نئی جستجو کا المیہ
تخیل کی اونچی اڑانوں سے آگے جہاں خواب ٹوٹے پڑے ہیں مری آرزو تھی وہاں جا کے دیکھوں رفیقوں رقیبوں کے چہرے مری ہر بغاوت پہ ہنستے رہے ہیں میں رفتار کے دائرے توڑ کر خدا سے پرے جا چکا ہوں فرشتوں کی پہلی بغاوت کا منظر مجھے یاد آیا کچھ ایسا لگا جیسے آدم کا سارا المیہ نئی جستجو کے سہارے ...