شاعری

ایک منظر، ایک عالم

دن ڈھلے مندروں کے کلس مسجدوں کے منارے گھروں کی چھتیں سونے چاندی کے پانی سے دھلنے لگے قلۂ کوہ سے چشم نظارہ لیکن بڑی دور تک پگھلے سونے کی چادر کے نیچے تڑپتا ہوا گہری ظلمت کا ایک بحر ذخار بھی دیکھتی رہ گئی کیسا منظر ہے یہ میں ابھی عمر کے ڈھلتے سورج کی دنیا نہیں پھر بھی میرے سنہرے دو ...

مزید پڑھیے

رفتگاں

تم یہاں سو جاؤ تم کو یہ جگہ بھی گر نہ ملتی تم گلہ ہم سے نہ کرتے ہم تمہارے ساتھ کچھ مٹی دیے جاتے ہیں اسی مٹی سے اب ہم رنگ ہو جاؤ یہ سناٹا تمہارے ساتھ ہے اب اس سے ہم آہنگ ہو جاؤ تمہارے چاند سورج مر چکے ہیں تمہاری روشنی ظلمت امید و ناامیدی ناؤ کاغذ کی گھروندے ریت کے بچپن جوانی، عمر کا ...

مزید پڑھیے

صدائے گنبد‌‌ بے روزن و در

کیسی آواز ہے کوئی کہتا ہے یہ دشت موجود‌‌ و مشہور و موہوم بس حد ادراک و احساس و آواز تک ہی نہیں چشم و دل کا یہ طائر جسے سیر پرواز سمجھے ہو مجبور ہے مشت پر سر بریدہ و پابند ہی اس کا سرمایہ ہے جس پہ مغرور ہے تا بہ حد خرد تا بہ حد جنوں جو بھی ہے ہیچ و بے مایہ ہے کیا غرض اس سے یہ کیا ہے ...

مزید پڑھیے

کاواک

سب آنکھیں ٹانگوں میں جڑی ہیں ریڑھ کی ہڈی کے منکوں میں کان لگے ہیں ناف کے اوپر روئیں روئیں میں ایک زباں ہے پتلونیں ساری آوازیں سن لیتی ہیں دو پتلونیں جھگڑ رہی ہیں ''اتنی قیمت کیوں لیتی ہو تم میں ایسی کیا خوبی ہے'' کیسے گاہک ہو تم آخر مول بدن کا دے سکتے ہو پتی ورتا کا مول تمہارے پاس ...

مزید پڑھیے

عہد نامۂ امروز

اور پھر یوں ہوا دن کا اگلا پہر سبز زیتون کی چھاؤں میں کاٹ کر ابن آدم اٹھا اپنے اک ہاتھ میں سانپ اور دوسرے ہاتھ میں اک ممولا لیے عرش کی سمت جاتے ہوئے مڑ کے وادی کے لوگوں سے اس نے کہا ''مجھ پہ ایمان لاؤ خدا مر چکا ہے یہ افلاک و آفاق کا بار اب میرے شانوں پہ ہے مہر و ماہ و کواکب سبھی میرے ...

مزید پڑھیے

بین العدمین

یہ تضاد جان و جسد جسے تو وصال کہہ لے فراق میں تو نشاط کہہ لے مراق میں تو رواق کہہ لے کہ بحر و بر میں مذاق کہہ لوں کہ خیر و شر تیرے میرے کہنے میں کچھ نہیں کہ ترا یقین مرا گماں کہ مرا گمان ترا یقیں ترے درک و ہوش و حواس کی مرے وجد و وہم و قیاس کی یہی ایک پل تو اساس ہے یہی ایک پل ترے پاس ...

مزید پڑھیے

کنفشن

بس اتنی روداد ہے میری عشق میں خانہ خراب ہوا میں ان کی آنکھوں کا تھا اشارہ وقف جام و شراب ہوا میں ظلمت شام الم کم کرنے اپنے ہی گھر میں آگ لگا دی میں نے کفر جنوں کے ہاتھوں مملکت کونین گنوا دی درس وفا کو شہرت دے دی محفل محفل غزل سنا کر زخموں کے گلدستے بیچے گلی گلی آواز لگا کر دیس ...

مزید پڑھیے

نئے لوگ

وہ اب کے آئے تو سچ ان کے ساتھ تھا لیکن عجیب طرح کا بے درد سچ تھا کہتے تھے تمہارا جھوٹ ہے ننگا یہی تو اک سچ ہے ہم ان سے کہہ نہ سکے ہمارے اذن پہ جو قصر و بام اگاتا تھا وہ جن ہمیں میں تھا وہ مر چکا ہے ہم لیکن جئیں تو کیسے جئیں اور مریں تو کیسے مریں کہ تن برہنہ پڑے ہیں نہ جانے کون سا ہے دشت ...

مزید پڑھیے

بنام ابن آدم

اب تک تم سے کہا گیا ہے انساں فانی موت اٹل ہے جیون جل ہے جس کی دھار کبھی نہ ٹوٹے جو آتا ہے مر جاتا ہے جو آئے گا مر جائے گا میں تم سے کہنے آیا ہوں انساں لا فانی ہے امر ہے موت تغیر کا اک پل ہے جیون جل ہے جس کا کوئی انت نہیں ہے رہ جائے تو یہ ساگر ہے اور مر جائے تو بادل ہے

مزید پڑھیے

الف لیلیٰ کی آخری صبح

فسانہ کیسے بڑھے نہ کوئی ساحر پژ مردہ سن نہ سوداگر نہ چین سے کوئی آئے نہ باختر سے کوئی بلخ کے شہر میں اور قاف کے پرستاں میں کوئی پری نہ پری زاد کون آئے گا فسانہ کیسے بڑھے ولایتوں کے فرستاد گان عشق تو کیا کنار بحر پہ قزاق بھی نہیں کوئی عزا کنندۂ شب ہے نہ ہے پیامئ صبح نہ دشت رہ زد گاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 749 سے 960