شاعری

پھر دل کو روز و شب کی وہی عید چاہئے

پھر دل کو روز و شب کی وہی عید چاہئے ٹوٹے تعلقات کی تجدید چاہئے خالی نہیں ہے ایک بھی بستر مکان میں اک خواب دیکھنے کے لیے نیند چاہئے ہم مانگتے رہے ترے رخسار و لب کی خیر اے صاحب جمال تری دید چاہئے ہم کو تو اک رفاقت آشفتہ سر بہت ان کو ہجوم راہ کی تائید چاہئے ہر آستیں کے خون نے قاتل ...

مزید پڑھیے

اپنے گھر کے در و دیوار کو اونچا نہ کرو

اپنے گھر کے در و دیوار کو اونچا نہ کرو اتنا گہرا مری آواز سے پردا نہ کرو جو نہ اک بار بھی چلتے ہوئے مڑ کے دیکھیں ایسی مغرور تمناؤں کا پیچھا نہ کرو ہو اگر ساتھ کسی شوخ کی خوشبوئے بدن راہ چلتے ہوئے مہ پاروں کو دیکھا نہ کرو کل نہ ہو یہ کہ مکینوں کو ترس جائے یہ دل دل کے آسیب کا ہر ایک ...

مزید پڑھیے

شوق عریاں ہے بہت جن کے شبستانوں میں

شوق عریاں ہے بہت جن کے شبستانوں میں وہ ملے ہم کو حجابوں کے صنم خانوں میں کھڑکیاں کھولو کہ در آئے کوئی موج ہوا راکھ کا ڈھیر ہیں کچھ لوگ طرب خانوں میں شہر خورشید کے لوگوں کو خبر دو کوئی دن کے غم ڈوب گئے رات کے پیمانوں میں جب کوئی ساعت شاداب ملی جام بکف جان سی پڑ گئی بجھتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

ہم بچھڑ کے تم سے بادل کی طرح روتے رہے

ہم بچھڑ کے تم سے بادل کی طرح روتے رہے تھک گئے تو خواب کی دہلیز پر سوتے رہے زندگی نے ہاتھ سے خنجر نہ رکھا ایک پل ہم قتیل غمزہ و ناز بتاں ہوتے رہے لوک لہجے کا سہانا پن سخن کی نغمگی شہر کی آبادیوں کے شور میں کھوتے رہے کیوں متاع دل کے لٹ جانے کا کوئی غم کرے شہر دلی میں تو ایسے واقعے ...

مزید پڑھیے

شام ہونے والی تھی جب وہ مجھ سے بچھڑا تھا زندگی کی راہوں میں

شام ہونے والی تھی جب وہ مجھ سے بچھڑا تھا زندگی کی راہوں میں صبح جب میں جاگا تھا وہ جو مجھ سے بچھڑا تھا سو رہا تھا باہوں میں میکدے میں سب کے سب جام ہاتھ میں لے کر دوستوں میں بیٹھے تھے دور لوگ مسجد میں رب کو یاد کرتے تھے دل کی بارگاہوں میں وہ زمیں کے شہزادے تیر اور کماں لے کر جنگلوں ...

مزید پڑھیے

وہ آ گیا تو سارا پری خانہ جی اٹھا

وہ آ گیا تو سارا پری خانہ جی اٹھا آرائش جمال سے آئینہ جی اٹھا مجھ تک پہنچ گیا تو بڑی بات جانیے آواز پا سے جس کی مرا زینہ جی اٹھا یاران مے کدہ جو کبھی یاد آ گئے مجھ میں خمار محفل پارینہ جی اٹھا تھے دیدنی لباسوں میں ترشے ہوئے بدن اوڑھی جو اس نے شال تو پشمینہ جی اٹھا چائے کی میز پر ...

مزید پڑھیے

ہے دھوپ کبھی سایہ شعلہ ہے کبھی شبنم

ہے دھوپ کبھی سایہ شعلہ ہے کبھی شبنم لگتا ہے مجھے تم سا دل کا تو ہر اک موسم بیتے ہوئے لمحوں کی خوشبو ہے مرے گھر میں بک ریک پہ رکھے ہیں یادوں کے کئی البم کمرے میں پڑے تنہا اعصاب کو کیوں توڑو نکلو تو ذرا باہر دیتا ہے صدا موسم کس درجہ مشابہ ہو تم میرؔ کی غزلوں سے لہجے کی وہی نرمی ...

مزید پڑھیے

بھولی بسری ہوئی یادوں میں کسک ہے کتنی

بھولی بسری ہوئی یادوں میں کسک ہے کتنی ڈوبتی شام کے اطراف چمک ہے کتنی منظر گل تو بس اک پل کے لیے ٹھہرا تھا آتی جاتی ہوئی سانسوں میں مہک ہے کتنی گر کے ٹوٹا نہیں شاید وہ کسی پتھر پر اس کی آواز میں تابندہ کھنک ہے کتنی اپنی ہر بات میں وہ بھی ہے حسینوں جیسا اس سراپے میں مگر نوک پلک ہے ...

مزید پڑھیے

ہم باد صبا لے کے جب گھر سے نکلتے تھے

ہم باد صبا لے کے جب گھر سے نکلتے تھے ہر راہ میں رکتے تھے ہر در پہ ٹھہرتے تھے ویرانہ کوئی ہم سے دیکھا نہیں جاتا تھا دیوار اٹھاتے تھے دروازے بدلتے تھے آوارہ سے ہم لڑکے راتوں کو پھرا کرتے ہم سرو چراغاں تھے چوراہوں پہ جلتے تھے یہ خاک جہاں ان کے قدموں سے لپٹ جاتی جو راہ کے کانٹوں کو ...

مزید پڑھیے

کچھ دنوں اس شہر میں ہم لوگ آوارہ پھریں

کچھ دنوں اس شہر میں ہم لوگ آوارہ پھریں اور پھر اس شہر کے لوگوں کا افسانہ لکھیں شام ہو تو دوستوں کے ساتھ مے خانے چلیں صبح تک پھر رات کے طاقوں میں بے مصرف جلیں مدتیں گزریں ہم اس کی راہ سے گزرے نہیں آج اس کی راہ جانے کے بہانے ڈھونڈ لیں شہر کے دکھ کا مداوا ڈھونڈ لو چارہ گرو اس سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 159 سے 5858