پھر دل کو روز و شب کی وہی عید چاہئے
پھر دل کو روز و شب کی وہی عید چاہئے ٹوٹے تعلقات کی تجدید چاہئے خالی نہیں ہے ایک بھی بستر مکان میں اک خواب دیکھنے کے لیے نیند چاہئے ہم مانگتے رہے ترے رخسار و لب کی خیر اے صاحب جمال تری دید چاہئے ہم کو تو اک رفاقت آشفتہ سر بہت ان کو ہجوم راہ کی تائید چاہئے ہر آستیں کے خون نے قاتل ...