شاعری

فصل رائیگاں

ہر برس ان دنوں میں کہیں بھی رہوں سلسلے ابر کے سست رو تیز رو قافلے ابر کے یوں ہی آتے ہیں قلزم لٹاتے ہوئے یوں ہی جاتے ہیں یہ ان کا دستور ہے لیکن اب کے برس میں اکیلا سر دشت تشنہ کھڑا ان کو رہ رہ کے آواز دیتا رہا مجھ کو بھی ساتھ لیتے چلو قافلہ چھٹ گیا ہے مرا سلسلے ابر کے قافلے ابر ...

مزید پڑھیے

رسول کاذب

رسول مصلوب کے دو ہزار برسوں کے بعد یہ واقعہ ہوا یہ اس زمانے کی بات ہے جب رسول خورشید راس الافلاک پر چمکتا تھا وہ اک زمستاں کی نیم شب کا سماں تھا وہ نیم شب اک رقیق چادر نہ جانے کب سے زمیں کے مردار کالبد پر پڑی ہوئی ہے اور اس کے مسموم روزنوں سے گلے سڑے جسم کا تعفن ابل رہا ہے شجر حجر ...

مزید پڑھیے

آئینے سے

آئنے کچھ تو بتا ان کا تو ہم راز ہے تو تو نے وہ زلف وہ مکھڑا وہ دہن دیکھا ہے ان کے ہر حال کا بے ساختہ پن دیکھا ہے وہ نہ خود دیکھ سکیں جس کو نظر بھر کے کبھی تو نے جی بھر کے وہ ہر خط بدن دیکھا ہے ان کی تنہائی کا دل دار ہے دم ساز ہے تو آئنے کچھ تو بتا ان کا تو ہم راز ہے تو کیا وہ شاعر کی طرح ...

مزید پڑھیے

داد گر

میں جانتا ہوں کہ آنسو فنا کا لمحہ ہے اسے تری نگۂ جاوداں سے ربط نہیں میں جانتا ہوں کہ تو بھی شکار دوراں ہے متاع جاں کے سوا اس قمار خانے میں ہر ایک نقد نفس ہار کر پشیماں ہے مگر یہ ربط ہے کیسا یہ کیا تعلق ہے کہ جب بھی ہار کے اٹھا جہاں کی محفل سے امنگ ہنس کے کلیجے پہ چوٹ کھانے کی ہجوم ...

مزید پڑھیے

مکان خالی ہے

وہ جا چکا ہے ہمیں نے اسے نکالا ہے یہ کیا ہوا کہ اک اک چیز اٹھ گئی اس کی وہ ایک کونے میں رہتا تھا پر گیا جب سے ہر ایک کونے میں رہتا دکھائی دیتا ہے چمک رہی ہیں در و بام اس کی تحریریں ٹہل رہی ہیں صدائیں یہاں وہاں اس کی کہیں پہ نقش ہے اس کی نگاہ کا پرتو کھدی ہوئی ہے کہیں اس کے پاؤں کی ...

مزید پڑھیے

نالۂ بے آسماں

میں کیسے بتاؤں تم بتاؤ کس طرح یہ دن گزر رہے ہیں توہین حقارتیں تنفر کس کس سے نباہ کر رہا ہوں یوں فیض خرد سے بہرہ ور ہوں ہر ایک فریب وہم تج کے اس رات یہ سوچنے لگا ہوں میں معتقد پناہ ہوتا اتنا تو نہ رو سیاہ ہوتا شکر اور شکایتیں دعائیں میرے لیے کوئی آستانہ تاثیر دہ فغاں نہیں ہے جز ...

مزید پڑھیے

غریب شہر

عجیب ہیں مری باتیں عجیب ہے احساس تمہیں خدا نہ کرے یہ گماں گزرتے ہوں کہ بمبئی کا یہ گمبھیر سن رسیدہ شہر عمارتوں کا یہ پھیلا ہوا گھنا جنگل ملامتوں کا بلاؤں کا رقص خانہ ہے ہر ایک شخص ہے آسیب زر میں نزع بہ لب کہ سانس کھل نہیں سکتی ہے مر نہیں سکتا عجیب ہیں مری باتیں عجیب ہے ...

مزید پڑھیے

انہیں سب سے محبت ہے

وطن سے پیار ہے جن کو انہیں سب سے محبت ہے وہ کرتے ہیں محبت اپنے گھر کے رہنے والوں سے انہیں آرام دے کر خود مصیبت سہنے والوں سے بزرگوں سے عقیدت ہے انہیں بچوں سے الفت ہے غریبوں سے امیروں سے انہیں سب سے محبت ہے وطن سے پیار ہے جن کو انہیں سب سے محبت ہے محبت ہے پرندوں سے انہیں پیڑوں سے ہے ...

مزید پڑھیے

ہم لوگ

حیات نو کا فسانہ سنائیں گے ہم لوگ تلاش کر کے بہاروں کو لائیں گے ہم لوگ مسافران شب زندگی کی راہوں میں چراغ فکر و نظر کے جلائیں گے ہم لوگ ہمارے چاک گریباں کو دیکھنے والو وطن کو رشک گلستاں بنائیں گے ہم لوگ جہاں کو امن و محبت کا واسطہ دے کر مہہ‌ و نجوم کی محفل سجائیں گے ہم ...

مزید پڑھیے

وطن

مری جان ہو کہ مرا بدن ترا جلوہ گاہ ہے اے وطن تری خاک ان کا خمیر ہے مرے خون میں یہ جھلک تری مری نبض میں یہ چپک تری مری سانس تری صفیر ہے تری خاک جگ کا خلاصہ ہے تیرا حسن ایک تماشا ہے تری پھیلی گود کہ باغ ہے تری خاک پاک ذلیل ہے تو غلامیوں کی دلیل ہے تری پود شرم کا داغ ہے تجھے ماسوا سے گرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 750 سے 960