شاعری

منزل شوق

پڑھتے پڑھتے تھک جاتا ہوں، کھڑکی سے کچھ دور گگن کو، چھو کے واپس آ جاتا ہوں نظروں کا انداز ہے یارو! پڑھنے میں جی لگ جاتا ہے! یوں بھی جینا آ جاتا ہے! سامنے میرے اک کمرہ ہے کمرے کی چھوٹی سی چھت پر، ایک بہت معمولی لڑکا، جب دیکھو ٹہلا کرتا ہے! عمر اگر پوچھو، تو ایسی جس میں سارے من کا ...

مزید پڑھیے

تمثیل

جب یہ بارش ذرا بھی تھمتی ہے دور بجلی چمکنے لگتی ہے، پھر قیامت کا شور ہوتا ہے، ابر پھر یوں برسنے لگتا ہے، جیسے نظروں کے سامنے اکثر حسن کی بجلیاں چمکتی ہیں، عشق جب زندگی کا طالب ہو حسن بن کر عذاب آ جائے، پتھروں کا مزاج لے آئے سختیاں مانگ لے چٹانوں سے، جذبۂ رحم کو فنا کر دے عشق مجبور ...

مزید پڑھیے

خواب

ایک بچی ہوا کرتی تھی بہت اچھی ہوا کرتی تھی شریر سے زیادہ وہ خواب ہوا کرتی تھی مچلی سی وہ آنکھیں ہمدم بس خواب بنا کرتی تھی ایک بچی ہوا کرتی تھی بہت اچھی ہوا کرتی تھی نہ واسطہ لوگوں سے تھا نہ کھیلنا باتوں سے تھا نہ باتیں دنیا داری کی تھی نہ مطلب کی دنیا ساری تھی نہ قصے لوگوں کی نفرت ...

مزید پڑھیے

میرا سنسار

چلو نہ آج تمہیں ایک کہانی سناتی ہوں کہانی کے ساتھ کچھ اور بھی بتاتی ہوں پیار کرنے سے زیادہ اسے نبھانا سکھاتی ہوں ساتھ ہی اپنی زندگی بتاتی ہوں ماں پاپا بہت خوش تھے میرے آنے پر نہ جانے کیوں پھر دادہ دادی کا چہرہ نہیں کھلا تھا جب میرے حق میں پاپا نے انہیں سمجھایا تبھی تو مجھے میرا ...

مزید پڑھیے

میں ہوں کیا ویشیا

جانتے ہو میں ہوں کیا میں ہوں ویشیا پتا ہے میں نے ہے کیا کیا کیا میں ناچتی ہوں کوٹھوں پر خوش ہوتی ہوں بس نوٹوں پر ہر رات ہر رات میں اپنا جسم بیچتی ہوں اتنا درد میں بس پیسوں کے لئے تو سہتی ہوں میں لوگوں کی راتیں رنگین کرتی ہوں ہر رات یہ اپرادھ سنگین کرتی ہوں میرا نام عام میں لینے ...

مزید پڑھیے

میرا راج کمار

بہت خوش تھی میں آج نہ ہوتی میں کاش کسی کی ضرور نظر لگی ہوگی کسی کو تو میں خوش بری لگی ہوں گی کسی نے تو میرے آنسو مانگے ہوں گے کچھ تو مجھ سے وہ چاہتے ہوں گے کہ نظر سے اندھی لڑکی کو خوشیاں نظر نہ آئیں کہ پھر سے کوئی طوفان اس پر غموں کا پہاڑ لائے اور دیکھو تو یہ نظر بھی کیا خوب کھیلی مجھ ...

مزید پڑھیے

چھوٹو

چائے کھانا برتن بھانڈے صاف کرنا جو ہیں گندے بس یہی میرا کام ہے اور جانتے ہو چھوٹو میرا نام ہے گھر کا اکیلا لڑکا ہوں باقی سب لڑکی ہیں چار بچوں سنگ بن ماں کے اس گھر میں کڑکی ہے ماں کے پیٹ میں ہی میرا سودا کیا تھا بابا نے میرے دم پر قرض چکتا کیا تھا بنایا مجھ کو بندھوا مزدور کام کرنے ...

مزید پڑھیے

آخری پہچان

اگر سنگ دل ہے زمانہ تو کیا ہے اگر ایسی دس شادیاں بھی مرے جسم کو قید کر لیں تو کیا ہے مرا ذہن جب بھی تمہارے فسانوں میں کھویا رہے گا کہ دل کی روش پر بھلا کس کا پہرہ رہا ہے اب اس بار جب دو سلگتے بدن آخری بار مل کر جدا ہو رہے ہیں یہ وعدہ کرو ان کی روحیں یوں ہی روز ملتی رہیں گی تمہارے ...

مزید پڑھیے

کینچلی بدلتی رات

پائیں باغ میں چاند اترا اور چندن مہکا رات کی سانول ڈالی سے اک نرم گلابی ناگن لپٹی چاروں اور میں ریشم نرم ہوا کا جنگل دود گلابی ہریل مخمل حوض کنارا سیمیں پانی جھل جھل کرتا جسم اس پر ایک سیاہ طلسم دور محل کی کھڑکی میں وہ دہکا اک انگارا صبح کے مقتل میں اک کوندا سجل لہو کا دھارا سیج ...

مزید پڑھیے

مسیحا فریسی زمانہ

مسیحا کہ جس کے دہن میں زباں ہی نہیں تھی بھلا کیسے اندھوں کو تبلیغ کرتا کہ آیت بصارت کی محتاج ہے فریسی کہ سامع تھے بینا نہیں تھے بھلا کس طرح سے اشارہ سمجھتے سماعت کا ہیکل آواز آواز بت کدہ ہے زمانہ کہ بینا بھی اور ناطق بھی ہے یہ سب کچھ کہاں مانتا ہے صلیبیں بنانے کا فن جانتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 815 سے 960