شاعری

میری بے لباسی تمہارا پہناوا نہیں

شش شور مت کرو زمین کی آنکھ کھل جائے گی میں کوئی راز نہیں جسے تم فاش کر دو گے خواہشوں کے گلے گھونٹ کر کتبوں پر میرے خواب لکھتے ہو تعبیر کے لالچ میں مجھے تو خواب مت بتاؤ میں جتنا ٹوٹ سکتا تھا، ٹوٹ چکا کیا تم میرے چورے سے اپنی آنکھوں کی کینچلی رنگنا چاہتے ہو میری بے لباسی تمہارا ...

مزید پڑھیے

تشنگی

اٹھو حیات پہ خنجر کی دھار گزری ہے لہو کی بوندیں ٹپکتی ہیں زخمی روحوں سے سیاہ روشنی میں اور جاگ اٹھی وحشت لہو میں گھل گئی تلخی دلوں پہ نقش بنے یہ سانس سینے میں گھٹتی ہوئی می لگتی ہے یہ روز و شب کا تفکر یہ ساری عمر کا گھن حیات اوب گئی عدل کے اندھیروں سے کہاں تک عدل کی زنجیر ...

مزید پڑھیے

حرف ایک جنگل

کتابیں میرا جنگل ہیں جنہیں میں کاٹ کر اب بارہویں زینے پر بیٹھا ہوں معافی کے ہیولوں میں چمکتی صورتوں سے دور تنہا حرف کے صدمات سہتا ہوں کہ میں خود آگہی کے بھاری سانسوں کا سمندر ہوں جسے نمکین پانی کی سزا آبادیوں سے بادبان کی طرف کافی دور رکھتی ہے کتابیں میرا جنگل ہیں جہاں پر نفرتوں ...

مزید پڑھیے

وصال کی تیسری سمت

معذرت چاہتا ہوں دوست میں اب انتظار نہیں کرتا بلکہ خود چل پڑتا ہوں اپنی طرف ایک پوشیدہ چاپ کے تعاقب میں خود سے باہر نکلتا ہوں اور اپنے ہی جیسے کسی ہجوم کا حصہ بن کر اپنے وجود پر اکتفا کرتا ہوں اپنی عمیق روشنی سے نیا جنم لیتے ہوئے خود کی بنت میں بے جوڑ ہونے کی کاوش رائیگاں نہیں ...

مزید پڑھیے

ایک محبوس نظم

دروازہ پیٹا جا رہا ہے میرے جسم پر زخم اور نیل، ہرے ہوتے جا رہے ہیں مجھے یاد آیا گندی گالیاں اور میلے بوٹوں کی بھاری ایڑیاں میرے اعصاب اور جسم کو شل کر رہی تھیں کندھوں کولھوں اور رانوں پر بد بو دار دانتوں کے نشان دہکتی سلاخوں سے مٹانے کی کوشش بھی کی گئی میں اونچی کھڑکی سے چھلانگ ...

مزید پڑھیے

ہم بے وطن خوابوں کے جولاہے ہیں

بہت سی آواز جمع کر کے ایک چیخ بنائی جا سکتی ہے بہت تھوڑے لفظوں سے ایک باغی نظم بنائی جا سکتی ہے لیکن زندہ قبرستان میں ایک نظم کا کتبہ کافی نہیں قبریں دم سادھے پڑی ہیں ہماری مائیں مردہ بچوں کو جنم دے رہی ہیں لاشیں شناخت کرتے ہوئے ہجوم اپنا چہرہ بھول جاتا ہے! ہم زندگی سے صحبت کرنے ...

مزید پڑھیے

سولہ دسمبر

تو علم و ہنر سے خائف ہے تو روشنیوں سے ڈرتا ہے او امن کے غارت گر دشمن تو اس دن سے بھی ڈر دشمن جب تجھ کو تیرے اپنے ہی بچوں کا دشمن کر دوں گا تعلیم سے روشن کر دوں گا

مزید پڑھیے

تخلیق کی ساعتوں میں

کچھ کہوں تو دم گھٹتا ہے اور خاموشی مجھے اندر سے کاٹتی ہے خیالات پر لفظوں کے پہناوے پورے نہیں آتے کاغذوں پر دکھ اتارنا بھی تو دکھ کی بات ہے نظمیں مجھے خالی کر دیتی ہیں یہ شاعری تو مجھے عریاں کر دے گی! میں اور کتنے چہرے پہنوں بینائی کے جمگھٹے میں بار بار خود سے بچھڑ جاتا ہوں سو میں ...

مزید پڑھیے

تنہائی کا سفر نامہ

شام ہوتے ہی گھر مجھ سے چھوٹا پڑ جاتا ہے میں رستوں کی بد دعا پر نکلا ہوں جہاں آنکھوں کو چہرے کمانے سے فرصت نہیں لگتا ہے تنہائی مجھ سے اوب گئی ہے سانسیں میلی ہو رہی تھیں مٹی نے مجھے پھول بنا دیا خوشبو ہوا کی دوست ہو جائے تو بے رنگے لوگ رنگ رنگ کی باتیں کرتے ہی ہیں (وہ خواہ کتنے بھی ...

مزید پڑھیے

کاش

تمہارے چہرے پر صرف دو آنکھیں میری آشنا ہیں جو مجھ سے ہم کلام رہتی ہیں میں تمہیں اپنی تمام حسیات کی یکسوئی سے ملا ہوں تمہارا جسم میری پوروں کے لیے اجنبی سہی لیکن پھر بھی تمہاری خوشبو میں لپٹا ہوا تمہارا لمس مجھے باسی نہیں ہونے دیتا کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں تمہیں جی بھر کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 823 سے 960