شاعری

شہر اور میں

دل پہاڑوں پر چلا جائے کہ میدانوں میں ہو بھیڑ میں لوگوں کی یا خالی شبستانوں میں ہو شور پھر بھی تیز طوفانوں کی صورت ہر گھڑی توڑتا رہتا ہے خلوت خواہ سینوں کا جمود ریزہ ریزہ ہو گئے میری طرح کتنے وجود اب نہیں ممکن کسی صحرا میں مجنوں کا ورود ناتواں شخصیتیں برقی توانائی لیے رات کے ...

مزید پڑھیے

وقت کی آنکھیں

لمحہ لمحہ خونیں خنجر صدیاں جیبھیں ہیں سانپوں کی گھاٹ پہ بیٹھی پیاس کی دیوی اور جادوگر وقت کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں مردہ گھر کے اک کمرے کے تیز دھویں میں ایک کنواری ننگی عورت چاٹ رہی ہے اپنے ہی بے رنگ لہو کو من کی آنکھیں کھول کے دیکھوں تو کیا دیکھوں سب تو سولی پر لٹکا ہے سب کچھ ...

مزید پڑھیے

نیند کے تعاقب میں

نیند کے تعاقب میں دور دور تک لا حاصل دیر سے بھٹکتا ہوں نیلی آنکھوں والی جنگلی بلی بار بار دم ہلاتی ہے میری چارپائی کے نیچے نیم روشن لیمپ کے ارد گرد کیڑوں پر جھپٹتی چھپکلی بے خبر ہے اپنے انت سے کتنا غیر متوقع ہوگا مل جانا اننت سے مٹی کے تیل کی گندھ قلانچیں بھر رہی ہے کمرے میں بے ...

مزید پڑھیے

سمندر کا سکوت

آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت ہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہوگا ہم کو ہر حال میں مجبور ہی رہنا ہوگا مجھ کو اس دور جراحت سے گزر جانے دے مجھ کو جینے کی تمنا نہیں مر جانے دے میری تقدیر میں غم ہیں تو کوئی بات نہیں مجھ کو ظلمت کی گپھاؤں میں اتر جانے دے تو نہ گھبرا کہ ترے حسن ...

مزید پڑھیے

تنہائی

تنہا بیٹھا ہوں کمرے میں ماضی کی تصویر لیے اب تو انجانے قدموں کی آہٹ سے جی ڈرتا ہے میری چاہت ان کے وعدے دفن ہوئے تحریروں میں جھوٹے ہیں سارے افسانے کون کسی پر مرتا ہے سینے کی ہر ایک جلن سے سمجھوتا کر کے میں نے ان ساری بیتی باتوں کو تاریکی میں چھوڑ دیا شیشہ کہہ لو پتھر کہہ لو کبھی ...

مزید پڑھیے

گمشدہ آدمی کا انتظار

لہو نوش لمحوں کے بیدار سائے اسے گھیر لیں گے سنانیں اٹھائے تمازت زدہ شب زن باکرہ سی سمٹ جائے گی اور بھی اپنے تن میں وہ سورج کا ساتھی اندھیروں کے بن میں اثاثہ لیے فکر کا اپنے فن میں شعاعوں کی سولی پہ زندہ ٹنگا ہے نہ اب شہر میں کوئی اتنا حزیں ہے غضب ناک تنہائیوں کو یقیں ہے کہ اس کے ...

مزید پڑھیے

اگر قریب سے دیکھو

اگر قریب سے دیکھو تو جان لو گی تم جہاں ہے سانپ کی صورت وجود سے لپٹا نہ کارواں نہ منازل نہ رہ گزر نہ سفر حیات جیسے کھڑا ہو کوئی شجر تنہا دلوں میں پیاس تڑپتی ہے رات دن اپنے بھری ہوئی ہے الم ناک یاس آنکھوں میں سیاہ بھوتوں کی مانند جاگ اٹھتے ہیں یہ بے سکوں سے مناظر اداس آنکھوں ...

مزید پڑھیے

صدمہ

بستی کی بیمار گلی میں شہنائی جب جب گونجی ہے ماں نے اکثر مجھ سے کہا ہے تم بھی اپنا بیاہ رچا لو میں گھر کے کونے میں بیٹھا شور سن رہا ہوں شہروں کا گھائل ندیوں کی لہروں کا پربت پر بیٹھا اک جوگی اپنی آنکھیں بند کیے مجھ پر ہنستا ہے اور وہ مستقبل کی عورت کبھی سراسر زہر اگلتی کبھی ...

مزید پڑھیے

روشنی روشنی کے خواب

دلوں میں درد دماغوں میں کشمکش کا دھواں جبیں پہ خاک نگاہوں میں غم کی تاریکی فریب کھائے ہیں ہم نے فریب کھاتے ہیں فریب دے نہ سکے ہم مگر زمانے کو ہمیں تو فکر یہی ہے کہ کون آئے گا ہمارے بعد لہو کے دیے جلانے کو وہ زندگی جو سبھی کو عزیز ہوتی ہے ہم اہل غم کے نہ یوں پاس آ سکے گی ...

مزید پڑھیے

آج پھر درد اٹھا

آج پھر درد اٹھا دل کے نہاں خانے میں آج پھر لوگ ستانے کو چلے آئیں گے آج پھر کرب کے شعلوں کو ہوا دوں گا میں اور کچھ لوگ بجھانے کو چلے آئیں گے آگ سے آگ بجھی ہے نہ بجھے گی لیکن درد کو آگ کے دریا میں اترنا ہوگا آگ اور درد کے معیار پرکھنے کے لئے ان اندھیروں کی فصیلوں سے گزرنا ہوگا میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 717 سے 960