ترکیب صرفی
نوک مینار پہ اٹکی ہوئی قمری سے بھلا کیا پتہ خاک چلا ''آسماں حد نظر ہے کہ کمیں گاہ رقیب؟'' میں بتاتا ہوں مگر اپنے سخن بیچ میں ہے آسماں ایک کبوتر ہے کہ جس کے خوں کی پیاس میں سیکڑوں عقاب اڑا کرتے ہیں موت بدکار شرابی ہے پڑوسی میرا روز دروازے کے اس پار جو گر جاتا ہے زندگی ایک چھچھوندر ہے ...