شاعری

ترا دل تو نہیں دل کی لگی ہوں

ترا دل تو نہیں دل کی لگی ہوں ترے دامن پہ آنسو کی نمی ہوں میں اپنے شہر میں تو اجنبی تھا میں اپنے گھر میں بھی اب اجنبی ہوں کہاں تک مجھ کو سلجھاتے رہو گے بہت الجھی ہوئی سی زندگی ہوں خبر جس کی نہیں باہر کسی کو میں تہ خانے کی ایسی روشنی ہوں تھکن سے چور تنہا سوچ میں گم میں پچھلی رات ...

مزید پڑھیے

حساب عمر کرو یا حساب جام کرو

حساب عمر کرو یا حساب جام کرو بقدر ظرف شب غم کا اہتمام کرو اگر ذرا بھی روایت کی پاسداری ہے خرد کے دور میں رسم جنوں کو عام کرو خدا گواہ فقیروں کا تجربہ یہ ہے جہاں ہو صبح تمہاری وہاں نہ شام کرو نہ رند و شیخ نہ ملا نہ محتسب نہ فقیہ یہ مے کدہ ہے یہاں سب کو شاد کام کرو وہی ہے تیشہ ...

مزید پڑھیے

نہیں جو تیری خوشی لب پہ کیوں ہنسی آئے

نہیں جو تیری خوشی لب پہ کیوں ہنسی آئے یہی بہت ہے کہ آنکھوں میں کچھ نمی آئے اندھیری رات میں کاسہ بدست بیٹھا ہوں نہیں یہ آس کہ آنکھوں میں روشنی آئے ملے وہ ہم سے مگر جیسے غیر ملتے ہیں وہ آئے دل میں مگر جیسے اجنبی آئے خود اپنے حال پہ روتی رہی ہے یہ دنیا ہمارے حال پہ دنیا کو کیوں ...

مزید پڑھیے

کوئی دشمن کوئی ہمدم بھی نہیں ساتھ اپنے

کوئی دشمن کوئی ہمدم بھی نہیں ساتھ اپنے تو نہیں ہے تو دو عالم بھی نہیں ساتھ اپنے ساتھ کچھ دور ترے ہم بھی گئے تھے لیکن اب کہاں جائیں کہ خود ہم بھی نہیں ساتھ اپنے وہ بھی اک وقت تک خورشید بکف پھرتے تھے یہ بھی اک وقت ہے شبنم بھی نہیں ساتھ اپنے ناخن وقت نے کب زخم کو دہکایا ہے ایسے اک ...

مزید پڑھیے

ہر بات تری جان جہاں مان رہا ہوں

ہر بات تری جان جہاں مان رہا ہوں اب خاک رہ کاہکشاں چھان رہا ہوں اصنام سے دیرینہ تعلق کی بدولت میں کفر کا ہر دور میں ایمان رہا ہوں دنیا سے لڑائی تو ازل ہی سے رہی ہے اب خود سے جھگڑنے کی بھی میں ٹھان رہا ہوں اب تک تو شب و روز کچھ اس طرح کٹے ہیں جس جا بھی رہا اپنا ہی مہمان رہا ...

مزید پڑھیے

آج بھی ہاتھ پہ ہے تیرے پسینے کی تری

آج بھی ہاتھ پہ ہے تیرے پسینے کی تری یعنی ہے آج بھی شاخ شجر درد ہری پاس داماں نہ سہی پاس گریباں ہی سہی تجھ پہ لازم نہیں اے دست جنوں جامہ دری میں کہ دنیائے‌ ہوس میں بھی سرافراز رہا کام آ ہی گئی آخر مری آشفتہ سری دل کی بستی سے کبھی یوں نہ گزرتی تھی صبا اب نہ پیغامبری ہے نہ کوئی ...

مزید پڑھیے

میرا سایہ ہے مرے ساتھ جہاں جاؤں میں

میرا سایہ ہے مرے ساتھ جہاں جاؤں میں بے بسی تو ہی بتا خود کو کہاں پاؤں میں بے گھری مجھ سے پتہ پوچھ رہی ہے میرا در بدر پوچھتا پھرتا ہوں کہاں جاؤں میں زخم کی بات بھی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی دل نہیں پھول کہ ہر شخص کو دکھلاؤں میں زندگی کون سے ناکردہ گنہ کی ہے سزا خود نہیں جانتا کیا ...

مزید پڑھیے

رنگ ہونے لگے ظاہر میرے

رنگ ہونے لگے ظاہر میرے دھیان رکھ کچھ تو مصور میرے یوں نہ آنکھوں سے ہوا کر اوجھل بجھنے لگتے ہیں مناظر میرے کام آئی نہ خموشی میری راز کھل ہی گئے آخر میرے گونج اٹھا نغموں سے آنگن میرا لوٹ آئے سبھی طائر میرے

مزید پڑھیے

ہر ایک ڈوبتا منظر دکھائی دیتا ہے

ہر ایک ڈوبتا منظر دکھائی دیتا ہے ہمارے گھر سے سمندر دکھائی دیتا ہے میں جس کے سائے سے بچ کر نکلنا چاہتا ہوں وہ مجھ کو راہ میں اکثر دکھائی دیتا ہے اسے کبھی بھی نہ اس بات کی خبر ہو پائے وہ اپنے آپ سے بہتر دکھائی دیتا ہے ہمارے بیچ یہ نزدیکیاں ہی کافی ہیں تمہارے گھر سے مرا گھر ...

مزید پڑھیے

دھوپ میں بیٹھنے کے دن آئے

دھوپ میں بیٹھنے کے دن آئے پھر اسے سوچنے کے دن آئے بند کمروں میں جھانکتی کرنیں کھڑکیاں کھولنے کے دن آئے دھان کی کھیتیاں سنہری ہیں گاؤں میں لوٹنے کے دن آئے بعد مدت وہ شہر میں آیا آئنہ دیکھنے کے دن آئے پھر کوئی یاد تازہ ہونے لگی رات بھر جاگنے کے دن آئے

مزید پڑھیے
صفحہ 114 سے 5858