شہر اور میں
دل پہاڑوں پر چلا جائے کہ میدانوں میں ہو بھیڑ میں لوگوں کی یا خالی شبستانوں میں ہو شور پھر بھی تیز طوفانوں کی صورت ہر گھڑی توڑتا رہتا ہے خلوت خواہ سینوں کا جمود ریزہ ریزہ ہو گئے میری طرح کتنے وجود اب نہیں ممکن کسی صحرا میں مجنوں کا ورود ناتواں شخصیتیں برقی توانائی لیے رات کے ...