راستے
اب تلک ان نگاہوں میں محفوظ ہیں سیدھے سادے وہ ویران سے راستے اپنے ہم راز اپنے شناسا اپنے دکھ اپنے سکھ دونوں پہچانتے اونگھتے جاگتے ٹھہرتے بھاگتے بھیگے بھیگے وہ حیران سے راستے دیکھتے دیکھتے ایک پل بن گیا اور سمندر کا پانی سمٹ کر سمندر سے پھر مل گیا دھوپ سے تپ کے مٹی کا گیلا بدن جاگ ...