شاعری

سکوت شب میں

وہ ایک رات تھی ایسی کہ قدر و اسریٰ نے نگاہ اپنی جمائی تو پھر ہٹائی نہیں وہ ریگزار کے سینے پہ نسب اک خیمہ نہ جانے کون سی تاریخ لکھنے والا تھا سکوت شب میں بھی آہٹ تھی انقلابوں کی سجی تھی بزم وہاں آسماں جنابوں کی ہوائے دشت بھی آہستہ پا گزرتی تھی سویرے معرکہ ہونا تھا حق و باطل ...

مزید پڑھیے

کبھی نہ آئیں گے جانے والے

کہاں گئے وہ وطن کی عصمت بچانے والے وقار و عظمت بڑھانے والے وفا کا پرچم اٹھانے والے انہیں بلاؤ ہم ان کی آنکھوں سے آج اپنے وطن کو دیکھیں کہاں گئے وہ جو داستان وفا کو اپنے لہو سے تحریر کر رہے تھے جو اپنی آنکھوں کی قیمتوں پر بھی خواب تعبیر کر رہے تھے جو روشنی کے سفیر بن کر دلوں میں ...

مزید پڑھیے

وہ پیاس کروٹ بدل رہی ہے

وہ ایک ننھی سی پیاس جس نے سراب صحرا کی داستانوں کو اپنے خوں سے رقم کیا تھا جفا کے تیروں کو خم کیا تھا وفا کی آنکھوں کو نم کیا تھا بلند حق کا علم کیا تھا وہ پیاس کروٹ بدل رہی ہے اب اپنے پیروں سے چل رہی ہے وہ پیاس بچپن میں جس نے ساتوں سمندروں کا سفر کیا تھا وہ پیاس جس کی خموشیوں نے ...

مزید پڑھیے

سسکتی مظلومیت کے نام

عجب فضا ہے عجب اداسی عجیب وحشت برس رہی ہے عجب ہے خوف و ہراس ہر سو عجیب دہشت برس رہی ہے عجب گھٹن ہے عجب تعفن میں کس جگہ کس دیار میں ہوں کہ جیسے مقتل میں آ گیا ہوں میں قاتلوں کے حصار میں ہوں پھٹی پھٹی سی یہ سرخ آنکھیں سنہرے خوابوں کو رو رہی ہیں گناہ کیسے ہوئے ہیں سرزد یہ کن عذابوں کو ...

مزید پڑھیے

کس شان سے جیتے تھے یہاں خوار ہوئے کیوں

طارقؔ کیا کبھی قوم کا نوحہ بھی لکھو گے یا بس در دولت کا قصیدہ ہی لکھو گے انگشت نمائی سدا اغیار پہ ہوگی یا جرم کبھی کوئی تم اپنا بھی لکھو گے جو دل پہ گزرتے ہیں وہ صدمات لکھو اب چھوڑو یہ قصیدہ کوئی حق بات لکھو اب کیوں اپنی وفاؤں کے بھرم ٹوٹ رہے ہیں کیوں ہم پہ ہی یہ ظلم و ستم ٹوٹ رہے ...

مزید پڑھیے

عجیب ہے یہ زندگی

عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی ہر ایک شے ہے بے یقیں ہر ایک چیز عارضی یہ کارواں رکے کہاں کہ منزلیں ہیں بے نشاں چھپے ہوئے ہیں راستے یہاں وہاں دھواں دھواں خطر ہیں کتنے راہ میں سفر ہے کتنا اجنبی عجیب ہے یہ زندگی یہ گال زرد زرد سے اٹے ہوئے ہیں گرد سے ستم رسیدہ دل یہاں تڑپ رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

نروان

میں کپل وستو کا شہزادہ نہیں دردمندی کی ہوس نروان کی خواہش کبھی دل میں سمائی بھی نہیں میں کہ برگد کے تقدس سے بھی تھا نا آشنا اور آج بھی چھاؤں کی حد تک درختوں سے ہے میری دوستی میں اک ایسا طفل مکتب تھا ذرا سی بھول پر جو سرزنش کے خوف سے جنگل کی جانب چل پڑے راہ میں کچھ ہم سفر ایسے ...

مزید پڑھیے

دلی اور ہم

یہ وہ دلی ہے کہ دل سے جس کے دیوانے ہیں ہم یہ وہ شمع زندگی ہے جس کے پروانے ہیں ہم آئنہ ہے ہم سے اس کے عہد زریں کی جھلک اس کے تہذیب و ادب کے آئینہ خانے ہیں ہم علم و فن کے موتیوں پہ جم گیا گرد و غبار خاک کے ذرات میں ملبوس دردانے ہیں ہم ہم پہ رہتی ہے نگاہ شفقت اہل نظر محفل شعر و ادب میں ...

مزید پڑھیے

مجبوری

بہت جی چاہتا ہے ہر کسی سے پیار کرنے کو مگر ایسی کہاں قسمت کہ دل مجھ کو ڈراتا ہے کئی بے رنگ سے خاکے کئی صد رنگ تصویریں خدا معلوم کن تاریکیوں سے کھینچ لاتا ہے سناتا ہے کبھی بیتی ہوئی باتوں کی شہنائی کبھی ماضی کے البم سے مجھے فوٹو دکھاتا ہے جنہیں میں بھول جانا چاہتا ہوں وہ حسیں ...

مزید پڑھیے

شری لال بہادر شاستری وزیر اعظم ہند

اے بہادر‌ لال اے بھارت سپوت تو تھا امن و آشتی کا پاسدار امن کی خاطر گیا تھا تاشقند تو نے کر دی جان بھی اس پر نثار امن و صلح و جنگ میں یکتا تھا تو بھارتی تہذیب کا آئینہ دار پیکر عجز و خلوص و سادگی تو تھا تہذیب و تمدن کا نکھار تو نے یک جہتی عطا کی قوم کو ایکتا کا دان بھارت کو دیا سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 90 سے 960