شاعری

ترکیب صرفی

نوک مینار پہ اٹکی ہوئی قمری سے بھلا کیا پتہ خاک چلا ''آسماں حد نظر ہے کہ کمیں گاہ رقیب؟'' میں بتاتا ہوں مگر اپنے سخن بیچ میں ہے آسماں ایک کبوتر ہے کہ جس کے خوں کی پیاس میں سیکڑوں عقاب اڑا کرتے ہیں موت بدکار شرابی ہے پڑوسی میرا روز دروازے کے اس پار جو گر جاتا ہے زندگی ایک چھچھوندر ہے ...

مزید پڑھیے

نظم

ابھی کچھ دن مجھے اس شہر میں آوارہ رہنا ہے کہ اب تک دل کو اس بستی کی شامیں یاد آتی ہیں جہاں بیلے کی جھاڑی میں کسی ناگن کی بانبی تھی ابھی تک دل یہ کہتا ہے کہ اس بستی میں پھر جاؤ بھرو دامن کو پھولوں سے بدن ناگن سے ڈسواؤ جہاں اب ہوں وہاں بیلا ہے نہ ناگن کی بانبی ہے اسی کارن یہ ظالم دل ...

مزید پڑھیے

خاک ہند

اے خاک ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہے دریائے فیض قدرت تیرے لیے رواں ہے تیرے جبیں سے نور حسن ازل عیاں ہے اللہ رے زیب و زینت کیا اوج عز و شاں ہے ہر صبح ہے یہ خدمت خورشید پر ضیا کی کرنوں سے گوندھتا ہے چوٹی ہمالیا کی اس خاک دل نشیں سے چشمے ہوئے وہ جاری چین و عرب میں جن سے ہوتی تھی ...

مزید پڑھیے

درد دل

درد ہے دل کے لئے اور دل انساں کے لئے تازگی برگ و ثمر کی چمنستاں کے لئے ساز آہنگ جنوں تار رگ جاں کے لئے بے خودی شوق کی بے سر و ساماں کے لئے کیا کہوں کون ہوا سر میں بھری رہتی ہے بے پیے آٹھ پہر بے خبری رہتی ہے نہ ہوں شاعر نہ ولی ہوں نہ ہوں اعجاز بیاں بزم قدرت میں ہوں تصویر کی صورت ...

مزید پڑھیے

مرثیہ بال گنگا دھر تلک

موت نے رات کے پردے میں کیا کیسا وار روشنئ صبح وطن کی ہے کہ ماتم کا غبار معرکہ سرد ہے سویا ہے وطن کا سردار طنطنہ شیر کا باقی نہیں سونا ہے کچھار بیکسی چھاتی ہے تقدیر پھری جاتی ہے قوم کے ہاتھ سے تلوار گری جاتی ہے اٹھ گیا دولت ناموس وطن کا وارث قوم مرحوم کے اعزاز کہن کا وارث جاں ...

مزید پڑھیے

برسات

ہے دلاتی یاد مے نوشی فضا برسات کی دل بڑھا جاتی ہے آ آ کر گھٹا برسات کی بندھ گئی ہے رحمت حق سے ہوا برسات کی نام کھلنے کا نہیں لیتی گھٹا برسات کی اگ رہا ہے ہر طرف سبزہ در و دیوار پر انتہا گرمی کی ہے اور ابتدا برسات کی دیکھنا سوکھی ہوئی شاخوں میں بھی جان آ گئی حق میں پودوں کے مسیحا ...

مزید پڑھیے

وطن کا راگ

زمین ہند کی رتبہ میں عرش اعلیٰ ہے یہ ہوم رول کی امید کا اجالا ہے مسز بسنٹ نے اس آرزو کو پالا ہے فقیر قوم کے ہیں اور یہ راگ مالا ہے طلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے نہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے وطن پرست شہیدوں کی خاک لائیں گے ہم اپنی آنکھ کا سرمہ اسے بنائیں گے غریب ماں کے ...

مزید پڑھیے

حب قومی

حب قومی کا زباں پر ان دنوں افسانہ ہے بادۂ الفت سے پر دل کا مرے پیمانہ ہے جس جگہ دیکھو محبت کا وہاں افسانہ ہے عشق میں اپنے وطن کے ہر بشر دیوانہ ہے جب کہ یہ آغاز ہے انجام کا کیا پوچھنا بادۂ الفت کا یہ تو پہلا ہی پیمانہ ہے ہے جو روشن بزم میں قومی ترقی کا چراغ دل فدا ہر اک کا اس پر صورت ...

مزید پڑھیے

رامائن کا ایک سین

رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام راہ وفا کی منزل اول ہوئی تمام منظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظام دامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلام اظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھی دیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھی دل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہال خاموش ماں کے پاس گیا صورت خیال دیکھا تو ایک ...

مزید پڑھیے

ہمارا وطن دل سے پیارا وطن

یہ ہندوستاں ہے ہمارا وطن محبت کی آنکھوں کا تارا وطن ہمارا وطن دل سے پیارا وطن وہ اس کے درختوں کے تیاریاں وہ پھل پھول پودے وہ پھلواریاں ہمارا وطن دل سے پیارا وطن ہوا میں درختوں کا وہ جھومنا وہ پتوں کا پھولوں کا منہ چومنا ہمارا وطن دل سے پیارا وطن وہ ساون میں کالی گھٹا کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 719 سے 960