شاعری

نئی جستجو کا المیہ

تخیل کی اونچی اڑانوں سے آگے جہاں خواب ٹوٹے پڑے ہیں مری آرزو تھی وہاں جا کے دیکھوں رفیقوں رقیبوں کے چہرے مری ہر بغاوت پہ ہنستے رہے ہیں میں رفتار کے دائرے توڑ کر خدا سے پرے جا چکا ہوں فرشتوں کی پہلی بغاوت کا منظر مجھے یاد آیا کچھ ایسا لگا جیسے آدم کا سارا المیہ نئی جستجو کے سہارے ...

مزید پڑھیے

یہ رات

ستارے چپ ہیں کہ چلتی ہے تیز تیز ہوا یہ رات اپنی محبت کی رات بھی تو نہیں فضا میں یادوں کے جگنو چمک رہے ہیں ابھی حسین یادوں کو لیکن ثبات بھی تو نہیں غم حیات سے مانوس ہو چلا ہے دل نئے نئے ہی سہی سانحات بھی تو نہیں بدل کے رکھ دیں جو لیل و نہار دنیا کے ابھی حیات کے وہ حادثات بھی تو ...

مزید پڑھیے

گوڈو

ہوائیں چلتی ہیں تھمتی ہیں بہنے لگتی ہیں نئے لباس نئے رنگ روپ سج دھج سے پرانے زخم نئے دن کو یاد کرتے ہیں وہ دن جو آ کے نقابیں اتار ڈالے گا نظر کو دل سے ملائے گا دل کو باتوں سے ہر ایک لفظ میں معنی کی روشنی ہوگی مگر یہ خواب کی باتیں سراب کی یادیں ہر ایک بار پشیمان دل گرفتہ ہیں صبح کے ...

مزید پڑھیے

بہت ہے ایک نظر

قدم قدم پہ مجھے یہ خیال آتا ہے تری نظر کا سہارا ملے تو کیا کم ہے! خزاں میں رہ کے بہاروں کی آرزو نہ کروں جو زخم دل بھی مہک کر کھلے تو کیا کم ہے! ہزار چاک ہیں دامان زندگی کے مگر جو ایک چاک گریباں سلے تو کیا کم ہے! تمام تیرہ منازل سے میں گزر جاؤں جو ایک شمع محبت جلے تو کیا کم ہے! وہ گیت ...

مزید پڑھیے

میرا جنم دن

ذہن پہ اک گھٹا سی چھائی ہے لفظوں کی انجانی بوندیں برس رہی ہیں کوئی معنی شاید نکلیں؟ زخمی طائر میرے قلم سے لپٹ گیا اور اس کے پہلو میں اک ننھا سا تیر ہے تیر میں اک کاغذ بھی ہے اب کے میرے جنم دن پر کس نے مجھ کو یاد کیا ہے؟ میں نے کاغذ کھول کے دیکھا کچھ بھی نہ تھا صرف ٹوٹی ٹوٹی چند ...

مزید پڑھیے

ایک لمبی گونج

پورب دیس سے پھر اٹھی چیخ کی لمبی گونج قطرے بن کر برس پڑے ٹوٹے ٹوٹے بسمل لفظ کانوں میں نقارے باجے رگ رگ میں چنگاری دوڑی دبی دبی ساری آہیں ٹھنڈے سینوں میں ابھریں سوکھے ہونٹوں سے نکلیں بجھی بجھی سی آنکھوں میں دیکھ امنگوں کی بلی تڑپ تڑپ کے چمکے بجلی لہر لہر ٹکرائے طوفانوں کو ...

مزید پڑھیے

سزا

بھول جانا انہیں آسان ہے اے دل تو نے پہلے بھی کئی بار قسم کھائی ہے درد جب حد سے بڑھا ضبط کا یارا نہ رہا ان کی ایک ایک ادا یاد مجھے آئی ہے وہ تبسم میں نہاں طنز کے میٹھے نشتر وہ تکلم میں تغافل کو چھپانے کی ادا رک کے ہر لمحہ نئی طرح سے آغاز ستم جیسے کچھ کھو کے کسی چیز کو پانے کی ادا میری ...

مزید پڑھیے

جہنم

جب پاس نہیں کچھ بھی میرے خواہش مقصد آدرش کے ٹوٹے آئینے پھر گردش روز و شب کا مجھے احساس ہے کیوں کیا غم مجھ کو جب صبح کی کوئی فکر نہیں اور شام الم سے ڈر بھی نہیں وہ پاؤں میں اب چکر بھی نہیں سائے کی کوئی حاجت بھی نہیں اب موت کا کھٹکا کوئی خلش موہوم تمنا کا ارماں کچھ بھی تو نہیں پھر ...

مزید پڑھیے

الوداع

الوداع کیسے ماہ و سال گزرے اب نہ کچھ بھی یاد ہے صرف ہیں دھندلے نقوش یا بصارت کی کمی ہے کچھ نظر آتا نہیں بس کتابوں اور فلموں میں رہی اک بصیرت کی تلاش کچھ نہ کچھ روٹی کی بھی تھی جستجو جانے کس منزل کی تھی وہ آرزو بے سبب لوگوں سے یارانہ رہا اور پھر تنہا رہا برسوں تلک سب تھے قیدی اپنے ...

مزید پڑھیے

خوف

سائے سائے جالے جالے خاموشی خاموشی سی ٹوٹی ٹوٹی الجھی الجھی بے خوابی بے خوابی سی حرفوں سے بچتا بچتا معنی سے چھپتا چھپتا رنگوں میں ڈوبا ڈوبا سانسوں میں ابھرا ابھرا ذروں میں چمکا چمکا لہروں میں سہما سہما تیز ہوا کے جھونکوں میں رک رک کر اڑتا اڑتا نشتر زہر محبت درد خون کے اک اک قطرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 737 سے 960