شاعری

حسن قبول

گرج رہا ہے سیہ مست پیل پیکر ابر اداس کوہ کی چوٹی پہ ایک تنہا پیڑ اٹھا رہا ہے سوئے آسماں وہ تنہا شاخ سرک رہی ہے ابھی جس میں زندگی کی نمی بڑھا ہو جیسے کسی بے نوا کا بیکس ہاتھ ہجوم یاس میں اک آخری دعا کے لیے برس محیط کرم ایک بار اور برس بس ایک بار مجھے اور پھول لانے دے تڑپ رہا ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

پیام

فضاؤں میں کوئی نادیدہ معلوم رستہ ہے جہاں جذبات مضطر روح کے سیماب پا قاصد صعوبات سفر سے بے خبر اک دور منزل کو پروں میں الفتوں کے راز کو لے کر ہواؤں کی طرح آزاد بے پروا اڑے جائیں پیام شوق دے آئیں اگر اس رات اس بے راہ رستے پر کوئی جذبہ دل بے تاب سے اٹھ کر عناں برداشتہ نکلے اشارے گرم ...

مزید پڑھیے

شیر دل خاں

شیر دل خاں میں نے دیکھے تیس سال پے بہ پے فاقے مسلسل ذلتیں جنگ روٹی سامراجی بیڑیوں کو وسعتیں دینے کا فرض سو رہا ہوں اس گڑھے کی گود میں آفتاب مصر کے سائے تلے میں کنوارا ہی رہا کاش میرا باپ بھی اف کنوارا کیا کہوں

مزید پڑھیے

پشیمانی

موت کا راگ نفیری پہ بجاتی آٹھی لو جھلستی ہوئی لو آٹھی بڑھی ریت پہ جیسے دھواں اٹھتا ہو سرسراہٹ سی درختوں میں ہوئی پتے مرجھا گئے گرنے لگے وہ ان کے کھڑکنے کی صدا میرے خدا لو کے ہم راہ بڑھے موت کے ناچ کا نکلا تھا جلوس چونک کر جاگ اٹھے صحن چمن میں طائر آشیانوں سے جدائی انہیں منظور نہ ...

مزید پڑھیے

پتوں پہ لکھا نوحہ

اگر خاک پر خیمۂ گل لگے تو اسے یاد کرنا اگر شب کے پچھلے پہر ایک روشن ستارہ شان سفر ہو تو خود اپنے ہونے کا احساس جاگے زمیں آنکھ کھولے تو پھر وہ کہانی سنے جس کو سنتے ہوئے پچھلی شب اس کو نیند آ گئی تھی دھوئیں اور کائی کا ہم رنگ موسم پرانے لبادے اتارے ہرے خواب پہنے تو یہ درد کی خستگی ہم ...

مزید پڑھیے

ممبئی

شہر ممبئی مجھے اس نے چنا ہے ہم سفر اپنا یہ میری سانس کے مرنے تلک سائے کی طرح ساتھ میں ہوگا شہر ایسا جو اجلی روشنی میں ڈوبا رہتا ہے مگر ان روشنی کے جھرمٹ میں تیرگی بھی ہے جہاں بازار زندہ ہے جہاں روحوں کا سودا رات دن ہوتا ہی رہتا ہے جہاں اپنوں سے لگتے ہیں نہ جانے کتنے بیگانے نظر جس ...

مزید پڑھیے

ارملا

یہ راماین جو ہندستان کی رگ رگ میں شامل ہے جسے اک بالمیکی نام کے شاعر نے لکھا تھا بہت ہی خوب صورت ایک ایپک ہے فسانہ در فسانہ بات کوئی منجمد ہے اموشن قید ہیں لاکھوں طرح کے کئی کردار ہیں جو صاحب کردار لگتے ہیں مگر اک بات ہے جو مدتوں سے مجھ کو کھلتی ہے کہ افسانے میں سب کے درد و غم کا ...

مزید پڑھیے

آزادی

زباں تم کاٹ لو یا پھر لگا دو ہونٹھ پر تالے مری آواز پر کوئی بھی پہرہ ہو نہیں سکتا مجھے تم بند کر دو تیرگی میں یا سلاخوں میں پرندہ سوچ کا لیکن یہ ٹھہرا ہو نہیں سکتا اگر تم پھونک کر سورج بجھا دو گے تو سن لو پھر جلا کر ذہن یہ اپنا اجالا چھانٹ لوں گا میں سیاہی ختم ہوئے گی قلم جب ٹوٹ جائے ...

مزید پڑھیے

عکس ریز

صبح کے تین بجنے والے ہیں نیند ہے دور میری آنکھوں سے کروٹیں یوں بدل رہا ہوں میں آخری رات جیسے روگی کی چاندنی رس رہی ہے کھڑکی سے اوک میں بھر کے پی رہا ہوں میں یاد سی آ رہی ہے بچپن کی آسماں بھر رہا ہے تاروں سے جھینگروں کی صدا ہے کانوں میں جگنوؤں کی کئی قطاریں ہیں اک چٹائی بچھی ہے آنگن ...

مزید پڑھیے

ذہن

یہ دعویٰ ہے جہاں میں چند لوگوں کا کہ ہم نے زندگی کو جیت رکھا ہے ہمارے پاس یعنی ایٹمی ہتھیار ہیں اتنے ہمارا دوست ننھا ایلین بھی ہے کروڑوں سال کی تاریخ کو اب جانتے ہیں ہم کہ ہم نے موت پر اب فتح پا لی ہے پلینٹ مارس پر پانی بھی ڈھونڈا ہے یہ سب کہتے ہوئے اکثر وہ شاید بھول جاتے ہیں ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 88 سے 960