جنگل میں مور باصر سلطان کاظمی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں ایک دن اک مور سے کہنے لگی یہ مورنی خوش صدا ہے خوش ادا ہے خوش قدم خوش رنگ ہے اس بیاباں تک مگر افسوس تو محدود ہے جب کبھی میں دیکھتی ہوں محو تجھ کو رقص میں ایک خواہش بے طرح کرتی ہے مجھ کو بے قرار کاش تجھ کو دیکھ سکتی آنکھ ہر ذی روح کی