شاعری

ادھوری تصویر

اے مصور مری تصویر پڑی ہے کب سے اب کسی طور ذرا اس کو مکمل کر دے اپنی تخلیق میں وہ رنگ بھی شامل کر دے جو ترے ذوق ہنر کی بھی گواہی ٹھہریں جھیل سی آنکھوں کی گہرائی میں تو ڈوب گیا سرخ ڈورے جو ہیں حیرت کے نہ دیکھے تو نے لب کے پیمانے تری پیاس بجھاتے ہیں مگر تشنہ پیمانوں کو تو جرأت اظہار ...

مزید پڑھیے

ایک نظم صرف تمہارے لیے

مجھ میں آتش جو چھپی ہے اسے بھڑکانے میں وصل سے زیادہ ترے ہجر کی خواہش ہے مجھے جسم اور جان سے آگے بھی کوئی دنیا ہے اور ان راہوں میں تنہا ہی بھٹکنا ہے مجھے اور ان راہوں میں تنہا ہی بھٹکنا ہے مجھے تجھ کو تسخیر بدن کی ہی رہی ہے خواہش اور میں روح کے سودے کے لیے سوچتی ہوں تجھ کو معلوم ہے ...

مزید پڑھیے

یہ تماشا گہ عالم کیا ہے

تم چمن زاد ہو فطرت کے قریں رہتے ہو دل یہ کہتا ہے کہ تم محرم اسرار بھی ہو تمہیں فطرت کی بہاروں کی قسم یہ تماشا گہ عالم کیا ہے نور خورشید کا جاں سوز جہاں تاب جمال آسمانوں پہ ستاروں کا سبک کام خرام یہ گرجتے ہوئے بادل یہ سمندر کا خروش یہ پرندوں کے سہانے نغمے کہیں بڑھتی ہوئی عظمت کہیں ...

مزید پڑھیے

قرباں گاہ امن

کھیت سوتے ہیں فضا میں کرگسوں کا ایک جھنڈ تیرتا آتا ہے منڈلاتا ہوا سوئی زمیں آنکھ میں تنہائیوں کی وسعتیں جھونپڑی میں ایک ماں اک جواں افسردگی سینۂ عریاں سے لپٹائے ہوئے ایک جان ناتواں آنکھ پر نم ہونٹ لرزاں پی مری جاں پی جواں ہو منتظر ہے تیری قرباں گاہ امن

مزید پڑھیے

یہ بغاوت ہے

روندتے جاؤ گزر گاہوں کو سر اٹھائے ہوئے سینہ تانے کانپ جائیں در و دیوار قدم یوں اٹھیں دھڑکنیں دل کی بنیں بانگ رحیل یہ بغاوت ہے بغاوت ہی سہی ہم نے انجام وفا دیکھ لیا خس و خاشاک بہاتا ہوا اپنا سیلاب اب جو اٹھا ہے تو بڑھتا ہی چلا جائے گا یہ زر و سیم کے تودوں سے نہیں رک سکتا گولیاں کس ...

مزید پڑھیے

اعجاز تصور

راہ دیکھی نہیں اور دور ہے منزل میری کوئی ساقی نہیں میں ہوں مری تنہائی ہے دیکھنی ہے مجھے حیرانی سے تاروں کی نگاہ دور ان سے بھی کہیں دور مجھے جانا ہے اس بلندی پہ اڑے جاتا ہے تو سن میرا کہکشاں گرد سی دیتی ہے دکھائی مجھ کو رفعت گوش سے سنتا ہوا مبہم سا شرار میری منزل ہے کہا یہ کبھی سوچا ...

مزید پڑھیے

موج دریا

اے حسیں ساحل مگر سوتا ہے تو تیرے حسن بے خبر پر میری بیداری نثار میرے قطروں کی جبیں مضطرب سجدوں کی دنیائے نیاز آستاں ناز پر ذوق عبادت کا ہجوم دیکھ لرزاں سانس تیری دید کو آتی ہوں میں گاتی ہوئی روتی ہوئی اور تو اضطرار فطرت سیماب کا رنگ ادا تیری اس شان تغافل پر فدا سوتا ہے تو درد الفت ...

مزید پڑھیے

ایک کتبہ

شیر دل خاں میں نے دیکھے تیس سال پے بہ پے فاقے مسلسل ذلتیں جنگ روٹی سامراجی بیڑیوں کو وسعتیں دینے کا فرض ایک لمبی جانکنی سو رہا ہوں اس گڑھے کی گود میں آفتاب مصر کے سائے تلے میں کنوارا ہی رہا کاش میرا باپ بھی

مزید پڑھیے

چاند آج کی رات نہیں نکلا

چاند آج کی رات نہیں نکلا وہ اپنے لحافوں کے اندر چہرے کو چھپائے بیٹھا ہے وہ آج کی رات نہ نکلے گا یہ رات بلا کی کالی رات تارے اسے جا کے بلائیں گے صحرا اسے آوازیں دے گا بحر اور پہاڑ پکاریں گے لیکن اس نیند کے ماتے پر کچھ ایسا نیند کا جادو ہے وہ آج کی رات نہ نکلے گا یہ رات بلا کی کالی ...

مزید پڑھیے

لفظ دے مجھے کچھ تو

اے خدا لفظ دے مجھے کچھ تو دل کے سادہ ورق پہ کچھ تو اتار بھر مرے کاسۂ خیال کو تو اس سے پہلے جو تو نے لفظ دیے رہن رکھے ہیں سارے وقت کے پاس اب مرے پاس اور کچھ بھی نہیں اک زباں ہے جو کتنی صدیوں سے لفظ کا لمس پانا چاہتی ہے میرے ہونٹوں پہ اسم رکھ اپنا اور سوچوں کو دے زمام خیال میں کہ خاموش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 87 سے 960