شاعری

جب بھی جوتے خریدو

جب بھی جوتے خریدو تو یہ دھیان رکھنا بہت نرم ہوں سخت چمڑا نہ ہو اور بھاری نہ ہوں عین ممکن ہے اک دن تمہیں اپنے لوگوں کے سینے پہ چلنا پڑے ان کی روحیں کچلنا پڑیں ان کو تکلیف اتنی نہ ہو ان میں نفرت کے طوفان پلنے لگیں زہر منہ سے اگلنے لگیں جوتے کالے نہ ہوں ورنہ ان کی سیاہی دل و جاں پہ جم ...

مزید پڑھیے

فرات عصمت کے ساحلوں پر

وہ ایک ننھی سی پیاس جس نے فرات عصمت کے ساحلوں پر سراب صحرا کی داستانوں کو اپنے خوں سے رقم کیا تھا جفا کے تیروں کو خم کیا تھا وفا کی آنکھوں کو نم کیا تھا بلند حق کا علم کیا تھا وہ پیاس کروٹ بدل رہی ہے اب اپنے پیروں سے چل رہی ہے وہ پیاس بچپن میں جس نے ساتوں سمندروں کا سفر کیا تھا وہ ...

مزید پڑھیے

ہوا کا رخ جو بدل گیا ہے

وہ جس ہوا نے چھوا تھا اس کو اسی میں میں نے بھی سانس لی تھی وہ زندگی تھی وہ شاعری تھی ہوا کا رخ جو بدل گیا ہے تو یہ ہوا ہے نہ زندگی ہے نہ شاعری ہے

مزید پڑھیے

مری ہجرتوں کی زمین پر تری چاہتوں سے لکھا ہوا

ترا ایک خط مرے پاس ہے وہ محبتوں سے لکھا ہوا تھی وہ فاصلوں کی تپش عجب مرے حوصلے بھی پگھل گئے جہاں سوز ہجر کا ذکر ہے وہیں کوئی آنسو گرا ہوا وہی ایک تشنہ سی آرزو کبھی قرض جس کا ادا نہ ہو پس حرف شکوے ہزار ہوں سر لفظ کوئی گلہ نہ ہو تری آرزو تری خواہشوں کا کوئی حساب نہ لکھ سکا میں سراپا ...

مزید پڑھیے

خزاں نصیبوں پہ بین کرتی ہوئی ہوائیں

لہو کی پیاسی برہنہ تیغوں کو یہ پتا ہے چمکتے خنجر یہ جانتے ہیں کہ شاہزادی کی لغزشوں سے غلام شاہی کی جرأتوں سے حرم کی حرمت کا خوں ہوا ہے محل کی عظمت کا خوں ہوا ہے شرافتوں اور نجابتوں کے چراغ و مہتاب بجھ گئے ہیں بہ نام الفت یہ آگ کیسی ہوئی ہے روشن کہ طاق و محراب بجھ گئے ہیں حروف عصمت ...

مزید پڑھیے

جتنے الفاظ ہیں سب کہے جا چکے

ایک مدت ہوئی سوچتے سوچتے تم سے کہنا ہے کچھ پر میں کیسے کہوں آرزو ہے مجھے ایسے الفاظ کی جو کسی نے کسی سے کہے ہی نہ ہوں سوچتا ہوں کہ موج صبا کے سبک پاؤں میں کوئی پازیب ہی ڈال دوں چاہتا ہوں کہ ان تتلیوں کے پروں میں دھنک باندھ دوں سرمئی شام کے گیسوؤں میں بندھی بارشیں کھول دوں خوشبوئیں ...

مزید پڑھیے

عزم

بوقت عصر اذاں گونجتی ہے صحرا میں نماز خود ہی مصلیٰ بچھانے آئی ہے بڑا عجیب تھا منظر عجیب رات تھی وہ ہوائیں سہمی ہوئی تھیں چراغ چپ چپ تھے ہر ایک سمت وہی بے کراں سی خاموشی فضا اداس وہی نیم جاں سی خاموشی سکوت شب میں بھی آہٹ تھی انقلابوں کی سجی تھی بزم وہاں آسماں جنابوں کی بہت سی ...

مزید پڑھیے

لہو لہو آنکھیں

ملی نہ میدان کی اجازت تبھی تو قاسم یاد آیا کہ ایک تعویذ میرے بابا نے خود مرے سامنے لکھا تھا جو میرے بازو پہ اب تلک بھی بندھا ہوا ہے اسے بصد اشتیاق کھولا تو اس میں لکھا ہوا یہی تھا اے لال اے میری جان قاسم حسین سے جب نگاہ پھیرے یہ کل زمانہ چہار جانب سے حملہ ور ہوں مصیبتیں جب رہ وفا ...

مزید پڑھیے

جون ایلیا سے آخری ملاقات

وہ ایک طرز سخن کی خوشبو وہ ایک مہکا ہوا تکلم لبوں سے جیسے گلوں کی بارش کہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہو کہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہو کہ جیسے ریشم الجھ رہا ہو عجب بلاغت تھی گفتگو میں رواں تھا دریا فصاحتوں کا وہ ایک مکتب تھا آگہی کا وہ علم و دانش کا مے کدہ تھا وہ قلب اور ذہن کا تصادم جو گفتگو ...

مزید پڑھیے

ہوا رکی ہے تو رقص شرر بھی ختم ہوا

قلم اداس ہے لفظوں میں حشر برپا ہے ہوا رکی ہے تو رقص شرر بھی ختم ہوا جنون شوق جنون سفر بھی ختم ہوا فرات جاں تری موجوں میں اب روانی نہیں کوئی فسانہ نہیں اب کوئی کہانی نہیں سمٹ گئے ہیں کنارے وہ بیکرانی نہیں تو کیا یہ نبض کا چلنا ہی زندگانی ہے نہیں نہیں یہ کوئی زیست کی نشانی نہیں کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 89 سے 960