھنسا دیا مجھے عشق نے تو رلا دیا میں تو مانگ تھی کسی اور کی مجھے مانگتا ...
میری زندگی ہو تم یعنی اجنبی ہو تم آگہی سبھی کچھ ہے عشق و آگہی ہو تم تیرا ہو چکا ہوں میں میری ہو چکی ہو تم مر رہا ہوں میں غم سے اور ہنس رہی ہو تم پہلی پہلی نیندوں کا خواب آخری ہو تم مجھ پہ لمس واجب ہے دور کیوں کھڑی ہو تم مڑ کے دیکھنا بے سود ساتھ کب چلی ہو تم خود پہ ہنستی رہتی ...