شاعری

راستے

اب تلک ان نگاہوں میں محفوظ ہیں سیدھے سادے وہ ویران سے راستے اپنے ہم راز اپنے شناسا اپنے دکھ اپنے سکھ دونوں پہچانتے اونگھتے جاگتے ٹھہرتے بھاگتے بھیگے بھیگے وہ حیران سے راستے دیکھتے دیکھتے ایک پل بن گیا اور سمندر کا پانی سمٹ کر سمندر سے پھر مل گیا دھوپ سے تپ کے مٹی کا گیلا بدن جاگ ...

مزید پڑھیے

آنگن

در دیوار دریچے آنگن دہلیزیں دالان اور کمرے سارے روپ یہ کتنے نازک سوچو تو مٹی کے کھلونے میرے لیے یہ کنج عبادت میرے لیے یہ کوہ صداقت میرے لیے یہ منزل وعدہ خلد تحفظ قصر رفاقت جس کے راج سنگھاسن بیٹھی میں رانی ہوں میں بیچاری باہر چاہے طوفاں آئیں لیکن یاں سب چین سے سوئیں جب جاگیں تب ...

مزید پڑھیے

ورثہ

مڑ کر پیچھے دیکھ رہی ہوں کیا کیا کچھ ورثے میں ملا تھا اور کیا کچھ میں چھوڑ رہی ہوں میرا گھر طوفان زدہ تھا میرے بزرگوں نے دیکھا تھا وہ عفریت وقت کہ جس نے ان سے سب کچھ چھین لیا تھا پھر بھی کیا کچھ مجھ کو ملا تھا چہروں پر محنت کی چمک تھی آنکھوں میں غیرت کی دمک تھی ہاتھ میں ہاتھ دھرے ...

مزید پڑھیے

بلاوا

چلو اس کوہ پر اب ہم بھی چڑھ جائیں جہاں پر جا کے پھر کوئی بھی واپس نہیں آتا سنا ہے اک ندائے اجنبی باہوں کو پھیلائے جو آئے اس کا استقبال کرتی ہے اسے تاریکیوں میں لے کے آخر ڈوب جاتی ہے یہی وہ راستہ ہے جس جگہ سایہ نہیں جاتا جہاں پر جا کے پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتا جو سچ پوچھو تو ہم تم ...

مزید پڑھیے

بلی

دبے پاؤں چلتی چلی آئے گی کسی گرم کونے میں چپکے سے بیٹھے گی بلوری آنکھیں گھماتی رہے گی کبھی ایک ہلکی جماہی بھی لے گی دیکھتے دیکھتے جسم سے اٹھنے والی مہک سارے کمرے میں بھر جائے گی دیار غریباں سے آیا ہوا اک ادھیڑ عمر چوہا جو بس رزق کی بو کو پہچانتا ہے جو ہر وقت بیمار ہر وقت بیزار ...

مزید پڑھیے

میں بچ گئی ماں

میں بچ گئی ماں میں بچ گئی ماں ترے کچے لہو کی مہندی مرے پور پور میں رچ گئی ماں میں بچ گئی ماں گر میرے نقش ابھر آتے وہ پھر بھی لہو سے بھر جاتے مری آنکھیں روشن ہو جاتی تو تیزاب کا سرمہ لگ جاتا سٹے وٹے میں بٹ جاتی بے کاری میں کام آ جاتی ہر خواب ادھورا رہ جاتا مرا قد جو تھوڑا سا بڑھتا مرے ...

مزید پڑھیے

اب تو کچھ ایسا لگتا ہے

اب تو کچھ ایسا لگتا ہے سارا جگ مجھ سے چھوٹا ہے آنکھیں بھی مری بوجھل بوجھل شانوں پر بھی کچھ رکھا ہے کاتب وقت نے جاتے جاتے چہرے پر کچھ لکھ سا دیا ہے آئینے میں چہرہ کھولے دیکھ رہی ہوں کیا لکھا ہے لکھا ہے ترے روپ کا ہالہ اور کسی کے گرد سجا ہے لکھا ہے زلفوں کا دوشالہ اور کسی نے اوڑھ لیا ...

مزید پڑھیے

آج کی بات

آج کی بات نئی بات نہیں ہے ایسی جب کبھی دل سے کوئی گزرا ہے یاد آئی ہے صرف دل ہی نے نہیں گود میں خاموشی کی پیار کی بات تو ہر لمحے نے دہرائی ہے چپکے چپکے ہی چٹکنے دو اشاروں کے گلاب دھیمے دھیمے ہی سلگنے دو تقاضوں کے الاؤ! رفتہ رفتہ ہی چھلکنے دو اداؤں کی شراب دھیرے دھیرے ہی نگاہوں کے ...

مزید پڑھیے

زہرا نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے

زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے حالانکہ در ایں اثنا کیا کچھ نہیں دیکھا ہے پر لکھے تو کیا لکھے؟ اور سوچے تو کیا سوچے؟ کچھ فکر بھی مبہم ہے کچھ ہاتھ لرزتا ہے زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے! دیوانی نہیں اتنی جو منہ میں ہو بک جائے چپ شاہ کا روزہ بھی یوں ہی نہیں رکھا ...

مزید پڑھیے

''الف'' اور ب'' کے نام

جاناں! کیا یہ ہو سکتا ہے آج کی شام کہیں نہیں جائیں شور مچانے والے فیتے آوازوں سے بھرے توے سب تھوڑی دیر کو چپ ہو جائیں جاناں! کیا یہ ہو سکتا ہے اس پیاری مشروب کے پیمانے بھی نہ چھلکیں جن کے بل بوتے پہ ہماری خوش اخلاقی عام ہوئی ہے اور نہ موضوعات کے لاوے منہ سے ابلیں ایسے لوگ کہ جن کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 163 سے 5858