شاعری

پانی کی آواز

ہر رات نیم غنودگی میں میرے کانوں میں بارش کی آواز آتی رہتی ہے میں چونک اٹھتا ہوں کھڑکی سے پردہ سرکاتے ہوئے باہر جھانکتا ہوں! دن چڑھے کی دھوپ مجھ پر طنز کرتی ہے میں جلدی سے۔۔۔ واش روم میں دیکھتا ہوں شاید رات کوئی نل کھلا رہ گیا ہو تب زور زور سے تنہائی مجھ پر ہنسنے لگتی ہے میں خجالت ...

مزید پڑھیے

سرگوشی

رات پر نگاہ رہے! یہ ہمارے سائے چرانے آئی ہے مگر چراغ کی لو کس خوف سے کانپ رہی ہے؟ آؤ اسے اپنے لمس کا حوصلہ دیں ورنہ بدن تو ہمارے لمس باسی کر دیتے ہیں اوں ہوں کپڑے نہیں، بدن اتار کر آؤ دیکھوں تو میری روح پر تمہارا بدن پورا بھی آتا ہے؟

مزید پڑھیے

میں تمہارے لیے لے کے آیا ہوں

دفتر سے چرایا ہوا نصف دن دوستوں سے بچائی ہوئی ایک شام بچوں سے ٹھگے ہوئے وعدے بیوی کے حصے سے کچھ نرم گرم لمس کچھ سوتے جاگتے بوسے اور خوابوں سے ٹانکی ہوئی یہ رات! میں تمہارے لیے لے کے آیا ہوں سر سبز موسموں کے اجلے بیج قدیم زمانوں سے رستی ہوئی خنک ہوا آبی کناروں سے سرشار مٹی کی ...

مزید پڑھیے

ایک قدیم خیالی کی نگرانی میں

زمانے کی میلی آنکھ نے مجھے دھندلا دیا دوسروں پر گڑھتے گڑھتے مجھے اپنی تشویش ہوئی بہت دنوں سے بجھا پڑا تھا جب دو دماغوں کی ہم آہنگی نے مجھے روشن اور رواں کر دیا معاً میں نے خود کو ساحل پر مچھلی کی آنکھ سے دیکھا اف! سب کچھ کتنا سطحی ہے! ساحل ڈوبنے سے پہلے پہلے میں اپنے اندر اتر ...

مزید پڑھیے

پرسہ

بستر پر مٹھی بھر ہڈیاں رہ گئیں تو مسیحا نے بتایا اب مٹی پر زیادہ حق مٹی کا ہے سو ہم نے مٹی پر مٹی لیپ کر اس پر ایک چراغ کا کتبہ لکھا رات!!! صبح تک ہوا پھونکتی پھرتی تھی اور ستارے ہماری ہتھیلیوں پر پڑے میلے ہوتے رہے آنسوؤں کو صبر کا کفن کہاں سے دیں پھول اپنی خوشبو چھوڑتا ہے ہنسی نہیں ...

مزید پڑھیے

ایک ساکت رات کا عذاب

مرے بیڈروم میں زیرو کے بلب کی۔۔۔ لہو رنگ روشنی سہمی ہوئی ہے لحاف اوڑھے بدن ٹوٹے پڑے ہیں سرہانے جاگتے ہیں نرم بوسے دہکتی ہیں خمار آلود آنکھیں مہکتی ہیں، اکھڑتی گرم سانسیں مگر سانسوں میں دل اٹکے ہوئے ہیں لہو رنگ روشنی سہمی ہوئی ہے میں کچی نیند سے جاگا ہوا ہوں وہ کچی عمر کی ٹوٹی ...

مزید پڑھیے

بے مصرف رشتوں کی فراغت

سب سے اچھا کھیل ہے اجنبیت کو کریدنا سب سے اچھا کھیل ہے وقت گزاری وقت بہت ہے ہمارے پاس کڑھتے رہنے کے لیے اور باتیں کرنے کے لیے دیواروں سے خود کلامی کے انداز میں دیواریں کہاں سنتی ہیں دیواریں تو بس دیواریں ہیں جو حائل رہتی ہیں رشتوں کے درمیان جن پر لٹکائے جا سکتے ہیں رشتے! متروک ...

مزید پڑھیے

ایک اور محبت....

بات صرف اتنی تھی ہم اپنے فرسودہ جذبوں کے کاٹھ کباڑ کو بھی اجلے لفظوں کے شو کیسوں میں سجا کر ہم کلامی کرتے تھے جانے کتنے جسموں کے وصال سے ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب پہنچے تھے ہم...! ہماری دھلی دھلائی جھولیوں میں جگالی کیے ہوئے بوسوں کی سڑاند تھی ہمارے لمس خدا کو چھونے کی خواہش میں ...

مزید پڑھیے

آدھی موت کا جنم

اپنے ادھورے وجود کے ساتھ میں نے اپنی آدھی قبر ماں کی کوکھ میں بنائی اور آدھی باپ کے دل میں میں اپنی دونوں قبروں میں تھوڑا تھوڑا جی رہا ہوں تھوڑا تھوڑا مر رہا ہوں مسیحا نے اپنے نسخے میں میری تحلیل کی تجویز لکھی ہے بابا نے میرے دوبارہ جنم کا مشورہ مانگا اور ماں نے میرے بے نام ...

مزید پڑھیے

میں اور میری تنہائی

ہم سمندر سے ملنے ذرا دیر سے پہنچے رات سمندر سے زیادہ گہری ہو رہی تھی ہم ننگے پاؤں ساحل کے ساتھ بہت دور تک چلے دنوں کے بعد سرشاری نے اپنا چہرہ دکھایا تھا اور ہماری بھولی ہوئی دھن گنگنائی تھی سمندر ہماری خاموشی میں ڈوبنے ہی والا تھا جب ہمارا گیت پتوار ہوا اجنبی قدموں کے نشان چنتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 824 سے 960